پاکستانی تارک وطن دیگر پناہ گزینوں کے ہمراہ یونان-میسڈونین سرحد پار کرنے کا انتظار کر رہا ہے 20 نومبر 2015ء

یورپ جانے کے شوقین پاکستانی ترکی میں انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ گئے

ترک حکام کی کارروائی سے زنجیروں میں جکڑے 57 پاکستانی استنبول سے بازیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں پولیس نے غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے زنجیروں سے جکڑے 57 پاکستانیوں کو بازیاب کرا لیا۔

ترک روزنامہ "حریت" کے مطابق مقامی پولیس نے استنبول میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے پیر کے روز چھاپوں کے دوران 57 پاکستانی یرغمالیوں کو بازیاب کرایا ہے جنہیں انسانی اسمگلروں نے ایک عمارت کے تہہ خانے میں قید کیا ہوا تھا۔ ان افراد کو 10 ہزار ڈالرز کے عوض یورپ پہنچانے کا جھانسہ دے کر ترکی لایا گیا تھا اور انہیں کہا گیا تھا کہ وہ یہ رقم یورپ پہنچنے کے بعد ادا کریں۔ مقامی پولیس کے مطابق کارروائیوں میں تین پاکستانی اسمگلروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن پر تارکین وطن کو گمراہ کرنے کے الزامات ہیں۔

چند ماہ قبل ترکی سے متعدد پاکستانی شہری پہلے بھی بازیاب ہو چکے ہیں۔ انسانی اسمگلروں نے انہیں اغوا کرکے بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر ویڈیو پاکستان بھیجی تھی۔ پاکستانی حکام کی درخواست پر ترک پولیس نے انہیں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد پاکستانیوں کو بازیاب کرایا تھا۔

خیال رہے کہ یورپ جانے کے خواہش مند پاکستانی شہری بلوچستان سے ایران، وہاں سے ترکی پہنچ کر یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برس میں ہزاروں شامی، عراقی، پاکستانی اور افغانی شہری غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچ چکے ہیں۔ چند روز قبل ہی بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 20 افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ تمام افراد انسانی اسمگلروں کو رقم دے کر براستہ ایران، ترکی یورپ جانے کے خواہش مند تھے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں