ایک ویڈیو کے سکرین گریب میں مظاہرین 19 مئی 2026 کو کراچی میں احتجاج کے دوران اسرائیل کے زیرِ حراست پاکستانی کارکن سعد ایدھی اور دیگر رضاکاروں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ (سکرین گریب/رائٹرز)
اسرائیل کی غزہ فلوٹیلا میں مداخلت کے بعد پاکستان میں مظاہرہ، کارکنان کی رہائی کا مطالبہ
کارکن سعد ایدھی کے والد نے عالمی فورمز پر احتجاج کرنے کی اپیل کر دی
پچاس کے قریب مظاہرین منگل کو کراچی پریس کلب میں جمع ہوئے اور پاکستانی کارکن سعد ایدھی اور دیگر رضاکاروں کی رہائی کا مطالبہ کیا جنہیں اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کو روکنے کے بعد حراست میں لے رکھا ہے۔
مظاہرے میں عالمی صمود فلوٹیلا کی کشتیوں پر اسرائیل کے قبضے کی مذمت کی گئی جو فلسطینیوں کے لیے طبی سامان اور خوراک لے جا رہی تھیں۔
سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج نے پیر (18 مئی) کو قبرص کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کی بعض کشتیاں روک لیں جو اسرائیل سے تقریباً 500 کلومیٹر دور ہے اور بین الاقوامی پانیوں میں گرفتاری کرنے کا اُسے کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔
فیصل ایدھی نے کہا، "اسرائیل کو ان پانیوں میں گرفتاریاں کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس لیے میں پاکستانی حکومت سے درخواست کروں گا کہ وہ اس پر بین الاقوامی سطح پر احتجاج کرے اور اسرائیل کی ریاست پر سعد اور دیگر کارکنان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالے۔
اسرائیلی فوج نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ ماضی کی مداخلتوں کے لیے اسرائیل نے غزہ میں سکیورٹی خدشات اور بحری ناکہ بندی کو وجہ قرار دیا تھا۔
سعد ایدھی پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم چلانے والے ایدھی خاندان کے ایک فرد ہیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے حکام نے اس پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔