قاہرہ میں حماس، اسلامی جہاد اور پاپولر فرنٹ کا اجلاس

حماس وفد کے قاہرہ مذاکرات، اسلحہ اور غزہ کے ملازمین پر اہم انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حماس کا مذاکراتی وفد آج منگل کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ رہا ہے، جہاں جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت کے لیے مشاورت کی جائے گی۔

اس دوران مذاکرات کے دو انتہائی حساس اور پیچیدہ موضوعات، یعنی فلسطینی دھڑوں کے اسلحے کا مستقبل اور غزہ میں حماس کے دور کے سرکاری ملازمین کے معاملات پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

وفد کی مصری حکام، مصر، قطر اور ترکی کے ثالثوں کے علاوہ مختلف فلسطینی دھڑوں اور سیاسی قوتوں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد جنگ بندی کو برقرار رکھنا، شرم الشیخ میں طے پانے والے تمام معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا، غزہ کی انسانی صورتحال بہتر بنانا اور منصوبے کے دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔

العربیہ اور الحدث کو ذرائع نے بتایا کہ غزہ میں حماس کی قیادت نے بیرون ملک موجود تنظیمی قیادت کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ثالثوں کی جانب سے پیش کیے گئے تازہ مسودے سے اتفاق کرتی ہے، جس میں غزہ کی انتظامی کمیٹی کے ملازمین اور فلسطینی دھڑوں کے اسلحے کے مستقبل سے متعلق شقیں شامل ہیں۔

یہ دونوں موضوعات برسوں سے مذاکرات کے سب سے پیچیدہ اور حساس نکات سمجھے جاتے رہے ہیں، کیونکہ ان کا تعلق سیاسی، سیکیورٹی اور مالی معاملات سے ہے۔

ملازمین کے معاملے میں ان افراد کی ملازمتوں کو باقاعدہ بنانے کی تجویز شامل ہے ،جو 2007 میں حماس کے غزہ پر کنٹرول کے بعد سرکاری اداروں میں خدمات انجام دیتے رہے۔

اس میں سول اور عسکری ملازمین کی تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی، انہیں مستقبل کی کسی فلسطینی انتظامیہ میں ضم کرنے کے طریقہ کار اور اس کے مالی اخراجات برداشت کرنے والے فریق کا تعین بھی شامل ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

دوسری جانب آٹھویں شق غزہ میں فلسطینی دھڑوں کے اسلحے کے مستقبل سے متعلق ہے، جس میں عبوری مرحلے کے دوران مزاحمتی ہتھیاروں کی حیثیت، نئی سیکیورٹی فورسز کے اختیارات اور سول انتظامیہ یا کمیٹی اور مسلح ونگز کے درمیان تعلقات کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔

غزہ کی پٹی کا بڑا حصہ دو سال تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد اب بھی تباہی کا شکار ہے۔ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

اکتوبر میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے ایک امن منصوبہ پیش کیا، جس میں انسانی امداد میں اضافہ، ایک فلسطینی سول انتظامیہ کا قیام، حماس کی جانب سے اسلحہ ترک کرنا اور اسرائیلی افواج کا انخلا شامل تھا۔

تاہم اس منصوبے پر عمل درآمد تعطل کا شکار ہو گیا، جبکہ مجوزہ انتظامیہ، جسے ''غزہ قومی انتظامی کمیٹی'' کہا جاتا ہے، تاحال غزہ میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال نہیں سکی۔ثالثی کرنے والے ممالک جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور معاہدے کے اگلے مرحلے کی جانب پیش رفت کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اس مرحلے میں انسانی اور سیکیورٹی صورتحال کے علاوہ غزہ کی آئندہ انتظامیہ سے متعلق وسیع تر انتظامات شامل ہیں، جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی کو ناکام ہونے سے بچانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

اس وقت اسرائیل عملاً غزہ کی تقریباً 64 فیصد اراضی پر کنٹرول رکھتا ہے، جبکہ تقریباً 20 لاکھ آبادی کا بیشتر حصہ حماس کے زیرِ انتظام ایک تنگ ساحلی پٹی میں رہنے پر مجبور ہے، جہاں عارضی خیموں، تباہ شدہ عمارتوں اور انتہائی دشوار انسانی حالات کا سامنا ہے۔

حماس نے اب تک اپنے اسلحے سے دستبردار ہونے پر رضامندی ظاہر نہیں کی، جبکہ اسرائیل نے غزہ کی تقریباً 70 فیصد اراضی تک اپنا کنٹرول بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فضائی حملے بھی جاری ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے میں ''پیس کونسل'' (Peace Council) کے نام سے ایک بین الاقوامی ادارہ قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جو مجوزہ امن تصفیے پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔

اس ادارے کی ذمہ داریوں میں غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی استحکام فورس کی نگرانی اور عبوری مرحلے سے متعلق دیگر انتظامی امور کی دیکھ بھال بھی شامل ہوگی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں