معمر الإرياني
یمن میں ایرانی منصوبے کے مقابلے میں سستی برتنا خطرناک ہوگا: یمنی وزیر اطلاعات
وقت حوثیوں کے ساتھ محض ایک مقامی گروہ کے طور پر نمٹنے کی اجازت نہیں دیتا: معمر الاریانی کا ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو انٹرویو
یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اپنے ملک کو ایرانی منصوبے کی ایک اعلیٰ فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرنے کی تہران کی کوششوں کے سامنے سست روی کی خطرناکی سے خبردار کردیا ہے۔
یمنی وزیر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو خصوصی انٹرویو دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں ایران کے منصوبے کا مقابلہ نہ کرنے کی صورت میں مستقبل میں اسے قابو میں لانے کی قیمت کہیں زیادہ ہوجائے گی۔
معمر الاریانی نے کہا کہ تمام شواہد حوثیوں کے فوجی فیصلے کے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایجنڈے سے جڑے ہونے پر دلالت کر رہے ہیں کیونکہ حوثی یمنی قومی مفادات سے واضح تجاوز کرتے ہوئے تہران کی ہدایات پر عمل پیرا ہیں۔ تجارتی جہازوں پر حوثی گروہ کے حملوں کے دوبارہ آغاز اور بحرِ احمر میں بحری آمدورفت میں نئی رکاوٹوں کے پیشِ نظر وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حوثیوں کی شدت پسندی علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادی کے لیے ایک براہِ راست چیلنج ہے۔
ایک انتہائی حساس علاقائی موڑ آگیا ہے جس میں جنگ بندی کے معاہدے کی ناکامی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی چھڑ گئی ہے اور صنعاء ایئرپورٹ کے لیے براہِ راست پرواز چلا کر تہران کی جانب سے یمن کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور اسی دوران حوثی گروہ نے بحیرہ احمر میں سعودی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا ڈالا اور باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دے دی اور بحری پابندیاں عائد کر کے خطے میں تنازع کے دائرے کو وسیع کرنے کا انتخاب کیا ہے۔
ریاستی خودمختاری کا دفاع
یمن کے وزیراطلاعات معمر الاریانی کا ماننا ہے کہ وقت اب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ حوثیوں کو محض ایک مقامی گروہ کے طور پر دیکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت ریاستی خودمختاری کے دفاع اور اس کے اداروں کی بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔
معمر الاریانی نے کہا کہ حالیہ ایرانی پروازوں کی آمد سے لے کر، بڑھتی ہوئی دھمکیوں سے گزرتے ہوئے اور بحری آمدورفت سے متعلق حوثی اعلانات تک یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حوثی حملوں کی شدت کا مرکز باب المندب اور بحرِ احمر کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔
سمندری گزرگاہوں کے لیے دھمکی
معمر الاریانی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ باب المندب اور بحرِ احمر کی طرف اس کشیدگی کی منتقلی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مقصد یمنی اندرون سے بالاتر ہو کر دنیا کی اہم ترین بحری راہداریوں میں سے ایک کو دھمکانا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ جنگ اب کسی داخلی بحران سے متعلق نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی بحری سلامتی کے تحفظ اور بین الاقوامی برادری کو بلیک میل کرنے اور عالمی تجارت کو دھمکانے کے لیے یمنی سرزمین کو بطور پلیٹ فارم استعمال کرنے سے روکنے سے متعلق ہوگئی ہے۔
ایران کے خلاف زیادہ سخت موقف
انہوں نے کہا کہ اسی صورت حال کے پیش نظر یمنی حکومت بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ایران اور حوثیوں کے خلاف زیادہ سخت موقف اختیار کرے تاکہ یمن میں ایرانی ماہرین اور ملٹری ٹیکنالوجی کی سمگلنگ کو روکا جا سکے۔ اس کی مالی معاونت کے ذرائع کو خشک کیا جا سکے اور یمنی ہوائی اڈوں و بندرگاہوں کو ایسے ایجنڈوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے جو خطے اور دنیا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
یمنی اقدامات
ان پیش رفتوں کے مقابلے میں یمنی شہریوں کے تحفظ، یمن کی خودمختاری کے دفاع، بین الاقوامی بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے اور یمنی بندرگاہوں کے کام کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی قیادت میں اتحاد اور علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ جائز حکومت کے تعاون کو جاری رکھنے کا یمنی عزم نمایاں ہے۔
حوثیوں کے ساتھ مقابلہ
رواں ماہ کے آغاز میں یمنی منظرنامے میں پیش رفت کے بعد سے یمنی حکومت نے حوثیوں کے ساتھ مقابلے کو سنبھالنے کی اپنی صلاحیت کو مضبوط کیا ہے کیونکہ اس نے حوثی مواقع کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاسدارانِ انقلاب کے ماہرین پر مشتمل ایرانی طیارے کو اترنے سے روکنے کے لیے صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے پر بمباری کی گئی جسے مبصرین نے ایک ایسا اشاریہ قرار دیا جو ریاست کی بحالی اور حوثی بغاوت کے خاتمے کی امید کو بڑھاتا ہے۔
یمنیوں کے مفادات پر جوُا
یمنی صدر رشاد العلیمی کے بیانات کے مطابق یمنی عوام کے مفادات پر جوُا کھیلنے پر حوثیوں کے اصرار کے باوجود حوثی گروہ یمن میں اپنے فیصلے ایران سے الگ تھلگ رہ کر نہیں لیتا۔ معمر الاریانی نے کہا کہ حوثیوں کا فوجی فیصلہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ہدایات سے مزید جڑ چکا ہے۔ وقت، کشیدگی کا انداز، اہداف کی نوعیت اور میڈیا کا بیانیہ یہ تمام خطے میں ایرانی منصوبے کی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگی کی عکاسی کر رہے اور یہ یمنیوں کے مفادات کی عکاسی نہیں کرتے۔
ان کا ماننا ہے کہ گزشتہ برسوں کے حقائق حوثی گروہ اور ایرانی نظام کے درمیان ایک مضبوط تعلق کی حالت کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں تاہم انہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ سیاسی حمایت اور فوجی فیصلے میں اثر و رسوخ کے سطح کے درمیان تفریق کی جائے۔ انہوں نے کہا یمنی حکومت کا اندازہ ظاہر کرتا ہے کہ گروہ کے فوجی فیصلے میں ایران کا اثر و رسوخ بہت بڑے پیمانے پر بڑھ چکا ہے۔
حصار کے دعوے
یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی حوثیوں کے ان حالیہ دعووں کو مسترد کیا جو انہوں نے سعودی عرب کی طرف کشیدگی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کے طور پر سعودی عرب پر یمنی عوام کے حصار کا الزام لگانے کے بعد کیے تھے۔ معمر نے کہا کہ حصار کی بات نے کسی کو مطمئن نہیں کیا کیونکہ یہ زمین پر موجود حقائق کے منافی ہے۔
حوثیوں کا بہانہ
سعودی عرب نے گزشتہ تمام برسوں کے دوران یمنی عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے قانونی یمنی حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ معمر الاریانی نے اس بات کی تصدیق کی کہ حصار ختم کرنے کا نعرہ محض ایک حوثی بہانہ اور ایک سیاسی اور میڈیا کور ہے تاکہ سعودی عرب کے خلاف کشیدگی کو جواز فراہم کیا جا سکے اور ایرانی نظام کے ایجنڈے پر عمل درآمد کیا جا سکے۔
معمر الاریانی نے ان دعووں کی تردید کے سیاق و سباق میں کہا کہ حوثی ملیشیا کے کنٹرول میں موجود بندرگاہوں نے جہازوں کا استقبال جاری رکھا، سامان، ایندھن اور خوراک کی اشیاء مسلسل داخل ہوتی رہیں اور سول پروازیں حکومت کی منظور شدہ ترتیب کے ذریعے دستیاب تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ حصار کی موجودگی میں نہیں تھا بلکہ ملیشیا کے اس اصرار میں تھا کہ صنعاء ایئرپورٹ کو ریاستی خودمختاری کے دائرے سے باہر ایرانی منصوبے سے منسلک پروازوں کے لیے ایک کھلا دروازہ بنا دیا جائے۔
ایران اور یمنی خودمختاری
یمنی منظرنامے پر اپنے پہلے ظهور کے گیارہ سال بعد ایرانی ایئرلائن "ماہان ایئر" ملک میں جنگ چھڑنے کے بعد سے ایک نمایاں سیاسی بحران کو دوبارہ ہوا دینے کے لیے اس وقت واپس آئی جب اس کمپنی کے ایک طیارے نے جولائی کے اوائل میں علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے صنعاء سے تہران تک ایک حوثی وفد کو منتقل کیا۔
ایئر لائن کی پرواز نے اسی مہینے کی تیرہ تاریخ کو دوبارہ واپس آنے کی کوشش کی جس قدم کو جائز یمنی حکومت نے ایک خطرناک پیش رفت اور ایران کی طرف سے یمنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
اس کی واپسی کے فوراً بعد یمنی فورسز نے اسے اترنے سے روکنے کے لیے صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا جس سے ملک میں ایک وسیع سیاسی اور فوجی ہنگامی حالت پیدا ہو گئی۔ یمن کی قانونی حکومت کے اختیارات سے باہر ایرانی پرواز چلا کر ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزی کی کوشش کو صریحاً مسترد کر دیا گیا۔
اگرچہ یہ تنازع ظاہری طور پر ایک پرواز سے متعلق نظر آتا تھا لیکن سیاسی حقائق اور فیلڈ کی صورت حال اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بحران یمنی فضائی حدود پر خودمختاری کے ایک گہرے تصادم کے گرد گھومتا ہے۔ یہ بحران اس قانونی جہت کا تعین کرنے کے لیے ہے کہ صنعاء ایئرپورٹ سے اور اس کے لیے بین الاقوامی پروازوں کو چلانے اور سنبھالنے کا قانونی حق کس کا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسی تناظر میں اسلحہ، بارودی سرنگیں، میزائل، ڈرون طیارے، ملٹری ماہرین اور جنگ کے دورانیے کے طویل کرنے والے قتل و غارت کے آلات یمن میں داخل ہونے کے بعد سے ایرانی نظام نے فراہم کیے ہیں
حوثی ایک فرمانبردار ایرانی ٹول
’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے معمر الاریانی نے زور دیا کہ حوثیوں نے یمنیوں کی مشکلات کو اس وقت سے دوگنا کر دیا ہے جب سے وہ ایک ایران کے فرمانبردار آلہ بن چکے اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں تاکہ اس کی علاقائی ترجیحات کی خدمت کی جا سکے۔
اسی سیاق و سباق میں معمر الاریانی نے کہا کہ حوثی یمن کو ان تصادم میں دھکیلنے کا سبب بنے۔ یہ بیرونی ایجنڈوں کی خدمت کرتے ہیں جیسا کہ ان کی حالیہ پیش رفت یعنی بحری آمدورفت کی قزاقی اور سعودی عرب کو نشانہ بنانا یہ واضح کر رہا ہے۔ حالانکہ وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ سعودی عرب محض ایک پڑوسی ملک نہیں ہے بلکہ یمن کے لیے سب سے اہم اقتصادی اور انسانی شریان ہے۔
سعودی عرب کا تاریخی کردار
یمنی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ تقریباً 25 لاکھ یمنی مملکت میں کام کرتے ہیں اور یمن کے اندر لاکھوں خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ترقیاتی اور انسانی منصوبوں کے ذریعے ملک کی مدد میں مملکت کا تاریخی کردار ہے۔ اس کے باوجود یہ حقائق حوثی ملیشیا کے لیے کچھ معنی نہیں رکھتے کیونکہ وہ قومی مفاد کے حساب کتاب سے نہیں بلکہ ایرانی منصوبے کے حساب کتاب سے حرکت کرتی ہے۔
نتیجے کے طور پر یمنی حکومت تمام قومی سرزمین پر ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لیے اپنے فوجی اور سیاسی اقدامات کو سخت کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ یمنی حکومت اس کے ساتھ ساتھ علاقائی کشیدگی کے اثرات سے یمن کو الگ رکھنے کی اہمیت پر تاکید کرتی ہے اور ایرانی نظام کے ایجنڈوں کی خدمت میں ملک کو مسلسل بحرانوں میں دھکیلنے پر حوثیوں کے اصرار کا مقابلہ کر رہی ہے۔