اسرائیلی میڈیا وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو
غزہ، لبنان اور شام سے انخلا کے لیے کسی بھی امریکی دباؤ کو مسترد کروں گا : نیتن یاہو
اسرائیلی میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا ہے کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سکیورٹی کابینہ (کابینٹ) کے ارکان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ غزہ، جنوبی لبنان اور شامی علاقوں سے بڑے پیمانے پر انخلا کے کسی بھی امریکی مطالبے کو مسترد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔؎
اسرائیلی اخبار ''اسرائیل ہیوم'' کے مطابق، کابینہ کے اجلاس میں نیتن یاہو نے کہا کہ امریکا نے مطالبات کی ایک فہرست پیش کی ہے، جس میں غزہ، شام اور لبنان کے محاذوں سے وسیع پیمانے پر انخلا شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا: میں اس کی مخالفت کروں گا اور انہیں صاف جواب دوں گا: نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب چند روز بعد نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان متوقع ملاقات ہونے والی ہے، جبکہ خطے کی سکیورٹی صورتحال پر دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ایرانی جوہری پروگرام پر نیتن یاہو کا مؤقف
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر مسلسل نگرانی برقرار رکھنے کے لیے زور دیں گے، اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی نئی انٹیلی جنس معلومات موجود نہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔
فوکس نیوز کے پروگرام ''سنڈے مارننگ فیوچرز'' میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس ادارے قریبی تعاون سے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایران سے نمٹنے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے مؤقف پر تبادلہ خیال کے منتظر ہیں، تاہم اس معاملے میں حتمی فیصلہ امریکی صدر ہی کریں گے۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تہران اپنی صلاحیتیں دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو مؤخر ضرور کیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسے دوبارہ بحال کرنے کی کوشش نہیں کریں گے، اسی لیے ضروری ہے کہ مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے تاکہ ایسا نہ ہو سکے۔
ایران کو نیتن یاہو کی سخت وارننگ
اسی انٹرویو میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو براہِ راست خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے براہِ راست یا اپنے علاقائی اتحادیوں کے ذریعے اسرائیل پر کوئی حملہ کیا تو اس کا ''سخت جواب'' دیا جائے گا۔
فوکس نیوز سے گفتگو میں نیتن یاہو نے کہا:ایران کی جانب سے براہِ راست یا بالواسطہ کسی بھی قسم کی فائرنگ کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر تہران نے ایسا قدم اٹھایا تو یہ ''انتہائی سنگین غلطی'' ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ یہ محاذ آرائی یا تو ایرانی حکومت کے خاتمے پر ختم ہوگی، یا پھر ایران کو خطے میں اپنے تمام اقدامات کی قیمت چکانا پڑے گی۔
نیتن یاہو نے الزام عائد کیا کہ ایران خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے اور اپنے ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ایران کے ممکنہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:دیکھیں کہ ایران جوہری ہتھیار کے بغیر کیا کر رہا ہے، پھر تصور کریں کہ اگر اس کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو وہ کیا کرتا۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ
نیتن یاہو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایک روز قبل ایرانی فوج نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا تو جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرم نیا نے کہا کہ اگر امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر دوبارہ کارروائی کی تو تصادم کا جغرافیائی دائرہ مزید پھیل جائے گا۔
ان کے مطابق فوجی کارروائیوں کا دائرہ پہلے ہی بحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع آبنائے باب المندب تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہر ممکن آپشن اور ہر ممکنہ صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں ،جب منگل کے روز اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے، جہاں ایران، غزہ، شام اور لبنان کے معاملات دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے اہم موضوعات ہوں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں فوجی اور سیاسی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایک جانب امریکا ایران سے متعلق اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث ممالک کے ذریعے بالواسطہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ اسی دوران امریکی انتظامیہ کے اندر خطے میں اپنی فوجی موجودگی کے مستقبل پر بھی غور و خوض کیا جا رہا ہے۔