یکم ستمبر 2022 کی اس تصویر میں صوبہ سندھ کے سکھر میں گاؤں سمو خان بھنبرو میں مزدور خواتین کھیت میں کپاس چن رہی ہیں۔ (اے ایف پی/فائل)
کھیتوں میں انقلاب: نئے قوانین کے تحت سندھ کی کپاس چننے والی خواتین کی اجرت میں اضافہ
18ویں آئینی ترمیم سے صوبوں کو خود مختاری ملنے کے بعد تبدیلی آئی
پاکستان کے جنوب مشرقی صوبہ سندھ میں کپاس کے کھیتوں میں کام کرنے والی ثمینہ خاصخیلی خود کو آج جتنا بااختیار محسوس کرتی ہیں، اتنا انہوں نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا۔
شہید بینظیر آباد ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں (سابقہ نواب شاہ) کی رہائشی یاد کرتی ہیں کہ کس طرح ان کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنے والی زیادہ تر خواتین مناسب معاوضہ نہ ملنے کی شکایت کرتی تھیں۔
تاہم صوبے کے ابھرتے ہوئے قانونی لائحہ عمل نے 2013 میں زرعی اور ماہی گیر مزدوروں کو صنعتی کارکنان کے طور پر تسلیم کیا اور انہیں تنظیم سازی، ٹریڈ یونین بنانے اور زمینداروں اور آجروں کے ساتھ گفت و شنید کا حق دیا۔
اس کے بعد تقریباً 50 کی تعداد میں ان خواتین نے اپنی ٹریڈ یونین رجسٹر کرنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں اجرتوں میں بہتری آئی جن سے پہلے انکار کر دیا جاتا تھا۔
انہوں نے اس ہفتے عرب نیوز کو بتایا، "ہم خواتین ہاتھ سے کپاس چنتی ہیں۔ ماضی میں آجر ہمیں سرکاری نرخ ادا نہیں کرتے تھے لیکن متحد ہو کر ہم 50 خواتین نے اپنے حق کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے 800 روپے سے انکار کرتے ہوئے 1,200 روپے فی من مزدوری کا مطالبہ کیا۔ ہمارے اتحاد نے آجر کو مجبور کیا کہ وہ ہمارا مطالبہ مان لے۔"
پاکستان کی اہم ترین نقد آور فصلوں میں سے ایک کپاس ملک کے ٹیکسٹائل کے شعبے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جو اس کی معیشت میں سب سے بڑا حصہ دار ہے۔ تاہم کئی عشروں سے خاصخیلی جیسی خواتین جو کپاس کی چنائی میں بنیادی مزدور قوت ہیں، کم اجرت اور کام کے خراب حالات کے باعث جدوجہد کر رہی تھیں۔
انہوں نے کہا، "ہمیں اپنی آواز مل گئی ہے۔ اضافہ شدہ آمدن سے ہم اپنے بچوں کے لیے کپڑے اور سکول کی چیزیں خرید سکتی ہیں۔"
کاروبار اور انسانی حقوق
18 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے ایک عشرے سے کچھ زیادہ عرصہ بعد سندھ کے کسانوں کو نئے قوانین کے فوائد ملنا شروع ہو گئے ہیں۔
2023 میں صوبائی قانون سازوں نے سندھ تحفظِ انسانی حقوق ایکٹ میں ایک ترمیم متعارف کرائی جس میں ذمہ دار کاروبار اور انسانی حقوق کے اصول شامل کیے گئے جو آجروں کو اپنے کارکنوں کی بنیادی مراعات کو تسلیم کرنے اور جوابدہی کی ترغیب دیتا ہے۔
ایک آزاد ادارے سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن اقبال احمد ڈیٹھو نے کہا، "ذمہ دار کاروبار اور انسانی حقوق پاکستان میں نسبتاً نیا شعبہ ہے۔
اس کے تحت ہم نے مقامی ملازمتوں کو ترجیح دینے، پیشہ ورانہ صحت اور حفاظت کو بہتر بنانے، کم از کم اجرت کے نفاذ، موجودہ قوانین کا جائزہ لینے اور قانونی امداد کو مزید قابلِ رسائی بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ہم نے سرکاری اہلکاروں، مزدور انسپکٹرز اور پولیس کے درمیان بھی صلاحیت پیدا کی ہے تاکہ خلاف ورزیوں کا مؤثر طریقے سے ازالہ اور کارکنوں کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔"
فریم ورک کی اہمیت پر مبالغہ آرائی کرنا مشکل ہے۔ اس کے متعارف ہونے سے پہلے زرعی کارکنان کے حقوق محدود اور سودے بازی کی طاقت کم تھی۔ عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے محکمے کے علاقائی ڈائریکٹر غلام سرور نے اس تبدیلی کی تصدیق کی اور کہا، "اب تک محکمۂ محنت سندھ میں زرعی کارکنان کی 26 رجسٹرڈ انجمنیں ہیں۔ ان میں زیادہ تر اراکین اور قائدین خواتین ہیں جن کی تعداد تقریباً 800 ہے۔
طاقت کا اتحاد
کسانوں کے حقوق کی وکالت کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن نے صرف خواتین پر مشتمل 12 زرعی انجمنوں کو صوبائی محکمہ کے ساتھ رجسٹر کرنے میں مدد کی ہے جن میں خاصخیلی کی آزاد ہرنیانی ٹریڈ یونین شامل ہے۔
انجمن کے صدر اکرم خاصخیلی نے عرب نیوز کو کہا، "سندھ تحفظِ انسانی حقوق ایکٹ 2023 سندھ میں خواتین کارکنان کے لیے انقلابی ثابت ہوا ہے۔ اس قانون نے یہ یقینی بنایا ہے کہ وہ حکومتِ سندھ کی مقرر کردہ کم از کم اجرت وصول کریں۔ جاگیردار اور ٹھیکیدار پہلے ان کے اس حق سے انکار کر دیا کرتے تھے۔"
ایک اور کسان خاتون بیگم زادی کے نزدیک اس قانون نے نہ صرف انہیں معاشی فوائد دیئے ہیں بلکہ ان میں اعتماد بھی پیدا کیا ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ فرق اس وقت سامنے آیا جب تنظیم کے نمائندوں نے ہمارے گاؤں میں مشاورتی اجلاس اور آگاہی سیشنز کا انعقاد شروع کیا جو پہلے نہیں تھا۔"
دریں اثناء کپاس چننے والی خاصخیلی اپنی آمدنی میں اضافے سے خوش ہیں کیونکہ اس سے ان کے لیے اپنے بچوں کو تعلیم دلانا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "تعلیم مہنگی ہے لیکن ہم خواندگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں جس سے ہم غریب خواتین کسان ہونے کے ناطے بچپن میں محروم رہ گئیں۔ ہم نے ہمیشہ زرعی آلات اپنے پاس رکھے ہیں لیکن ہم چاہتی ہیں کہ ہمارے بچے تعلیم کے ذریعے کامیاب ہوں اور دوسروں کی طرح ملازمتیں حاصل کریں۔"