In this file photo, taken on July 24, 2017, Pakistani Muslims wait to pass security as the first pilgrims for the annual Hajj pilgrimage arrive in Jeddah. (Photo courtesy: AFP/File)

حکومت پاکستان نے قسطوں پر حج اخراجات کی ادائی کی سہولت متعارف کروا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی چوہدری سالک حسین نے حج پالیسی 2025 ء کا باضابطہ اعلان کر دیا جس میں عازمین حج کے لیے اخراجات کی مد میں ادائی قسطوں میں کرنے کی سہولت متعارف کروائی گئی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سال 2025ء کیلئے پاکستان کا حج کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 ہے جس میں سرکاری و نجی حج سکیموں کیلئے کوٹہ کی تقسیم کا تناسب 50 ،50 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری و نجی حج سکیموں کیلئے 89 ہزار 605 سیٹیں مختص کی گئی ہیں۔

چوہدری سالک کا کہنا تھا کہ سرکاری حج سکیم کے اخراجات10 لاکھ 75 ہزار روپے سے 11 لاکھ 75 ہزار روپے کے درمیان متوقع ہیں،

حج سکیم کے مطابق سرکاری سکیم کیلئے حج واجبات2 لاکھ روپے کی پہلی قسط حج درخواست کے ساتھ جمع کرانا ہو گی، قرعہ اندازی کے دس دن کے اندر اندر 4 لاکھ روپے اور بقیہ رقم ایک تا 10 فروری 2025 ء کے درمیان جمع کرانا لازمی ہو گا، سرکاری حج سکیم میں سپانسر شپ سکیم میں 5 ہزار نشستیں مختص رکھی جائیں گی، سپانسر شپ سکیم میں شمولیت کیلئے بینکنگ چینل کے ذریعے بیرون ملک سے زر مبادلہ بھجوانا لازم ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ نجی حج سکیم میں سپانسر شپ سکیم کیلئے 30 ہزار نشستیں مختص ہوں گی، سرکاری سپانسر شپ سکیم پہلے آئے پہلے پائیے کے اصول پر اور قرعہ اندازی سے استثنیٰ ہوگی، سرکاری حج سکیم کیلئے روایتی لانگ پیکیج 38 تا 42 دن اور شارٹ پیکیج 20 تا 25 دن پر محیط ہو گا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ سپانسر شپ سکیم کے ذریعے جمع شدہ زرمبادلہ صرف اور صرف سعودی عرب میں حج سے متعلقہ اخراجات کی ادائیگی کیلئے استعمال ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی تعلیمات کے مطابق ہر منظم، نجی حج گروپ کم از کم 2000 حجاج پر مشتمل ہو گا جس کی کئی وجوہات ہیں ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عمومی طور پر ایسا ہوتا تھا کہ کوئی 10، 20 یا 100 بندوں کو لے کر جاتا تھا اور وہاں جا کر رہائش لینے میں بھی دشواری ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب 2 ہزار کا گروپ ہو گا اس سے جگہیں بھی بہتر مختص مل جائیں گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک اور نئی چیز شامل کی گئی ہے کہ دوران حج اگر کوئی حاجی وفات پا جاتا ہے تو 10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جاتا تھا جسے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے اور اگر کوئی بڑی انجری ہوتی ہے تو اس کی بھی رقم بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یقیناً حج آسان نہیں ہوتا اس میں مشکلات ہوتی ہیں لیکن گذشتہ سال کا حج ماضی کی نسبت کافی بہتر تھا اور اس مرتبہ ہماری کوشش ہے کہ اسے مزید بہتر بنایا جائے اور کم سے کم شکایات سامنے آئیں۔ حج 2025ء کیلئے سرکاری حج سکیم کے اخراجات10 لاکھ 75 ہزار روپے سے 11 لاکھ 75 ہزار روپے کے درمیان متوقع ہیں اضافی سہولیات میں قربانی کی رقم55 ہزار روپے ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ درخواستوں کی وصولی کی آخری تاریخ سے قبل پیسے واپس لینے کی صورت میں کوئی کٹوتی نہیں ہو گی جبکہ قرعہ اندازی کے بعد پہلی قسط واپس لینے کی صورت میں 50 ہزار روپے کٹوتی ہو گی اور تیسری قسط جمع نہ کرانے کی صورت میں 2 لاکھ روپے کٹوتی ہو گی۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ 10 فروری کے بعد نہ جانے کی صورت میں بقیہ رقم واپس نہیں ہو گی، درخواست گزار کی فوتگی کی صورت میں مذکورہ بالا کٹوتی عمل میں نہیں آئے گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں