نطنز جوہری تنصیب اور کوہِ کولنگ کی سیٹلائٹ تصویر - 30 جون 2026 (روئٹرز)

"کوہِ کولنگ" میں یورینیم کی افزودگی کے امکان پر اسرائیلی انتباہ... تہران کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بدھ کے روز جاری ہونے والے اسرائیلی تخمینوں کے مطابق ایران تہران کے جنوب میں نطنز کے قریب "کوہِ کولنگ" کے مقام پر زیرِ زمین ایک ایسی تنصیب قائم کرنے کے قابل ہو چکا ہے جس کا مقصد 90 فی صد تک عسکری سطح پر یورینیم کی افزودگی کا عمل انجام دینا ہے۔ دوسری جانب تہران نے اس کی تردید کی ہے اور یہ بات امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس جوہری تنصیب کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکی دینے کے بعد سامنے آئی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ریڈیو کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں تخمینوں سے معلوم ہوتا ہے کہ "کوہ کولنگ" جو کہ نطنز نیوکلیئر کمپلیکس کے قریب زمین کے اندر کافی گہرائی میں تعمیر کی گئی ایک محفوظ تنصیب ہے... کے اندر زیرِ زمین یورینیم کی افزودگی کے لیے تنصیب کی تعمیر کے تمام ضروری اجزاء موجود ہیں۔

ریڈیو نے یہ بھی بتایا کہ "کوہِ کولنگ" تنصیب میں افزودہ یورینیم کی موجودگی ایک واضح خطرے کی گھنٹی ہوگی جس پر امریکی کارروائی لازمی ہو جائے گی۔

جبکہ ملٹری ریڈیو نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی تخمینوں کے مطابق امریکہ اس تنصیب کو معطل کرنے اور اس کے آپریشنز کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن وہ اسے مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکتا۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر ایرانی پرامن جوہری تنصیبات کے خلاف مسلسل حملوں اور دھمکیوں کے ذریعے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

بقائی نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہا کہ ایرانی جوہری سرگرمیوں سے سیف گارڈز کے التزامات کے مطابق "بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو مکمل طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے" اور ان کے نزدیک امریکہ کا "کوہِ کولنگ" کے مقام پر توجہ مرکوز کرنا... جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہاں کوئی جوہری سرگرمی نہیں ہو رہی... جارحیت، تباہی اور تخریب کاری کے لیے گھڑا ہوا ایک بہانہ ہے۔

بقائی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (اے آئی ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا "ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کہاں ہیں، جو اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار بھی ہیں"۔

امریکہ کے صدر نے کل منگل کے روز "کوہِ کولنگ" تنصیب کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی کی تجدید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ "بہت جلد" اس سائٹ پر "زور دار ضرب" لگائے گا۔ اس سے قبل چند دن پہلے انہوں نے یہ دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ "ہم کوہِ کولنگ کو تباہ کر دیں گے... ایرانیوں سے کہو کہ وہ تیار رہیں"۔

تہران 2020 میں اس مقام کی تعمیر شروع ہونے کے وقت سے اس بات پر زور دیتا آ رہا ہے کہ یہ تنصیب جدید سینٹری فیوجز کو جوڑنے اور بنانے سے متعلق پُر امن مقاصد کے لیے مخصوص ہے۔ وہ عسکری مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کے لیے اس کے استعمال کی تردید کرتا ہے۔

The repeated U.S. attacks and threats against Iran’s peaceful nuclear facilities not only constitute a flagrant violation of the core principles of the UN Charter, international law, and the relevant resolutions of the IAEA Board of Governors, General Conference, and UN Security…

— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 22, 2026

امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے کل منگل کے روز بتایا تھا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی کا ماننا ہے کہ ایران نے 12 روزہ جنگ کے بعد گذشتہ سال کے خریف میں یورینیم کی افزودگی کے لیے ہزاروں سینٹری فیوجز "کوہِ کولنگ" کے اندر گہری سرنگوں میں منتقل کر دیے تھے۔ اور اسرائیل نے یہ انٹیلی جنس معلومات امریکہ کو فراہم کر دی تھیں۔

گذشتہ سال اسرائیل ایران جنگ کے دوران "کوہِ کولنگ" کو بم باری کی ترجیح نہیں سمجھا گیا تھا اور 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکہ کے ساتھ جنگ کے دورانیے میں بھی اسے نشانہ نہیں بنایا گیا۔ لیکن حکام اور ماہرین طویل عرصے سے اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ ایران ان سرنگوں کو جوہری سامان کو ذخیرہ کرنے یا بنانے اور انشقاقی مواد کی پیداوار کے لیے افزودگی کی ایک چھوٹی تنصیب قائم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ مقام جسے ایران میں "کوہِ کولنگ" کے نام سے جانا جاتا ہے... سالوں سے امریکہ اور اسرائیل کے زیرِ نگرانی ہے۔ اس مقام پر تہران کی سرگرمیوں کے بارے میں جو کچھ معلوم ہے — اگرچہ وہ کم ہے — اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کسی بھی فضائی حملے کے لیے چیلنجز پیدا کرے گی۔
یہ مقام ایران کی اہم جوہری تنصیبات میں سے ایک کے قریب واقع ہے۔ اسے ایرانی سینٹری فیوجز کو جوڑنے والی تنصیب کے زیرِ زمین متبادل کے طور پر تیار کیا گیا تھا جسے 2020 کے دھماکے میں شدید نقصان پہنچا تھا، اور وہ ممکنہ طور پر ایک تخریبی کارروائی تھی۔

ماہرین کے اندازے کے مطابق زمین کے نیچے پھیلا ہوا یہ کمپلیکس سخت چٹانوں کے نیچے 300 سے 450 فٹ کی گہرائی تک پہنچتا ہے اور اس میں جوہری سرگرمیوں سے جڑی متعدد باہم منسلک تنصیبات کی گنجائش موجود ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں