لبنانی فوج کے زیرِ اہتمام ایک پریس ٹور کے دوران لی گئی تصویر میں 28 نومبر 2025 کو جنوبی لبنان میں اسرائیل کی سرحد کے قریب علما الشعب میں لبنانی اہلکار ایک فوجی گاڑی کے اوپر کھڑے ہیں۔ (اے ایف پی)
امریکی ثالثی منصوبے کے مطابق اسرائیلی فوج کے علاقے سے انخلاء کے بعد لبنانی فوجی دستوں نے منگل کے روز جنوبی لبنان کے قصبے زوطر الغربیہ میں تعیناتی شروع کر دی ہے، یہ بات لبنان کے ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے بتائی۔
مذکورہ منصوبے میں لبنانی فوج کے دستے جنوبی لبنان کے بعض حصوں میں ایران سے منسلک حزب اللہ سے ہتھیاروں کی ضبطی اور اسرائیلی فوجیوں کے مرحلہ وار انخلاء کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے پیر کو کہا کہ یہ منصوبہ شروع کر دیا گیا جسے پائلٹ زون پروگرام کا نام دیا گیا ہے۔
منگل کو علاقے کی حوالگی اس منصوبے کا پہلا امتحان ہے جس سے لبنان کو امید ہے کہ وہ اس ملک میں تقریباً 10 کلومیٹر (6.2 میل) علاقے تک کی ایک پٹی پر کنٹرول بحال کر سکے گا جس پر اسرائیلی فوجیوں کا قبضہ برقرار ہے۔
اس علاقے میں درجنوں دیہات مسمار اور عوامی انفراسٹرکچر بشمول ہسپتال، پاور سٹیشن اور واٹر پمپ تباہ کر دیے گئے ہیں۔ دسیوں ہزار لبنانی جو اس علاقے کو اپنا گھر کہتے ہیں، واپس جانے سے قاصر ہیں۔
لبنانی فوج نے کہا کہ اس کے یونٹس نے منگل کے روز نبطیہ کے علاقے زوطر الغربیہ میں تعیناتی شروع کر دی۔
فوج نے مکینوں سے دوبارہ تقاضہ کیا ہے کہ جب تک سکیورٹی کی صورتِ حال مستحکم نہ ہو جائے، وہ قصبے میں داخل نہ ہوں اور اپنی حفاظت کے لیے تعینات فوجی یونٹوں کی ہدایات پر عمل کریں۔
اسرائیلی فوج نے پیر کو تصدیق کی کہ وہ پائلٹ پروگرام کے تحت اپنی افواج دوبارہ تعینات کر رہی تھی۔
ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے کہا، "پائلٹ تین دیہات میں لبنانی مسلح افواج کی خودمختاری کے امتحان کا کام دیتا ہے کہ وہ علاقے میں ہتھیار رکھنے کی واحد سرکاری اتھارٹی ہو"۔
اسرائیلی حکام نے لبنانی حکومت کی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی صلاحیت پر شبہات کا اظہار کیا ہے لیکن اسرائیل گذشتہ ماہ طے پانے والے اس معاہدے کو لبنان کے ساتھ طویل مدتی امن قائم کرنے کا ایک اہم قدم سمجھتا ہے۔