هجمات الحوثيين تهدد باندلاع مواجهة بين دعم الازدهار وإيران في باب المندب

ایرانی معاونت سے باب المندب کی جانب حوثیوں کی سمندری در اندازی کی کوشش ناکام

حوثیوں کو ایرانی پاسداران انقلاب کے ماہرین کی براہ راست معاونت حاصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انٹیلی جنس رپورٹوں نے یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے ایک وسیع فوجی کشیدگی کا انکشاف کیا ہے جو ایرانی پاسداران انقلاب کے ماہرین کی براہ راست معاونت سے کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد بحیرہ احمر پر اثر و رسوخ بڑھانا اور آبنائے باب المندب کو دھمکی کا نشانہ بنانا ہے۔ یہ بات ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمنی افواج نے بین الاقوامی گزرگاہ کی طرف حوثیوں کی در اندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔

عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ جزیرہ میون اور اس کے ارد گرد کی چوکیوں پر تعینات یمنی افواج نے ایرانی ماہرین کی نگرانی میں حوثی عناصر کی جانب سے کی جانے والی در اندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا اور آبنائے باب المندب پر واقع سامنے کی چوکیوں پر شدید جھڑپوں کے بعد انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ یہ بات "نیوز یمن" ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔

ذرائع کے مطابق یمنی فوج نے نئے حملوں کے پیش نظر علاقے میں اضافی کمک بھیجی ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حوثی ملیشیا ایسے اہم مقامات تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے جو اسے باب المندب پر براہ راست نظر رکھنے کی اجازت دیں تاکہ فضائی و بحری نشانہ بنانے کے مرحلے سے نکل کر براہ راست میدانی اثر و رسوخ قائم کیا جا سکے۔ اس سے اسے بین الاقوامی جہاز رانی کے خطوط کو دھمکی دینے کی زیادہ صلاحیت ملے۔ آبنائے باب المندب سے عالمی تجارتی نقل و حرکت کا تقریباً 12 فی صد گزرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق در اندازی کی یہ کوشش حوثیوں کی جانب سے جزیرہ كمران سے افواج اور کمک کی جمع آوری مکمل کرنے کے بعد سامنے آئی، جسے ملیشیا نے ایک پیشگی فوجی اڈے میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد اچانک حملہ کرنا ہے جو اسے آبنائے باب المندب پر واقع علاقوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی اجازت دے اور میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی پالیسی سے نکل کر دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک پر براہ راست میدانی اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کی طرف منتقل ہونا ہے۔

انٹیلی جنس تجزیے اور میدانی معلومات کا خصوصی پلیٹ فارم "شيبا انٹیلی جنس" نے حوثیوں کی جانب سے ایک نئے فوجی منصوبے کے پہلے عملیاتی مرحلے پر عمل درآمد شروع کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ اس میں سعودی عرب کی سرزمين کی طرف راکٹ فورس کی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ بحری کشیدگی شامل ہے۔

پلیٹ فارم نے با خبر ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ملیشیا نے تین بارود سے بھری اور بغیر کپتان کے چلنے والی کشتیاں، اس کے علاوہ دھماکہ خیز مواد سے لدی زیر آب کام کرنے والی چھوٹے سائز کی بغیر کپتان کے بحری گاڑیاں، بحیرہ احمر پر واقع ساحلی علاقے میں منتقل کر دی ہیں۔ اسے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی اور فوجی بحری جہازوں کے خلاف اچانک حملے کرنے کی تیاری قرار دیا گیا۔

مزید بتایا گیا کہ حوثی قیادت نے الحديدہ صوبے میں بحری افواج، کوسٹ گارڈ اور پانچویں ملٹری ریجن کی قيادات کو لوجسٹک سپورٹ فراہم کرنے اور لانچنگ پیڈز تیار کرنے کا پابند کیا ہے۔ یہ بین الاقوامی جہاز رانی کی نقل و حرکت کو متاثر کرنے اور بحیرہ احمر میں خطرے کی سطح کو بڑھانے کے مقصد سے وسیع تر بحری کارروائیاں کرنے کی تیاریوں کا حصہ ہے۔

یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب ایران کی جانب سے حوثی ملیشیا کو بحیرہ احمر میں ایک نیا بحری محاذ کھولنے کے لیے استعمال کرنے کی خبرداریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے عالمی تجارت کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے اور یمنی بحران مزید پیچیدہ ہو رہا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں