Iran's Foreign Minister Abbas Araghchi meets with Pakistan's Foreign Minister Ishaq Dar, as Pakistan prepares to host the U.S. and Iran for the second phase of peace talks, in a location given as Islamabad, Pakistan, released April 25, 2026. ESMAEIL BAQAEI VIA X/Handout via REUTERS THIS IMAGE HAS BEEN SUPPLIED BY A THIRD PARTY.
امریکہ سے لڑائی میں شدت، پاکستان کا ایران سے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی پر زور
شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکسان اور ایران کے وزراء خارجہ کی ملاقات
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان از سرِ نو تنازعے کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔ اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات میں انہوں نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کو دیرپا امن کے حصول کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔
کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی وزراء خارجہ کونسل کا اجلاس ہوا جہاں دونوں عہدیداروں کی ملاقات ہوئی۔
اس ماہ کے شروع میں امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی میں شدت آنے سے گذشتہ ماہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا عبوری معاہدہ دباؤ میں آ گیا۔
امریکی فوج نے راتوں رات ایرانی فوجی اہداف پر تازہ حملے کیے جبکہ یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازرانی پر حملہ کیا اور اضافی بحری راستے بند کر دینے کی دھمکیاں دیں جس سے علاقائی استحکام پر تشویش اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ عراقچی کے ساتھ ڈار کی ملاقات انہی حالات میں ہوئی ہے۔
ملاقات کے بعد پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا، "نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور مکالمے، تحمل، کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے تمام فریقوں کی طرف سے سفارتی مشغولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے جون 2026 کے اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت طے کردہ معاملات میں پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔"
دفترِ خارجہ نے کہا کہ عراقچی نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کی مسلسل سفارتی حمایت اور تعمیری کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے حالیہ ہفتوں میں ایرانی ماہی گیروں اور عملے کے ارکان کی بحفاظت واپسی میں سہولت کاری پر بھی اسلام آباد کا شکریہ ادا کیا بشمول وہ جو امریکہ کی جانب سے روکے گئے جہازوں پر موجود تھے۔
دونوں وزراء نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ کاری اور باقاعدہ مشاورت پر اتفاق کیا اور علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
قبل ازیں جمعہ کے روز ڈار نے ایس سی او کے وزراء خارجہ سے اپنے خطاب کا استعمال کرتے ہوئے وسیع تر عالمی برادری سے تقاضہ کیا کہ اسلام آباد ایم او یو کے ذریعے ہونے والی سفارتی کوششوں کا فائدہ اٹھائے اور خبردار کیا کہ علاقائی استحکام کے مخالفین امن عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کریں گے۔
ڈار نے کہا، "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور فریقین کے درمیان جاری تکنیکی مذاکرات نے اس تنازعے کے مستقل، پرامن اور پائیدار تصفیے کے لیے جو موقع فراہم کیا ہے، عالمی برادری کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔"
انہوں نے مزید کہا، "ساتھ ہی آپ کو ان لوگوں کے خلاف بھی محتاط رہنا چاہیے جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ایسے عناصر امن عمل کو پٹڑی سے اتارنے اور پہلے سے حاصل کردہ پیش رفت کو پلٹنے کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔"
ڈار نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے نیز یہ کہ فریقین کے درمیان باہمی احترام ہی تنازعات کے حل اور پائیدار امن و سلامتی کے حصول کا واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا، "صرف مل کر کام کرنے سے ہی ہم خطے اور اس سے باہر طویل مدتی امن، استحکام اور خوشحالی کا مشترکہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔"