اس تصویر میں 8 جون 2026 کو جنوبی لبنانی شہر ٹائر میں رومن ہپوڈروم کے آثار قدیمہ کے مقام کے قریب اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد قدیم پتھر کے ستونوں کے اڈوں کا ملبہ دکھایا گیا ہے۔ (اے ایف پی)
جنگ زدہ ملک لبنان کا قدیمی شہر 'صور' خطرے سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست میں شامل
لبنان جو ایک عرصے سے کھلی اور لا محدود اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے اور جس کے جنوبے حصوں میں اسرائیلی نے اپنے مستقل ٹھکانے بنا لیے ہیں۔ اسی جنوبی لبنان سے تعلق رکھنے والے قدیمی شہر 'صور' کو عالمی ادارے 'یونیسکو' نے ایسے قدیمی انسانی ورثے میں شامل کیا ہے جو خطرے سے دوچار ہے۔
جنوبی لبنان اسرائیلی بمباری، ڈرون حملوں کا مسلسل نشانہ بننے کے علاوہ اس کا کافی حصہ اسرائیلی فوج کے زیر قبضہ جا چکا ہے۔ یونیسکو نے 'ایکس' پر لکھا ہے کہ اس قدیمی ورثے کے امین شہر کو اسرائیلی فوج نے بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔ جس سے یونیسکو کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ بمباری سے مزید تباہی کے اثرات بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
'صور' شہر کو یونیسکو نے 1984 میں عالمی ورثے میں شامل کیا تھا۔ جو اسرائیلی حملوں کی زد میں ہے۔ یاد رہے ماضی میں عالمی ورثے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف جنگیں ہو چکی ہیں۔ تاہم 'صور' کے تحفظ کے لیے عالمی ضمیر کو جگانے کی یونیسکیو نے پہلی کوشش کی ہے۔ یونیسکو کا کہنا ہے کہ 'صور' پر بمباری کے بعد لبنان نے 'یونیسکو' سے اپیل کی تھی کہ اس قدیمی انسانی ورثے کو خطرے والی فہرست میں شامل کیا جائے۔
یاد رہے 'صور' اسرائیلی سرحد سے صور 20 کلو میٹر دور جنوبی لبنان میں ہے ، جبکہ لبنانی دارالحکومت بیروت سے اس کا فاصلہ 83 کلو میٹر ہے۔ یہ ایک ساحلی شہر ہے۔ جسے اسرائیل نشانہ بنا چکا ہے۔ اسرائیل نے اپنے اگلے عزائم کے پیش نظر آبادی کو یہ علاقہ خالی کرنے کا انتباہ بھی جاری کیا تھا۔
اسرائیل نے لبنان میں 2 مارچ سے شروع ہونے والی اپنی جنگ کے دوران اب تک 3600 لبنانیوں کو قتل کیا ہے، جبکہ لاکھوں لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں۔
صور شہر کی بنیاد 4700 سال قبل رومیوں کے دور میں رکھی گئی تھی۔ اس میں عالمی ورثے سے متعلق دو اہم مقامات میں سے ایک کو اسرائیل نے ماہ جون میں براہ راست بمباری کر کے نقصان پہنچایا ہے۔
لبنانی وزیر ثقافت غسان سلامے نے اسی سال کے دوران کہا تھا کہ اسرائیلی بمباری ہیگ کنونشن کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ اس کنونشن کے مطابق جنگی فریق کو بھی پابند قرار دیا گیا ہے کہ وہ ثقافتی و تہذیبی تباہی کے مرتکب نہیں ہوں گے بلکہ ان کے تحفظ کے اقدامات کریں گے۔