6 اپریل 2023 کو کراچی کی ایک سمندری بندرگاہ پر جہاز پر جہاز کے کنٹینرز کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ (اے ایف پی/ فائل)

پاکستان: جہاز رانی کے توسیعی منصوبے، بندر گاہوں پر سعودی سرمایہ کاری کے لیے کوششیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی طرف سے بندر گاہوں کے نظام کو وسعت دینے کے لیے بدھ کے روز سرمایہ کاری کے امکانات کو اہم سعودی کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں کے سامنے رکھا گیا ہے۔ یہ کوشش پاکستان کے جہاز رانی کے شعبے کو بڑھاوا دینے کے نئے منصوبوں کے میں رنگ بھرنے کی خاطر کی جارہی ہے۔

پاکستان کی خواہش ہے کہ خطے میں نئی پیدا شدہ صورت حال میں اپنے جہاز رانی کے شعبے کو پہلے کے مقابلے میں مضبوط کرے اور ایک اچھی آپشن کے طور پر دنیا کے سامنے موجود رہے۔

سعودی سرمایہ کاروں اور اہم کاروباری شخصیات کے ساتھ اس سلسلے کے ممکنہ منصوبے شیئر کیے گئے ہیں۔ انہیں جہاز رانی کے لیے پاکستان میں موجود وسیع مواقع کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے۔ تاکہ جنوبی ایشیا سے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں ہر جگہ تک رسائی کے لیے میری ٹائم رابطے موثر اور فعال بنائے جا سکیں۔

پاکستان کے اعلیٰ حکام نے اس مقصد کے لیے ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں کو 'لینڈ لاکڈ 'وسطی ایشیا کے لیے ایک گیٹ وے بنانے کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔ اس سلسلے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں سے سرمایہ کاری کرنے کے لیے بھی رابطے کیے جارہے ہیں۔ تاکہ بندر گاہوں کی گنجائش بڑھانے کے علاوہ لاجسٹکس نیٹ ورکس اور انفراسٹرکچر کو مضبوط کیا جا سکے۔

جہاز رانی کے امور کے وزیر جنید انور پاک سعودی بزنس کونسل کے سربراہ منصور بن محمد السعود کے ساتھ ویڈیو لنک پر رابطہ کر کے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ ویڈیو لنک پر مملکت کے متعلقہ کئی دیگر ارکان اور بزنس کمیونٹی کے لوگ موجود تھے۔

اس میٹنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان میری ٹائم سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے بہترین ہے اور پاکستان امکانی طور پرسرمایہ کاری کے لیے زیادہ موزوں لوکیشن کا درجہ رکھتا ہے۔ اس ویڈیو لنک پر ہونے والی ملاقات کے سلسلے میں بعد ازاں اسلام آباد میں وزارت نے باضابطہ پریس ریلیز بھی جاری کیا ہے۔

وزیر جہاز رانی جنید انور نے کہا سعودی ویژن 2030 کے تحت اس شعبے میں پاکستان اور سعودی عرب میں باہمی تعاون و سرمایہ کاری کے بڑے مواقع ہیں۔ جو دونوں ملکوں کے لیے طویل مدتی مفاد میں ہے۔ ملاقات میں شامل حضرات نے کراچی کی بنر گاہ پر سرمایہ کاری کے امکانات کے علاوہ پورٹ قاسم ، گوادر پورٹ، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اور کورنگی فش ہاربر اتھارٹی میں سرمایہ کاری کے لیے امکانات کو ڈس کس کیا۔

پاکستان کے وزیر نے کہا سعودی سرمایہ کار ان تجویز کردہ منصوبوں کے علاوہ بھی منصوبوں کو اپنی دلچسپی کا موضوع بنا سکتے ہیں۔ کیونکہ پاکستان میں جہاں جہاز رانی کے لیے وسیع پوٹینشل موجود ہے وہیں پاکستان کے پاس جگہ جگہ مواقع بھی دستیاب ہیں کہ اس شعبے میں روپیہ لگایا جا سکے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں