عنصر من قسد في دير حافر بريف حلب (رويترز)
سیرین ڈیموکریٹک فورسز کو تحلیل کرنے کے متوقع اعلان کی تفصیلات آگئیں
ایس ڈی ایف اور اس کی انتظامیہ کو تحلیل کرنے کا اعلان اگست میں کرنا طے پایا ہے: ذرائع نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو بتایا دیا
شام کے صدر احمد الشرع کے ان بیانات کے دو دن بعد جن میں انہوں نے کہا تھا کہ کردوں کے ساتھ معاہدہ سست روی کا شکار ہے دمشق میں شامی حکومت کے قریبی ایک ذریعے نے احمد الشرع اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے قائد مظلوم عبدی کے درمیان جنوری کے آخر میں طے پانے والے حالیہ معاہدے سے متعلق نئی پیش رفت کا انکشاف کیا ہے۔
شام کے دارالحکومت دمشق سے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے بات کرنے والے ذریعے کے مطابق شام کی جنگ کے دوران ایک دہائی سے زائد عرصے تک ملک کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں پر قابض رہنے والی ایس ڈی ایف اور اس کی قائم کردہ خود مختار انتظامیہ کو باضابطہ طور پر تحلیل کرنے کا اعلان آئندہ اگست کے آغاز میں کیا جانا طے پایا ہے۔ ذریعے کے مطابق توقع ہے کہ کرد حکام ایک پریس کانفرنس کے دوران ایس ڈی ایف اور خود مختار انتظامیہ کو تحلیل کرنے کا اعلان کریں گے جس کی کوریج سرکاری اور کرد میڈیا اداروں کے ذریعے کی جائے گی۔
پریس کانفرنس کی باضابطہ تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی ہے لیکن حکومت کے قریبی ذریعے نے کہا ہے کہ اس کانفرنس کے انتظامات ابھی مکمل نہیں ہوئے ہیں اور یہ اگست کے شروع میں منعقد ہوگی۔ ایس ڈی ایف اور خود مختار انتظامیہ کو تحلیل کرنے کی کانفرنس کی تیاریاں حسکہ اور اس کے دیہی علاقوں میں انتظامی تعیّنات کے مکمل ہونے سے منسلک ہیں جہاں حال ہی میں بیشتر علاقوں اور ذیلی اضلاع کے ڈائریکٹرز کو تعیّن کر دیا گیا ہے۔
حکومت کے قریبی ذریعے کے مطابق تل ابیض اور رأس العین کے علاقوں سے بے گھر ہونے والے کرد باشندوں کی ان کے علاقوں میں واپسی کے معاملے کو نمٹانا شاید ایس ڈی ایف اور خود مختار انتظامیہ کی تحلیل کے باضابطہ اعلان میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔ ایس ڈی ایف اور اس کے ساتھ خود مختار انتظامیہ اپنے باضابطہ تحلیل کے اعلان سے قبل تمام بے گھر افراد کی ان کے علاقوں میں واپسی کی شرط عائد کر رہی ہے۔
شام کے صدر نے دو دن قبل ٹیلی ویژن پر دیے گئے بیانات میں کہا تھا کہ کردوں کے ساتھ معاہدہ سست روی سے آگے بڑھ رہا ہے لیکن انہیں اس سے امیدیں وابستہ ہیں۔ شامی حکومت اور ایس ڈی ایف نے جنوری کے آخر میں حلب، رقہ، دیر الزور اور حسکہ کے صوبوں میں فریقین کے درمیان ہفتوں جاری رہنے والے مسلح تصادم کے بعد ایک معاہدے تک پہنچنے کا اعلان کیا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد ایس ڈی ایف کے علاقوں میں سکیورٹی، انتظامی اور فوجی معاملات کو نمٹانا ہے۔ کردوں کو آئینی حقوق دینے کے ساتھ ساتھ ان کے اداروں کو شام کی ریاستی ساخت میں ضم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔