صورة بالقمر الصناعي لقاعدة موفق سلطي الجوية، في الأزرق، الأردن- أرشيفية - رويترز
ایران سے آنے والے سات میزائلوں اور چھ ڈرونز کو روک لیا : اردنی فوج
حملے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا
اردن کی مسلح افواج کی جنرل کمانڈ کے ایک ذمہ دار عسکری ذریعے نے اعلان کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام اور روئل ایئر فورس کے طیاروں نے جمعے کے روز ایران کی طرف سے آنے والے 7 میزائل اور 6 ڈرون گرائے ہیں۔ ان کے ذریعے ملک کی سرزمین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ہتھیاروں کو روکے جانے اور گرائے جانے کے اس عمل کے نتیجے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ روئل انجینئرنگ کور کی ٹیموں نے ملبہ گرنے کے مقامات پر پہنچ کر مقررہ فنی و سکیورٹی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ذرائع نے باور کرایا کہ مسلح افواج مملکت کی فضائی حدود کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں اور مملکت کی سکیورٹی اور اس کے شہریوں کی سلامتی کو نشانہ بنانے والے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ ترین عملی تیاریوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے خبر دی ہے کہ پاسداران انقلاب کی فورسز نے کہا ہے کہ انہوں نے اردن میں قائم امریکی بیس 'الازرق' پر حملہ کیا ہے۔
اس سے قبل اردن کی فوج نے جمعرات کے روز ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اس نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی طرف سے مملکت کی سرزمین پر داغے گئے چار میزائلوں اور چھ ڈرونز کو ناکام بنا دیا جبکہ کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ تہران کے مطابق یہ امریکی حملوں کا جواب تھا۔
بیان میں ایک عسکری ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا کہ "فضائی دفاع نے جمعرات کی صبح تین میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا، جبکہ چوتھا میزائل ایک غیر آباد دور دراز علاقے میں گرا"۔
اسی طرح بدھ کے روز چھ ڈرونز کو بھی روک کر تباہ کر دیا گیا"، جبکہ بیان کے مطابق "کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا"۔
جنرل کمانڈ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اشیاء یا ملبہ گرنے کے مقامات کے قریب نہ جائیں، ان کی فوری اطلاع دیں، معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں اور افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں کو نہ پھیلائیں۔