فائل فوٹو
اسلام آباد، صوبہ پنجاب اورخیبرپختونخوامیں امن وامان کی بحالی کے لیے فوج تعینات
پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے ملک کے بڑے شہروں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پرقابو پانے کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کی منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے ردعمل میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔بڑی تعداد میں مظاہرین نے فوجی چھاؤنیوں، جنرل ہیڈکوارٹرز(جی ایچ کیو) راول پنڈی اور فرنٹیئرکورکے دفاترکے باہر جمع ہوکراحتجاج کیا تھا اورتوڑپھوڑکی تھی۔انھوں نے پشاورمیں ریڈیوپاکستان کی عمارت کو نذرآتش کردیا ہے۔
وزارتِ داخلہ نے وفاقی دارالحکومت ،صوبہ پنجاب اور کے پی کے سے متعلق نوٹی فکیشن میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت سول اختیار کے تحت پنجاب بھر میں امن و امان کی صورت حال کو برقراررکھنے کے لیے فوجی دستوں اوراثاثوں کو تعینات کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔
وزارت نے مزیدکہا کہ حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 (مسلح افواج کے فرائض) اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 4 (3) (2) کے تحت حاصل اختیارات کوبروئے کارلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کے نوٹی فکیشن میں کہاگیا ہے کہ فوجیوں کی صحیح تعداد، تاریخ اورتعیناتی کے علاقے کا تعین صوبائی حکومت ملٹری آپریشنزڈائریکٹوریٹ، جنرل ہیڈ کوارٹرز کی مشاورت سے کرے گی اور مذکورہ تعیناتی کی تاریخ کا فیصلہ دونوں اسٹیک ہولڈرز کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
اس سے قبل کے پی حکومت نے وزارت داخلہ سے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول حکومت کی مدد کے لیے مسلح افواج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا تھا۔اس نے ایک خط میں کہا کہ پاک فوج کی تعیناتی کی یہ درخواست امن و امان کی موجودہ صورت حال کے علاوہ شہریوں کےجان ومال اورسرکاری تنصیبات کے تحفظ کے پیش نظر کی گئی ہے۔بلوچستان حکومت کی جانب سے فوج کی تعیناتی کے لیے ابھی تک کوئی درخواست نہیں کی گئی ہے۔
دریں اثناء وزارت داخلہ کی جانب سے اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کی اجازت کے بعد فوجی دستے شہرمیں متعدد مقامات پر پہنچ رہے ہیں۔سوشل میڈیا پرپوسٹ کی گئی بعض ویڈیوز کے مطابق فوجی دستے اسلام آباد اور راول پنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد پُل کی جانب بڑھتے ہوئے جاسکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ رینجرزاورمسلح افواج کے دستے امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے جائے وقوعہ پر موجودہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اشتعال انگیزی پھیلانے والے تمام افراد سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اس سے بازآجائیں اور خواتین اور بچّوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سفرکرنے سے گریزکریں۔
پنجاب میں پاک فوج کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن
واضح رہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب کی درخواست پر وفاقی حکومت نے فوج کی تعیناتی کی منظوری دی۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 245 اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 4 (3) کے تحت سول حکومت کی مدد اور امن و امان کی صورتِ حال کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے پنجاب میں فوج کی تعیناتی کی منظوری پرسوال اٹھایا ہے اور اس اقدام پرحیرت کا اظہارکیا ہے۔
انھوں نے ٹویٹرپرایک ویڈیو پیغام میں کہا:’’جب سپریم کورٹ نے انتخابی ڈیوٹی کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کی مانگ کی تھی، تو یہ بتایا گیا تھا کہ ملک کی داخلی سلامتی کی صورت حال کی وجہ سے تعیناتی ممکن نہیں ہے۔اب وہ فوج کو کیسے تعینات کررہے ہیں؟‘‘
اسی بارے میں
-
عمران خان کو قادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا گیا: اسلام آباد پولیس -
عزت صرف ایک ادارے کی نہیں، ہر شہری کی ہونی چاہیے: عمران خان -
عمران خان کے حاضرسروس فوجی افسرکے خلاف بے بنیاد الزامات ناقابل قبول:آئی ایس پی آر -
عمران خان کی گرفتاری پر پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج، موبائل انٹرنیٹ بند -
اسلام آباد ہائی کورٹ نےعمران خان کی گرفتاری کوقانونی قرار دے دیا -
دنیا کے مختلف ملکوں نے عمران خان کی گرفتاری پر کیا ردعمل دیا ہے؟ -
عمران خان کی گرفتاری، امریکا سمیت کئی ممالک کی ٹریول ایڈوائزی جاری