بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر 28 دسمبر 2025 کو ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس سے ملاقات کر رہے ہیں۔ (@ChiefAdviserGoB/X)
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارتی، سرمایہ کاری و فضائی رابطے بڑھانے پر بات چیت
ڈھاکہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے اتوار کے روز بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس سے جعمہ کے روز ملاقات کی ہے۔
پاکستانی ہائی کمشنر نے بنگلہ دیش کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور فضائی رابطے کے سلسلے میں تعلقات کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش 1971 سے پہلے ایک ہی ملک تھے اور پاکستان کا قیام اس سیاسی جماعت کی قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر قیادت ثمر کا نتیجہ تھا جس کی بنیاد ڈھاکہ میں 1906 میں رکھی گئی تھی۔ قیام پاکستان کی قرارداد بھی شیر بنگال نے ہی پیش کی تھی۔
تاہم دونوں کے درمیان حسینہ واجد کے دور حکومت میں تعلقات کم خوشگوار رہے۔ حسینہ واجد کی 5 اگست 2024 کو اقتدار سے عوامی احتجاج کے بعد علیحدگی نے بنگلہ دیش اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔
دونوں ملک ڈاکٹر محمد یونس کے زیر قیادت ایک دوسرے کے دفاعی ، تجارتی، سرمایہ کاری اور فضائی شعبے میں تعلقات کے فروغ کے لیے پیش رفت کر رہے ہیں۔
اتوار کے روز پاکستان کے ہائی کمشنر کی ڈاکٹر محمد یونس سے ملاقات بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔
دونوں ملک آئندہ ثقافتی و تعلیمی شعبے کے علاوہ صحت کے شعبے میں بھی تعاون اور روابط کو فروغ دینے کی کوشش میں ہیں تاکہ دو طرفہ تعلقات کو ہمہ پہلو بنایا جا سکے اور ایک دوسرے کے لیے مفید تر ثابت ہو سکیں۔
ڈاکٹر محمد یونس بٹ کے دفتر نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک بیان بھی دیا ہے۔
2023 اور 2024 کے درمیان پاکستان نے بنگلہ دیش کو 661 ملین ڈالر کی اشیاء برآمد کیں۔ دوسری جانب بنگلہ دیش نے پاکستان کو 57 ملین ڈالر کی اشیاء برآمد کیں۔ یہ ڈیٹا پاکستان کی ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اسی سال ماہ اگست میں جاری کیا ہے۔
دونوں ملکوں کے وزرائے تجارت نے اسی سال ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے تھے۔ جس کے تحت مشترکہ تجارتی گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ تاکہ دو طرفہ تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مکمل کیا جا سکے۔
پاکستانی ہائی کمشن کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ ہچھلے سال کے مقابلے میں ایک بڑی ہیش رفت ہے۔ دونوں ملکوں کی بزنس کمیونٹیز اور سرمایہ کار اپنے لیے امکانات کی تلاش میں ہیں اور دو طرفہ دورے کیے جا رہے ہیں۔
اس دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان عوامی سطح پر روابط میں اضافہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔ غیر معمولی بات یہ ہے کہ حسینہ واجد اور ان کے والد کے زمانے میں پاکستان کے بارے میں جو بیانیہ روبعمل رہا پاکستان کی نئی نسل اس سے اپنے آپ کو الگ ظاہر کر رہی ہے۔ بنگلہ دیشی سٹوڈنٹس بھی پاکستان کی یونیورسٹیوں میں تعلیم کے لیے دیکھنے لگے ہیں۔ میڈیکل کے شعبے کی تعلیم، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں حصول تعلیم کے امکانات زیادہ ہیں۔
علاوہ ازیں ثقافتی و ملی سطح پر بھی دونوں ملکوں کے درمیان رابطے بہتر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے ڈھاکہ اور کراچی کے درمیان براہ راست پروازوں کے لیے بھی امکان ظاہر کیا ہے۔
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر یونس نے اس سلسلے میں پاکستان کے اینیشٹوز کا خیر مقدم کیا ہے۔ نیز ہر شعبے میں دو طرفہ رابطوں کے بڑھنے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
خیال رہے دونوں برادر ملک سارک کے بھی بانی ارکان میں شامل ہیں۔
چیف ایڈوائزر ڈاکٹر یونس نے ہائی کمشنر عمران حیدر کی تجارتی و سرمایہ کاری ، تعلیمی و ثقافتی میدانوں میں تعلقات کو بڑھانے کی کوششوں کو سراہا اور توقع ظاہر کی کہ ان کی سفارتکاری کے دوران دونوں برادر ملک تعاون اور سرمایہ کاری کے مذید شعبوں کو باہم مفید بنائیں گے۔