تین جولائی 2024 کا یہ تصویری مجموعہ پاکستان کے سب سے دراز قد شخص ضیاء رشید (بائیں طرف تصویر کے درمیان میں) اور عالم چنا کا ہے جو کبھی زمین پر سب سے دراز قد زندہ انسان تھے۔ (ونٹیج پاکستان/فیس بک)

عالم چنہ کی برسی کے دن پاکستان کے سب سے دراز قد ضیاء رشید انتقال کر گئے

آٹھ فٹ دراز ضیاء رشید قد سے متعلق کئی طبی مسائل کا شکار تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقامی میڈیا نے بڑے پیمانے پر اطلاع دی کہ پاکستان کے سب سے دراز قد آدمی ضیاء رشید 2 جولائی کو 30 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اتفاق سے اس دن ایک اور طویل القامت پاکستانی عالم چنا کی 26 ویں برسی ہے جو کبھی روئے زمین پر سب سے دراز شخص تھے۔

رشید کے بارے میں خیال ہے کہ وہ 18 سال تک 8 فٹ کی قامت پر پہنچ چکے تھے لیکن قد طویل ہونے کی وجہ سے وہ کئی بیماریوں کا شکار ہو گئے۔ دنیا کے موجودہ طویل القامت آدمی ترکی سے تعلق رکھنے والے سلطان کوسن آٹھ فٹ تین انچ کے قد کے ساتھ رشید سے تقریباً تین انچ دراز ہیں۔

طویل قامت کی وجہ سے صحت کے متعدد مسائل مثلاً سیلولائٹس، جلدی ناسور، ٹانگوں کے دائمی السر اور اوسٹیو مائلائٹس کا خطرہ ہوتا ہے۔ قد کا تعلق ذیابیطس، دل کی بیماری اور فالج سے بھی ہے۔

پاکستان کے ڈان اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے، "پاکستان کے سب سے دراز شخص ضیاء رشید کا منگل کو طویل علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔" ڈان نے مزید کہا کہ پانچ بھائیوں میں سب سے چھوٹے بھائی طویل عرصے سے بیمار تھے اور انہیں پاکستان کے وسطی مشرقی صوبہ پنجاب میں ضلع وہاڑی کے قریب ان کے آبائی گاؤں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

سماء نیوز ویب سائٹ نے کہا، "وہ ٹانگ سے متعلق بیماری میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے ان کی زندگی کا بیشتر حصہ کافی اذیت اور تکلیف میں گذرا۔"

"بدقسمتی سے ضیاء کا کبھی بھی مناسب طبی علاج نہیں ہوا جس کی انہیں ضرورت تھی۔ اپنی اس حالت کے باوجود وہ پاکستان میں ہی رہا کیونکہ وہ بیرونِ ملک بہتر طبی سہولیات اور علاج کے لیے ضروری وسائل حاصل کرنے سے قاصر رہے۔"

سماء نے مزید کہا، "رشید کا بچپن عام بچوں جیسا تھا اور ان کی نشوونما میں نمایاں اضافہ 12 سال کی عمر میں ہوا جس کی وجہ بعد میں پٹیوٹری غدود کی خرابی قرار دی گئی۔ یہ غدودی مسئلہ نشوونما کے ہارمون کی زیادہ پیداوار کا باعث بنا جس سے ان کا قد غیر معمولی ہو گیا۔"

اتفاقاً رشید کا انتقال اسی دن ہوا جس دن عالم چنا کی برسی ہوتی ہے۔ عالم چنا ایک اور پاکستانی طویل قامت شخص تھے جن کے پاس 1982 سے 1998 کے درمیان دنیا کے سب سے دراز قد زندہ آدمی کا عالمی گنیز ریکارڈ رہا۔ ان کے قد کی پیمائش 7.7 فٹ تھی۔ انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ ایک مقامی مشہور شخصیت اور شہر شہر گھومنے والے سرکس کے ایک عام فرد کی طرح گذارا۔ وہ گردے کی خرابی اور ہائی بلڈ پریشر کا شکار تھے اور انہیں حکومت نے علاج کے لیے امریکہ بھیجا تھا۔

انہیں والہالا، نیو یارک کے ویسٹ چیسٹر میڈیکل سینٹر میں داخل کرایا گیا لیکن 2 جولائی 1998 کو ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ سندھ کے ایک قصبے سہون شریف میں مدفون ہیں جو صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کی مشہور درگاہ کے حوالے سے معروف ہے جہاں چنا کے افرادِ خانہ نے بطور مددگار کئی عشروں تک کام کیا۔ سرکس میں شامل ہونے سے پہلے انہوں نے خود بھی اپنی جوانی میں مزار کے لیے کام کیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں