دونالد ترامب خلال مؤتمر صحافي في ختام قمة حلف شمال الأطلسي بأنقرة (رويترز)

ٹرمپ نے روس اور چین کو ایران کو ہتھیار بیچنے سے خبردار کردیا

تہران کو اسلحہ فراہم کرنا بیجنگ یا ماسکو کے مفاد میں نہیں ہے: امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور روس دونوں کو ایران کو ہتھیار بیچنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتین کی اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ انہوں نے ابھی تک ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے نیٹ ورک "ٹروتھ سوشل" پر کہا کہ یہاں سے وہ دو اہم ممالک جن کے نام ایران کے بارے میں بات چیت کے تناظر میں بڑی حد تک گردش کر رہے ہیں، میرے خیال میں اس میں ملوث نہیں ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے بہت برا ہوگا اور یقیناً ان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ٹرمپ کا یہ تبصرہ ان رپورٹس کی روشنی میں سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ماسکو اور بیجنگ امریکی اڈوں پر حملوں کے ایک سلسلے کے بعد ایران کو دقیق معلومات فراہم کر رہے ہیں یا نہیں۔

امریکی صدر نے وضاحت کی کہ ان کے چینی ہم منصب نے مئی میں بیجنگ میں ان سے ملاقات کے دوران انہیں بتایا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں ایران کو مسلح نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں ان کی بات پر یقین کرتا ہوں۔
ٹرمپ نے کہا کہ پوتین نے یوکرین میں جنگ کے باوجود ایسا ہی وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ میں یوکرین کو ہتھیار نہیں بیچتا، بلکہ نیٹو کے ممالک کو بیچتا ہوں۔ وہ پوری قیمت ادا کرتے ہیں۔ رہی بات ان ہتھیاروں کی تقسیم کی تو مجھے اس کا علم نہیں ہے۔

واضح رہے امریکہ اور ایران کے درمیان تصادم تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی اور سیاسی کشیدگی کے ساتھ جاری ہے۔ جمعہ کے روز ایرانی سرزمین کے اندر امریکی حملے اپنے تیرویں دن میں داخل ہو گئے ہیں۔ اہداف کا دائرہ کار وسیع ہو کر ملک کے جنوب سے کیسپین کے ساحلوں تک فوجی اور بحری سائٹس تک پھیل گیا ہے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ نے ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ ان تنصیبات میں کمانڈ سنٹرز، ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات، مواصلاتی نیٹ ورکس اور بحری صلاحیتیں شامل ہیں۔ اس قدم کے بارے میں سینٹ کام نے کہا کہ اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ایران کے خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری طرف تہران نے خطے میں امریکی سائٹس کو نشانہ بنانے کے بارے میں بات کرنے کے بعد کسی بھی نئی کشیدگی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی مسلسل تیاری کی تصدیق کی۔ تہران نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے اپنے حملے جاری رکھے تو تصادم کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام نے متعدد صوبوں کو نشانہ بنانے والے حالیہ فضائی حملوں کے نتیجے میں چار افراد کے جاں بحق ہونے اور دیگر کے زخمی ہونے کا بھی بتایا۔ بندر عباس، قشم جزیرے اور بحر کیسپین کے ساحل پر واقع مقامات سمیت سٹرٹیجک علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں