وزیر اعظم شہباز شریف 13 دسمبر، 2025 کو اسلام آباد میں نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں(شہباز شریف/فیس بک)

پاکستان بحران سے نکل آیا، معاشی اشاریے بہتر ہو چکے ہیں: وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک معاشی بحران سے نکل چکا ہے، ترقی کی جانب رواں دواں ہیں، ادارہ جاتی اصلاحات سے گڈ گورننس میں اضافہ ہو گا، نوجوان قیمتی اثاثہ ہیں، فنی ٹریننگ دے کر برسر روزگار کریں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف آج بروز ہفتہ اسلام آباد میں نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کا افتتاح کر رہے تھے۔ ریگولیٹری اصلاحات کا مقصد قانون سازی میں تبدیلیاں اور انتظامی اصلاحات متعارف کرانا ہے تاکہ منظوریوں کے عمل کو آسان بنایا جا سکے، دستاویزات کو ڈیجیٹل کیا جائے اور فرسودہ کاروباری قوانین ختم کیے جا سکیں۔

اس موقع پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، معاون خصوصی ہارون اختر، برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی دی رائیٹ آنر ایبل بیرونیس چیپمین، اراکین پارلیمنٹ، کاروباری شخصیات و دیگر بھی موجود تھے۔

نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج کی یہ تقریب محض ایک پالیسی اقدام نہیں بلکہ ایک تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ کاروباری طبقہ اور عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے ریگولیٹری اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے، سرمایہ کار، صنعت کار اور تاجر برادری پیچیدہ قوانین، غیر ضروری ضوابط اور طویل سرکاری طریقہ کار کے باعث شدید مشکلات کا شکار تھے، تاہم نیا ریگولیٹری فریم ورک ایک کوانٹم جمپ ثابت ہوگا، جس سے نہ صرف کاروباری برادری بلکہ عام شہریوں کے دیرینہ مسائل بھی حل ہوں گے۔

وزیرِ اعظم نے ماضی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملکی معیشت زبوں حالی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ پالیسی ریٹ نے معاشی سرگرمیوں کو مفلوج کر رکھا تھا، مہنگائی بے قابو تھی، کاروبار جمود کا شکار تھے اور بیرونی سرمایہ کاری تقریباً رک چکی تھی، ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا، مگر حکومت نے مایوسی کے بجائے حوصلے، حکمت عملی اور ٹیم ورک کے ساتھ ان چیلنجز کا مقابلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل محنت اور درست فیصلوں کے نتیجے میں آج پاکستان معاشی بحران سے نکل آیا ہے۔ معاشی اشاریے نمایاں طور پر بہتر ہو چکے ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور سرمایہ کاری میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، پشاور سے کراچی تک معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اور عالمی ادارے بھی پاکستان کی مثبت پالیسیوں کے معترف ہیں، بہتر حکمت عملی کے باعث آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری بھی دی گئی ہے، جس سے آئندہ دنوں میں معاشی استحکام مزید مضبوط ہو گا۔

شہباز شریف نے نوجوانوں کو ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں روزگار کے قابل بنانے کے لیے فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، آسان کاروبار اسکیم سمیت مختلف پروگراموں کے ذریعے ہزاروں نوجوان فائدہ اٹھا رہے ہیں، اس تربیت کے نتیجے میں نوجوانوں کو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، جس سے بیروزگاری میں کمی اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

برطانیہ کی وزیر برائے ترقی جینی چیپمین 13 دسمبر، 2025 کو اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کر رہی ہیں (پی آئی ڈی)

وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ تعلیم، زراعت، صنعت، صحت اور سماجی شعبے سمیت مختلف میدانوں میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، حکومت عوامی مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور دن رات محنت کر رہی ہے تاکہ ملک کو ترقی کی شاہراہ پر مزید تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے، اسی مقصد کے تحت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، امریکہ اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مختلف شعبوں میں بھرپور تعاون جاری ہے۔ وزیرِ اعظم کے مطابق حکومت کا ہدف پاکستان کو جلد ایک مضبوط معاشی قوت میں تبدیل کرنا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں