زيادة الصادرات السعودية غير النفطية 15.1% في فبراير 2026
مئی میں سعودی عرب کی اشیائے برآمدات میں 26اعشاریہ1 فیصد اضافہ
تیل برآمدات ترقی کا اہم محرک
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 میں سعودی عرب کی مجموعی اشیائے برآمدات میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 3اعشاریہ9 فیصد اضافہ ہوا۔
برآمدات کی مالیت تقریباً 93اعشاریہ78 ارب ریال تک پہنچ گئی، جبکہ مئی 2025 میں یہ حجم تقریباً 90اعشاریہ29 ارب ریال تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 میں تیل کی برآمدات میں 19اعشاریہ5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ تقریباً 70اعشاریہ89 ارب ریال تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال مئی میں یہ تقریباً 59اعشاریہ33 ارب ریال تھیں۔
دوسری جانب غیر تیل برآمدات (بشمول دوبارہ برآمدات) میں سالانہ بنیاد پر 26اعشاریہ1 فیصد کمی ہوئی۔ غیر تیل قومی برآمدات (دوبارہ برآمدات کے بغیر) بھی 27اعشاریہ3 فیصد کم ہو کر 13اعشاریہ03 ارب ریال رہ گئیں۔جبکہ دوبارہ برآمد کی جانے والی اشیا کی مالیت 24اعشاریہ4 فیصد کم ہو کر 9اعشاریہ85 ارب ریال ہو گئی۔
اس کمی کی بڑی وجہ مشینری، آلات، برقی سامان اور ان کے پرزوں کی برآمدات میں 32اعشاریہ4 فیصد کمی رہی، جو دوبارہ برآمدات کے کل حجم کا 46اعشاریہ2 فیصد بنتی ہیں۔
مجموعی برآمدات میں تیل کی برآمدات کا حصہ بھی بڑھ گیا۔ مئی 2025 میں یہ شرح 65اعشاریہ7 فیصد تھی، جو مئی 2026 میں بڑھ کر 75اعشاریہ6 فیصد ہو گئی۔
درآمدات میں کمی
رپورٹ کے مطابق مئی 2026 میں سعودی عرب کی درآمدات میں 19اعشاریہ5 فیصد کمی ہوئی اور یہ تقریباً 67اعشاریہ7 ارب ریال رہ گئیں، جبکہ مئی 2025 میں درآمدات کا حجم 84اعشاریہ22 ارب ریال تھا۔اس کے نتیجے میں سعودی عرب کے تجارتی توازن کے اضافی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا۔
مئی 2026 میں تجارتی سرپلس 328اعشاریہ8 فیصد بڑھ کر 26اعشاریہ02 ارب ریال ہو گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ 6اعشاریہ07 ارب ریال تھا۔
چین سعودی عرب کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار
چین مئی 2026 میں سعودی عرب کی برآمدات کے لیے سب سے بڑی منڈی رہا، جہاں سعودی برآمدات کا 12اعشاریہ3 فیصد حصہ گیا۔
اس کے بعد جنوبی کوریا 9اعشاریہ6 فیصد اور متحدہ عرب امارات 7اعشاریہ5 فیصد کے ساتھ نمایاں رہے۔
سعودی عرب کی اہم برآمدی منڈیوں میں بھارت، جاپان، مصر، مالٹا، سنگاپور، پولینڈ اور تائیوان بھی شامل رہے۔ ان دس بڑے ممالک کو سعودی عرب کی مجموعی برآمدات کا 63اعشاریہ3 فیصد حصہ گیا۔درآمدات کے معاملے میں بھی چین پہلے نمبر پر رہا، جہاں سے سعودی عرب کی کل درآمدات کا 22 فیصد آیا۔ اس کے بعد امریکہ 10اعشاریہ7 فیصد اور مصر 8اعشاریہ4 فیصد کے ساتھ نمایاں رہے۔