سکیورٹی فورسز کے اہلکار کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حملے کے بعد دہشت گردوں سے پکڑا گیا اسلحہ دکھا رہے ہیں۔
کراچی ہوائی اڈا سی اے اے کے حوالے، پروازیں بحال
ٹی ٹی پی نے ذمے داری قبول کرلی، حملے میں غیرملکیوں کے ملوث ہونے کا شُبہ
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو دہشت گردی کے حملے کے بعد مسافروں اور پروازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے اور وہاں سے سوموار کی شام چار بجے قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی ایک مسافر پرواز دارالحکومت اسلام آباد کے لیے روانہ کی گئی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''کراچی ائیرپورٹ کو کلئیر کردیا گیا ہے اور اس کا کنٹرول سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) اور ائیرپورٹ سکیورٹی فورس کے حوالے کردیا گیا ہے''۔
کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بعض نامعلوم مسلح افراد نے اتوار کی شب گیارہ بجے کے قریب جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ائیرپورٹ سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے دس اہلکاروں سمیت انیس افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دس دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ دہشت گردی کے حملے میں پی آئی اے کے چار ملازمین شہید ہوئے ہیں۔ان کے نام فرخ لغاری ،ایس ایم الیاس ،فاضل زبیری اور تنویر اے خان ہیں۔
دہشت گردوں کے حملے کے بعد سندھ رینجرز اور پاک فوج کو طلب کر لیا گیا تھا اور انھوں نے پانچ ،چھے گھنٹے کی کارروائی کے بعد دس حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا۔تاہم سوموار کی صبح بھی ہوائی اڈے سے فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں۔سکیورٹی فورسز نے ہوائی اڈوں کو مکمل سرچ آپریشن کے بعد پروازوں کے لیے کلئیر قرار دیا ہے۔
سندھ رینجرز کےڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل رضوان اختر کا کہنا ہے کہ ہلاک حملہ آوروں میں بعض بظاہر غیرملکی معلوم دیتے ہیں۔دہشت گردوں کے قبضے سے اے کے47 رائفلیں، دستی بم ،راکٹ لانچرز اور دیگر بھاری اسلحہ برآمد ہوا ہے۔رینجرز حکام کے مطابق ہلاک دہشت گرد شکل سے ازبک لگتے ہیں۔ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے گا۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز سے برسرپیکار کالعدم تحریک طالبان نے کراچی کے ہوائی اڈے پر اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ سکیورٹی فورسز کی وزیرستان میں دیہات اور قصبوں پر بمباری کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
دریں اثناء وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کو کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دہشت گردی کے حملے سے متعلق ابتدائی رپورٹ پیش کردی گئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دہشت گرد ہوائی اڈے پر موجود تمام طیاروں کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملہ آور دو مختلف راستوں سے ائیرپورٹ میں داخل ہوئے تھے۔