28 جنوری 2025 کو اسلام آباد، پاکستان میں، ایک صحافی کو روکنے کے دوران پولیس افسران کا رد عمل، جو دوسروں کے ساتھ، پریس کی آزادی کو روکنے اور ڈیجیٹل منظر نامے کو کنٹرول کرنے کے خلاف احتجاج کر رہا ہے۔ (رائٹرز/فائل)
سال 2025 میں مقامی صحافیوں کے خلاف 125 سے زائد واقعات : مقامی میڈیا واچ ڈاگ
پاکستان کے صحافیوں کے ساتھ پچھلے سال کے ماہ اپریل سے رواں سال کے ماہ مارچ کے دوران مجموعی طور پر 125 ایسے واقعات ہوئے، جن میں یہ صحافی تشدد کا نشانہ بنائے گئے، ان کے اظہار کی آزادی کا حق کچلا گیا، انہیں روزگار سے فارغ کیا گیا یا ان کے قتل تک کے واقعات بھی ہوتے رہے۔
یہ بات مقامی سطح پر کام کرنے والی ایک تنظیم کی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ بدھ کے روز غیر رسمی طور پر سامنے لائی گئی ہے۔ اس کا باضابطہ اجرا 3 مئی کو آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر کیا جانا ہے۔ غیر رسمی طور پر سامنے لائی گئی اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کے خلاف انضباطی کارروائیوں، قانون کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش، پیکا ایکٹ تحت یا دیگر اداروں کی مدد سے نشانہ بنایا گیا۔
ان واقعات کے باعث پاکستان تیزی سے ان ملکوں میں شامل ہو رہا ہے جنہیں صحافیوں کے لیے خطرناک مانا جاتا ہے۔ ایسے ملکوں میں صحافیوں کو حکومتی اور ریاستی اداروں کی جانب سے ان الزامات کا سامنا رہتا ہے۔ یہ صحافی لوگ دباؤ کا شکار بنائے جاتے ہیں۔ انہیں دھمکایا جاتا ہے اور یہاں تک کہ جسمانی تشدد کا ہدف بھی بنتے ہیں یا پھر ان کے لیے روزگار تنگ کر دیا جاتا ہے۔ ان کی آمدنی اور ملازمت ختم کرا دی جاتی ہے۔ گویا ان کی زندگی، جبر اور دباؤ کے ہتھکنڈوں کے باعث مشکلات میں رہتی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں حکومت اور فوج سے متعلق حکام ایسے واقعات میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں۔ جیسا 'فریڈم نیٹ ورکس' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان میں کم از کم 129 واقعات کو باقاعدہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مختلف شہروں اور قصبات میں ان میڈیا ورکرز کو پیش آنے والے واقعات میں سے دو تہائی واقعات ایسے ہیں جن میں انہیں دھمکیوں یا تشدد کا سامنا رہا۔ یہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ 129 واقعات میں 2 ایسے واقعات بھی شامل ہیں جو صحافیوں کی ہلاکت کا ذریعہ بنے اور انہیں قتل کیا گیا۔ جبکہ 5 مختلف صحافیوں کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ 58 قانونی مقدمات درج کیے گئے۔ زیادہ تر کا تعلق الیکٹرانک میڈیا سے متعلق ایکٹ کے تحت تھا۔ 11 واقعات میں ان دھمکیوں کے ساتھ ساتھ نقصان پہنچایا گیا۔ جبکہ 2 واقعات میں جبری اغوا یا لاپتہ کرنے کو رپورٹ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے واقعات کو بھی آزادی صحافت کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا۔ جن میں صوبہ پنجاب، صوبہ بلوچستان، صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ سندھ شامل ہیں۔ اس عرصے میں سب سے زیادہ اہم واقعات کا سامنا صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کے صحافیوں کو ہوا۔ جبکہ صحافیوں کے قتل کے واقعات صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان میں رپورٹ کیے گئے۔
ان واقعات میں 60 فیصد ایسے ہیں جن میں ذمہ دار ریاستی حکام کو بنایا گیا ہے۔ جنہوں نے قانونی حراست کے دوران صحافیوں کو ٹارگٹ کیا۔ جبکہ غیر ریاستی عناصر نے صحافیوں کو قتل کی دھمکیاں دیں۔
'فریڈم نیٹ ورک' کے مطابق خواتین جرنلسٹوں کو بھی مختلف مسائل کا سامنا رہا۔ ان خواتین کو عمومی واقعات کے علاوہ دفتروں میں بھی مشکلات سہنا پڑیں۔ رپورٹ کے مطابق پیکا ایکٹ جس کا آغاز 2016 میں سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے کیا گیا تھا، میاں شہباز شریف کی زیر قیادت حکومت نے 2025 میں اسے اظہار آزادی کے خلاف زیادہ مؤثر قانون بنا دیا اور اس میں فوجداری مقدمات کی گنجائش بھی پیدا کر لی۔
پیکا ایکٹ کو زیادہ مؤثر بنانے کے باعث صحافیوں میں خوف کی فضا بڑھی اور انہیں مجبور ہونا پڑا کہ وہ 'سیلف سینسر' کا شکار ہوں تاکہ کسی بھی قسم کی حکومتی یا قانونی کارروائی سے بچ سکیں۔ یہ بات 'فریڈم نیٹ ورکس' کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے بتائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں میڈیا پرسن کے لیے یہ آج کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔ جبکہ پاکستان کی حکومت یہ وعدہ کرتی ہے کہ وہ صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرے گی۔
پچھلے سال 2 نومبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے صحافیوں کو جرائم سے تحفظ دینے کے لیے آواز اٹھانے کے دن کے موقع پر کہا تھا کہ ہم وہ تمام اقدامات کریں گے جو صحافیوں کو تحفظ دے سکیں اور صحافی اپنا کام جاری رکھ سکیں۔