دائیں سے: خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری
احتجاجی سیاست سے تائب ہونے پر خادم رضوی اور افضل قادری کو ضمانت مل گئی
لاہور ہائی کورٹ کا دونوں ملزمان کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی سب سے بڑی عدالت ہائی کورٹ نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی اور مرکزی رہنما پیر افضل قادری کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔
جسٹس قاسم علی خان اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کی درخواست ضمانتوں کی سماعت کی۔
عدالت عالیہ نے فیصلہ سناتے ہوئے ٹی ایل پی کے دونوں رہنماؤں کی درخواست ضمانت 15 جولائی تک منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کو پانچ پانچ لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ ہائی کورٹ نے ملزمان اور استغاثہ کے دلائل مکمل ہونے پر 10 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
واضح رہے کہ خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سمیت پارٹی کے اہم رہنماؤں کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات درج ہیں۔ گزشتہ دنوں ہی پیر افضل قادری نے عدلیہ اور فوج کے خلاف متنازع تقریر پر معافی مانگتے ہوئے تحریک لبیک چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
اسی بارے میں
-
تحریک لبیک کے سربراہ خادم رضوی کے خلاف غداری اور دہشت گردی کا مقدمہ درج -
خادم حسین رضوی کو 'حفاظتی تحویل' میں لیا گیا ہے: وفاقی وزیر اطلاعات -
آسیہ بی بی کی بریت: حکومت اور تحریکِ لبیک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا -
تحریک لبیک کے سربراہ مولوی خادم حسین رضوی کا ٹویٹر اکاؤنٹ معطل -
لبیک یا رسول اللہ تحریک کو دھرنا ختم کرنے کے لئے 24 گھنٹے کی مزید مہلت -
شرکاء "لبیک یا اقصی کانفرنس" نے امریکی صدر کا فیصلہ مسترد کر دیا