معدل عبور السفن عبر مضيق هرمز يواصل الانخفاض

اقوام متحدہ کا آبنائے ہرمز میں پھنسے چھ ہزار بحری جہاز رانوں کو نکالنے کا مطالبہ

آبنائے ہرمز کے راستے جہاز رانی تقریبا مکمل طور پر رک چکی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے آج جمعے کے روز خلیج کے علاقے اور آبنائے ہرمز میں تقریباً 500 بحری جہازوں پر پھنسے ہوئے تقریباً 6 ہزار جہاز رانوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ علاقائی کشیدگی اور بحری محاصرے کے نتیجے میں جہاز رانی کے تقریباً مکمل تعطل اور سکیورٹی خطرات کے بڑھنے کے بیچ سامنے آیا ہے۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ روز جمعرات کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ جاری رہنے کے ساتھ، مستقبل میں آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے نظام کے حوالے سے اہم سوال کا جواب ابھی باقی ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ نے اس بات پر دوبارہ زور دیا ہے کہ محفوظ گزرگاہ پر فیس عائد کرنا بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔

اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ ہرمز کے ذریعے جہاز رانی تقریباً مکمل طور پر رکی ہوئی ہے، 6 ہزار بحری جہاز ران 500 جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں، محفوظ گزرگاہ پر فیس بین الاقوامی قانون میں غیر قانونی ہے اور توانائی کی بلند قیمتیں عالمی تجارت کی قدروں کو بڑھا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او) نے کہا ہے کہ 12-13 جولائی کو دشمنانہ کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد جہازوں پر حملے دوبارہ شروع ہونے کے نتیجے میں "بہت کم جہاز اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔

بین الاقوامی بحری تنظیم کے سکریٹری جنرل ارسینیو ڈومنگیز نے آبنائے کے پیچھے خلیج میں کھڑے تقریباً 500 بحری جہازوں پر اب بھی پھنسے ہوئے 6 ہزار بحری جہاز رانوکے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا "ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ یہ بے گناہ افراد ہیں جنہیں کام کرنے کے لیے تربیت دی گئی ہے، وہ لڑنے کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہیں اور بحری جہازوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار نہیں کیا گیا ہے۔"

بین الاقوامی بحری تنظیم کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ بحری جہاز ران دنیا بھر میں عالمی تجارت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کے بغیر "بحری جہاز رانی کام نہیں کرے گی"۔ انہوں نے مزید کہا "ان کے بغیر، بحری جہازوں کے ذریعے منتقل کیا جانے والا 90% سامان اپنی آخری منزلوں تک نہیں پہنچ سکے گا اور ہم سب متاثر ہوں گے۔"

ڈومنگیز نے اس بات سے بھی خبردار کیا کہ حالیہ برسوں میں بحری جہاز رانی کو "انتہائی حدود تک دھکیل دیا گیا ہے"۔ انہوں نے روس یوکرین جنگ کے باعث بحر اسود میں پیدا ہونے والے خلل اور بحیرہ احمر میں غیر یقینی صورتحال کی طرف اشارہ کیا۔ یمن میں حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب کے دو تیل بردار بحری جہازوں پر حملہ کیا اور آبنائے باب المندب کو بند کر دیا۔

اقوام متحدہ کے ادارے کی پہلی ترجیح تمام بحری جہاز رانوں کے انخلا کو یقینی بنانا ہے جو 28 فروری کو پہلی بار جنگ چھڑنے کے بعد سے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر بمباری شروع کی تھی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں