نیب کا کنٹرول جن کے پاس تھا وہ احتساب نہیں چاتے تھے: عمران خان

اسمبلی میں ووٹنگ کیلئے اتحادیوں کو ایجنسیز کے ذریعے بلانا پڑتا تھا: عمران خان

سابق وزیر اعظم کا اپنے دور میں اسٹیبلشمنٹ سے مسلسل بیساکھیاں مانگنے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے اپنے پونے چار سالہ دور میں اسٹیبلشمنٹ سے مسلسل بیساکھیاں مانگنے کا اعتراف کر لیا۔

گذشتہ روز سوشل میڈیا پر سوالات کے لائیو سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ’اپنے دور حکومت میں بہت سے کام کر سکتا تھا لیکن ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے کیونکہ اتحادی ہمیں بلیک میل کرتے تھے۔‘‘

’’بجٹ منظور کروانے کے لیے ہمیں منتیں کرنی پڑتی تھیں۔ میں ایجنسیوں سے بار بار کہتا تھا کہ ان لوگوں کو اسمبلی میں لے کر آؤ تاکہ یہ ہمارے حق میں ووٹ ڈال سکیں، آئندہ اگر ایسی کمزور حکومت ملی تو حکومت نہیں لوں گا۔‘‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام اور فوج میں فاصلے بڑھتے رہے تو سب کا نقصان ہوگا، میں کبھی فوج کو کمزور ہوتا نہیں دیکھ سکتا، طاقتور فوج اس ملک کی ضرورت ہے، ہم کمزور فوج کے متحمل نہیں ہو سکتے، فوج ہمارا اثاثہ ہے۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنرل اور لیڈر کے لیے یو ٹرن بہت ضروری ہوتا ہے، غلطیاں ہو سکتی ہیں، آپ کو پتا ہے کہ غلطی ہو گئی ہے تو واپس ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی میرے کسی وزیر کے حوالے سے کوئی اسکینڈل سامنے آتا تھا تو میں فوری طور پر اسے واٹس ایپ کر کے کہتا تھا کہ اس کا جواب دو اور میں اپنے طور پر ان کی تحقیقات بھی کرتا تھا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں جس طرح احتساب ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہو سکا کیونکہ نیب ہمارے زیر انتظام نہیں تھا، میں نیب کو کنٹرول نہیں کر رہا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے اپنے طور پر نیب کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن نیب کا کنٹرول کسی اور کے پاس ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ اس ملک میں احتساب ہو، ان کے لیے کرپشن اتنی بری چیز نہیں تھی اور یہی سب سے بڑی بدقسمتی تھی۔

انہوں نے کہ آئندہ اگر مجھے اسی طرح کی حکومت ملی جیسے اس سے پہلے ملی تھی تو میں اقتدار نہیں سنبھا لوں گا کیونکہ آپ ایک کمزور اتحادی حکومت میں بڑے فیصلے نہیں کر سکتے، آپ کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوتا اور جن کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ اگر احتساب نہیں چاہتے تو آپ کچھ نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مدت میں ہم ایک عذاب سے گزرے ہیں اور ایسی حکومت میں آپ اصلاحات نہیں کر سکتے، پارلیمانی جمہوریت میں بھاری اکثریت کے بغیر بڑے فیصلے کرنا ممکن نہیں۔

ضمنی الیکشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ضمنی الیکشنز کے موقع پر 2018 کے الیکشن سے بھی زیادہ جوش دیکھا ہے جس میں سوشل میڈیا کا بڑا کردار ہے جبکہ ٹک ٹاک نے بھی بڑا کمال کیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ضمنی الیکشنز کے لیے نکلیں، نوجوان ملک کا 60 فیصد ہیں اور مستقبل ان کا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اتنا گھٹیا آدمی جو اس طرح کی باتیں کرتا ہے، میں کبھی اس سے ملنا چاہتا ہوں نہ کبھی اس کی شکل دیکھنا چاہتا ہوں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں