نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار غزہ امداد روانگی کے موقع پر خطاب کر رہے ہیں: این ڈی ایم اے
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر نگرانی پاکستان کی جانب سے غزہ کے لیے انسانی ہمدردی پر مبنی 17ویں امدادی قافلے محصورین غزہ کے لیے امداد لے کر روانہ ہوا۔ اس قافلے میں 100 ٹن ضروری امدادی سامان شامل ہے، جن میں خوراک، طبی سامان اور بچوں کے لیے خشک دودھ نمایاں ہیں۔
امدادی سامان کی ترسیل پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے عمل میں آئی، جو غزہ میں متاثرہ عوام تک امداد پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب غزہ میں غذائیت کی قلت کے شکار بچوں کی تصاویر کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر مذمت جاری ہے اور امدادی نتظیموں نے اسرائیل کی طرف سے امداد کی معمولی ترسیل کو ناکافی قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ نے جمعہ کو کہا کہ غزہ کی پٹی میں 27 مئی سے امداد کے انتظار میں تقریباً 1400 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج اس کی تردید کرتی ہے۔
اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ "پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ جنگ بندی ہونی چاہیے اور معصوم شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔"
انہوں نے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان نہ صرف انسانی امداد بلکہ سفارتی محاذ پر بھی فلسطینی کاز کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان اب تک غزہ کے لیے متعدد امدادی قافلے بھیج چکا ہے، جو انسانی ہمدردی کے جذبے کا مظہر ہیں۔
این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ اس نے فلسطین کے لیے 100 ٹن امدادی سامان لے کر پرواز اتوار کی شام اسلام آباد ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی جس میں "ایک سو ٹن امداد ایک خصوصی پرواز کے ذریعے عمان، اردن پہنچ جائے گی۔ سامان کھانے کی اشیاء اور ادویات پر مشتمل ہے۔"
"این ڈی ایم اے خصوصی پروازوں کے ذریعے کل 200 ٹن امدادی سامان فلسطین بھیجے گا۔ اتھارٹی نے اب تک فلسطین کو کل 1,715 ٹن امداد بھیجی ہے۔"
پاکستان نے گذشتہ ماہ غزہ بحران پر دوبارہ عالمی توجہ مرکوز کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کا استعمال کیا۔