فواد چوہدری: فائل فوٹو
9 مئی کے واقعات پر ہر پاکستانی رنجیدہ، ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے: فواد چوہدری
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر و رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) فواد چوہدری کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا لیکن وہ دوبارہ گرفتاری کی کوشش پر بھاگ کر پھر کمرہ عدالت پہنچ گئے تاہم رات گئے وہ گھر واپس روانہ ہو گئے۔
ہائی کورٹ کے باہر اپنی اہلیہ اور وکلا کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے نو مئی کو پیش آنے والے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فوج ہے تو پاکستان اور ہم ہیں، ان شرمناک واقعات میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ان واقعات کی تحقیقات ہوں اور جو بھی ان میں ملوث ہے اُسے سزا ملنی چاہیے، خواہ اس کا تعلق پی ٹی آئی سے ہی کیوں نہ ہو۔
’’لاہور کور کمانڈ ہاؤس اور جی ایچ کیو میں پیش آنے والے واقعات پر ہر محب وطن شخص کا دل رنجیدہ ہے، عسکری اور سرکاری تنصیبات پر حملے شرمناک ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان کی حیثیت سے کہتا ہوں پاک فوج ہے تو پاکستان ہے اور پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، ترجمان پی ٹی آئی کی حیثیت سے سمجھتا ہوں کہ 9 مئی کے واقعات شرمناک تھے۔ عمران خان نے بھی ان کی مذمت کی ہے۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ ’جہاں تک معاملات کا تعلق ہے تو ہم سب کا تعلق پاکستان سے ہے اور جس کا تعلق پاکستان سے ہے اُس کا پاک فوج سے تعلق ہے،اسی نکتہ نظر کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنی پالیسیاں بنانی چاہیے‘۔
فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ میرا تعلق جہلم سے ہے، میرا تعلق جہم سے ہے جو شہدا اور غازیوں کی سرزمین ہے، ہمارا کوئی قبرستان ایسا نہیں جہاں شہید اور غازی دفن نہ ہوں، فوج سے ہمارا یہ رشتہ ہر چیز سے مقدم ہے‘۔