پاکستانی فوجی 19 مارچ 2026 کو صوبہ بلوچستان کے شہر چمن میں پاکستان-افغان سرحد پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ (اے ایف پی/ فائل)

فروی 2026 سے اب تک پاکستانی کارروائیوں میں 800 دہشت گرد ہلاک ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف افغانستان میں کی گئی کارروائیوں میں 800 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ یہ کارروائیاں پاکستان کے آپریشن غضب کے تحت کی گئی ہیں، جو 26 فروری سے شروع کیا گیا۔ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان یہ کئی دہائیوں کی شدید ترین جھڑپیں ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو اپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہے۔ جو پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ بات وزیر اطلاعات نے اتوار کے روز کہی۔ ان کے مطابق 26 فروری سے اب تک 796 دہشت گرد ہلاک کیے۔ اس دوران 286 سرحدی چوکیاں تباہ کی گئیں۔ جبکہ 44 کو قبضے میں لی گئی ہیں۔ان میں پاکستان کی طرف سے 2 اور 3 اپریل کو کی گئی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب افغان طالبان کی حکومتوں کا کہنا ہے کہ ان پاکستانی کارروائیوں میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دونوں اطراف نے عیدالفطر کے لیے کی گئی جنگ بندی کے بعد 25 مارچ سے دوبارہ کارروائیاں شروع ہو گئی ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں