پاکستان کی پارلیمنٹ[ اے ایف پی]
قومی اسمبلی نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا
قومی اسمبلی نے بدھ کو 27ویں آئینی ترمیم بل واضح اکثریت سے منظور کر لیا۔ ترمیم کے حق میں 234 جبکہ مخالفت میں چار ووٹ ڈالے گئے ہیں۔
قومی اسمبلی نے بدھ کو 27 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کا عمل مکمل کرتے ہوئے تمام 59 شقیں منظور کر لیں۔ اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف بھی ایوان زیریں کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی سید خورشید شاہ ویل چئیر پر پارلیمنٹ پہنچے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم کی تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے خدوخال سینیٹ میں پہلے ہی منظور کیے جا چکے تھے تاہم مسودے میں معمولی کمی بیشی کی وجہ سے اسے دوبارہ قومی اسمبلی میں پیش کرنا ضروری تھا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ قانون اور آئین میں ترامیم ایک ارتقائی عمل ہیں اور اس ترمیم کے تحت جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس پاکستان رہیں گے۔
قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم پر شق وار ووٹنگ کا عمل شروع ہوا تو حزب اختلاف نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ اپوزیشن ارکان نے سپیکر ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا۔
جے یو آئی نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ 27 ویں آئینی ترمیم کی حمایت میں 231 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ ترمیم کی مخالفت میں چار ووٹ آئے۔ اپوزیشن ارکان نے قومی اسمبلی سے واک آئوٹ کیا۔
ترمیم پر شق وار ووٹنگ کے دوران 233 ارکان نے حمایت میں جبکہ صرف چار ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا، جمعیت علمائے اسلام نے ترمیم کے خلاف ووٹ دیا، حکومت کے بینچز پر موجود 233 اراکین میں سے 224 ارکان کی حمایت ترمیم کے لیے ضروری تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم منظور کروانے کی پوزیشن مستحکم ہے۔
ذرائع کے مطابق سینیٹ سے بل کی منظوری کے بعد معمولی ترامیم کے بعد دوبارہ قومی اسمبلی میں منظوری سے ترمیم کا قانونی اور آئینی عمل مکمل ہو گیا ہے اور اب عدلیہ کی سربراہی کے حوالے سے واضح پالیسی نافذ العمل ہو جائے گی۔
27 ویں آئینی ترمیم کے بعد اب صدر مملکت کو طویل عرصے تک اہم قومی اور آئینی فیصلوں میں رہنمائی فراہم کرنے اور چیف آف آرمی اسٹاف کو آئینی دائرہ اختیار کے مطابق فوجی امور کی سربراہی کے لیے واضح قانونی استحقاق حاصل ہو گا۔
27 ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے میں ملک کے عدالتی اور عسکری نظام میں نمایاں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ ترمیم کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ ختم کر کے چیف آف ڈیفنس فورسز کے نام سے ایک نیا عہدہ قائم کیا جائے گا۔ اسی طرح فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کے عہدے تاحیات برقرار رہیں گے۔
ترمیم کے مطابق ملک میں ایک وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) قائم کی جائے گی، جس میں تمام صوبوں کو برابر نمائندگی دی جائے گی۔ اس عدالت کو از خود نوٹس (suo moto) لینے کا اختیار بھی حاصل ہو گا جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک جج اس کے بینچ میں شامل ہو گا۔
نئی عدالت کے ججوں کی تقرری میں صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے چند اختیارات بھی اس نئی آئینی عدالت کو منتقل کر دیے جائیں گے۔
مزید یہ کہ صدرِ مملکت کو مدتِ صدارت ختم ہونے کے بعد کسی عوامی عہدے پر فائز ہونے کی صورت میں استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا۔ آئینی عدالت میں تقرری کے لیے امیدوار کا ہائی کورٹ میں کم از کم پانچ سالہ تجربہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ججوں کے تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا جائے گا، جبکہ تبادلوں سے متعلق اعتراضات سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرِ غور آئیں گے۔
قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری پاکستان کی آئینی و ادارہ جاتی تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد ملک کے عسکری اور عدالتی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔
خیال رہےکہ اپوزیشن جماعتوں نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر ضروری اور سیاسی بنیادوں پر مبنی قرار دیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام سمیت دیگر اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ ترمیم سے عدلیہ اور فوج کے اختیارات پر غیر ضروری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور یہ آئینی توازن کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ملک کے آئینی اور قانونی امور میں یکطرفہ فیصلے کرنے کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔