دائیں جانب لیفٹیننٹ کرنل کاشف علی اور بائیں جانب کیپٹن احمد بدر (آئی ایس پی آر)
شمالی وزیرستان میں حملہ: لیفٹیننٹ کرنل، کیپٹن سمیت سات اہلکار جان سے گئے
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے دراندازی کی ابتدائی کوشش ناکام بنانے کے بعد عسکریت پسندوں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی، جس کے بعد متعدد خودکش حملے ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں چھ عسکریت پسند مارے گئے۔
شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں پاک فوج کے دو افسران اور پانچ جوان شہید ہو گئے، جوابی کارروائی میں چھ دہشت گرد بھی مارے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں چھ دہشت گردوں پر مشتمل گروہ نے پاک فوج کی سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دراندازی کی کوشش ناکام بنائی تو دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چوکی سے ٹکرا دی، اس کے بعد متعدد خودکش بم حملے ہوئے، جس کے نتیجے میں ایک عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا اور دہشت گرد حملے میں پاک فوج کے پانچ جوان شہید ہو گئے۔
شہدا میں حوالدار صابر (ضلع خیبر کے رہائشی)، نائیک خورشید (ضلع لکی مروت کے رہائشی)، سپاہی ناصر (ضلع پشاور کے رہائشی)، سپاہی راجا (ضلع کوہاٹ کے رہائشی) اور سپاہی سجاد (ضلع ایبٹ آباد کے رہائشی) شامل ہیں۔
پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ کلیئرنس آپریشن کے دوران لیفٹیننٹ کرنل کاشف کی قیادت میں فوجی دستوں نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام چھ دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔
تاہم فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران لیفٹیننٹ کرنل سید کاشف علی (عمر 39 سال، رہائشی کراچی) اور کیپٹن محمد احمد بدر (عمر 23 سال، ضلع تلہ گنگ) نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر لیا۔
پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ علاقے میں موجود کسی بھی دوسرے دہشت گرد کا قلع قمع کرنے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔