پاکستان میں جاسوسی ، دہشت گردی اور تخریب کاری کے جُرم میں سزائے موت پانے والا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو ۔ فائل تصویر

پاکستان سے قونصلر رسائی ملنے کے بعد بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی کلبھوشن یادیو سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام آباد میں متعیّن بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر گوریو اہلو والیا نے وزارت خارجہ میں تخریب کاری ،جاسوسی اور دہشت گردی کے جرم میں فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے جاسوس کلبھوشن یادیو سے سوموار کے روز ملاقات کی ہے۔

انھوں نے پہلے پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل سے ملاقات کی اور پھر ان کی ایک’سب جیل‘ میں کلبھوشن یادیو سے قونصلرملاقات کرائی گئی۔اس کے فوری بعد کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

قبل ازیں آج ہی پاکستان نے بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے سزایافتہ جاسوس کو ویانا کنونشن اور عالمی عدالت انصاف کے سترہ جولائی کے فیصلے کے تحت قونصلر رسائی دینے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان نے گذشتہ ماہ بھارت کو یادیو تک قونصلر رسائی دینے کی پیش کش کی تھی اور وہ اس کے ردعمل کا منتظر تھا۔ پاکستان نے گذشتہ ماہ بھارت کو یادیو تک قونصلر رسائی دینے کی پیش کش کی تھی اور وہ اس کے ردعمل کا منتظر تھا۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ’’بھارتی جاسوس کمانڈر، بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر اور را کے جاسوس کو سوموار دو ستمبر کو قونصلر رسائی دی جارہی ہے۔‘‘ انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ ’’کمانڈر یادیو جاسوسی ، دہشت گردی اور تخریب کاری کے جرم میں بدستور پاکستان میں زیرِحراست رہے گا۔ ‘‘

ادھر نئی دلی میں بھارت کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کلبھوشن یادیو کی ڈپٹی ہائی کمشنر سے قونصلر ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ اس سے پہلے انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’’پاکستان عالمی عدالت انصاف کے حکم کی روح کے عین مطابق سازگار ماحول کو یقینی بنائے گا تاکہ آزادانہ ، شفاف انداز میں بامقصد ملاقات منعقد ہوسکے۔‘‘

یادرہے کہ کلبھوشن سدھیر یادیو کو پاکستان کے سکیورٹی اداروں نےکئی ماہ کی نگرانی کے بعد تین مارچ 2016ء کو صوبہ بلوچستان میں سراغرسانی کی ایک کارروائی کے دوران میں گرفتار کیا تھا اور اس کو 10اپریل 2017ء کو ایک فوجی عدالت نے پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کرسزائے موت سنائی تھی۔

اسی سال جون میں اس نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کی تھی کہ اس کو سنائی گئی سزائے موت معاف کردی جائے۔اس کی سزائے موت کے خلاف بھارت نے ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا اور اس نے ایک عبوری حکم کے ذریعے پاکستان کو کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر عمل درآمد سے روک دیا تھا اور اس تک بھارت کو قونصلر رسائی دینے کی ہدایت کی تھی۔تاہم اس نے بھارت کی یادیو کی رہائی کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

یادیو نے اپنی گرفتاری کے بعد ایک ویڈیو بیان میں اقرار کیا تھا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسیس ونگ ( را) نے اس کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں کو اسپانسر کیا تھا۔اس نے خاص طور پر بلوچ علاحدگی پسندوں کو تشدد پر اکسایا تھا۔بلوچستان میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی پر فرقہ ورانہ بنیاد پر دہشت گردی کے حملوں میں بھی اسی کا ہاتھ کارفرما تھا۔

یادیو کے مطابق را کے ایک اور ایجنٹ انیل کمار نے ہزارہ اور شیعہ شہریوں اور بالخصوص افغانستان ،پاکستان اور ایران کے درمیان سفر کرنے والے شیعہ زائرین پر متشدد حملوں کی پشت پناہی کی تھی۔اس علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا مقصد عدم استحکام پیدا کرنا اور پاکستان کے عوام میں خوف وہراس پیدا کرنا تھا۔ یادیو کے بہ قول کراچی میں سپرنٹنڈینٹ پولیس ( ایس پی) چودھری اسلم کے قتل میں بھی را ملوث تھی۔

اس نے اعتراف کیا تھا کہ بلوچستان میں پاک فوج کے ایک ذیلی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن( ایف ڈبلیو او) کے ورکروں پرحملوں ،کوئٹہ ،تربت اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں بلوچ قوم پرستوں کے بارودی سرنگوں یا دھماکا خیز مواد کے ذریعے حملوں میں بھی را کا براہ راست ہاتھ کارفرما تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں