غزہ کی پٹی کا ایک منظر
العربیہ اور الحدث کو حاصل خصوصی معلومات کے مطابق غزہ میں موجود حماس کی قیادت نے اپنے تمام دھڑوں کی نمائندگی کے ساتھ، بیرونِ ملک موجود حماس قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ''مجلسِ امن'' کے منصوبے میں شامل پانچویں اور آٹھویں شق کے بارے میں ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ آخری مسودے سے اتفاق کرتی ہے۔
یہ پیش رفت جنگ بندی کے انتظامات اور غزہ کے مستقبل میں انتظامی ڈھانچے سے متعلق جاری مذاکرات میں پیش رفت کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق غزہ میں حماس کی قیادت کی جانب سے جن دو نکات پر اتفاق کیا گیا ہے، ان کا تعلق انتظامیہ کے معاملے اور فلسطینی فصائل کے ہتھیاروں سے ہے۔
یہ دونوں معاملات مذاکرات کے سب سے زیادہ حساس اور پیچیدہ موضوعات میں شامل رہے ہیں، کیونکہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران حماس اور اسرائیل کے درمیان اختلاف کی ایک بڑی وجہ یہی نکات رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان واشنگٹن میں متوقع ملاقات قریب ہے، جبکہ ثالث ممالک غزہ کے لیے امن منصوبے کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
سالوں سے زیرِ التوا معاملات
مذاکراتی حلقوں میں گردش کرنے والی مجلسِ امن کے نمائندے نکولائے ملادینوف سے منسوب ایک دستاویز کے مطابق، پانچویں شق کا تعلق انتظامی امور اور 2007 سے غزہ کا انتظام سنبھالنے والی حکومت سے وابستہ مالی ذمہ داریوں سے ہے۔
اس شق میں سول اور فوجی ملازمین کی صورتحال، ان کی تنخواہوں اور واجبات، اس کے علاوہ جمع شدہ قرضوں اور مالی ذمہ داریوں سے نمٹنے کے طریقۂ کار کو شامل کیا گیا ہے۔
اس میں یہ بھی زیرِ بحث ہے کہ مستقبل کی کسی فلسطینی انتظامیہ میں موجودہ ملازمین کو کس طرح شامل کیا جائے گا اور ان مالی ذمہ داریوں کا بوجھ کون اٹھائے گا۔
مجوزہ مسودے کے مطابق ان معاملات کا حتمی فیصلہ بعد کے مرحلے تک مؤخر کر دیا جائے گا، تاکہ یہ موجودہ معاہدے میں داخل ہونے کے لیے پیشگی شرط نہ بنیں۔جبکہ آٹھویں شق عبوری مرحلے کے دوران فلسطینی فصائل کے ہتھیاروں کے مستقبل سے متعلق ہے۔
اس میں مزاحمتی گروہوں کے اسلحے کی حیثیت، نئی سیکیورٹی فورسز کے اختیارات اور مستقبل کی سول انتظامیہ اور عسکری دھڑوں کے درمیان تعلقات کا تعین شامل ہے۔
یہ معاملہ کسی بھی معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں سے ایک رہا ہے، کیونکہ حماس ماضی میں ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتی رہی ہے جسے اس کے ہتھیار ختم کرنے کے طور پر سمجھا جا سکے۔ تاہم ثالث ممالک نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے منصوبے پر عمل درآمد کے بعد کے مراحل میں مختلف تجاویز پیش کی ہیں۔
غزہ کے انتظام کے لیے نئی ترتیب
اتگردش کرنے والی معلومات کے مطابق اس منصوبے میں حماس کی حکومتی امور کی کمیٹی کو ختم کرنے اور اس کی جگہ ایک عبوری انتظامی ڈھانچے یا ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے، جو آئندہ مرحلے کے دوران غزہ کے انتظامی امور سنبھالے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام ملازمین اور ہتھیاروں سے متعلق دونوں معاملات کے حتمی حل کا مطلب نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد دوسرے مرحلے کی انتظامی ترتیبات شروع کرنے میں حائل ایک بڑی سیاسی رکاوٹ کو دور کرنا ہے۔جبکہ زیادہ پیچیدہ معاملات پر مذاکرات بعد کے مراحل میں جاری رکھے جائیں گے۔
بین الاقوامی فورس
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب ایک اسرائیلی عہدیدار نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ اسرائیلی حکومت نے ایک ایسے قانونی فریم ورک کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے حصے کے طور پر غزہ میں بین الاقوامی استحکامی فورس داخل ہو سکے گی۔
عہدیدار کے مطابق اس فورس میں تقریباً 200 اہلکار ''دوست ممالک'' سے شامل ہوں گے، جو ان علاقوں میں تعینات کیے جائیں گے جہاں اسرائیلی کنٹرول موجود نہیں ہوگا۔
تاہم شرط یہ رکھی گئی ہے کہ ہر یونٹ کی تعیناتی کے لیے اسرائیل کی الگ سے منظوری ضروری ہوگی۔
ٹرمپ کے منصوبے میں انسانی امداد میں اضافے، ایک عبوری فلسطینی سول انتظامیہ کے قیام اور معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ''مجلسِ امن'' بنانے کی تجویز شامل ہے۔
یہ کونسل بین الاقوامی استحکامی فورس کے کام اور عبوری مرحلے میں غزہ کے انتظام سے متعلق امور کی نگرانی بھی کرے گی۔
تاہم ان پیش رفتوں کے باوجود فلسطینی فصائل کے ہتھیاروں کے مستقبل ،فلسطینی انتظامیہ کی نوعیت اور غزہ سے اسرائیلی انخلا جیسے معاملات اب بھی بڑے مسائل ہیں، جن پر کسی بھی معاہدے کے مکمل نفاذ سے پہلے اتفاقِ رائے حاصل کرنا ضروری ہوگا۔