اسرائیلی فوجی حملے کے بعد جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں بے گھر فلسطینی 14 جون 2026 کو اپنے خیمہ گھروں پر سے ریت اور ملبہ ہٹا رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

اسلامی سالِ نو کے آغاز پر پاکستان کا فلسطینیوں کی حمایت کے عزم کا اعادہ

شہباز شریف نے مصیبت زدہ اقوام سے اظہارِ یک جہتی، پرامن بقائے باہمی کی امید کا اظہار کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی سالِ نو کا آغاز ہونے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس ہفتے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد فلسطینیوں کے حقوق کے لیے اپنی حمایت برقرار رکھے گا۔

پاکستان نے اسرائیل کو غزہ اور مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں پر مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سات اکتوبر 2023 سے اسرائیل اب تک صرف غزہ میں 70,000 سے زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے اور اس پر گذشتہ سال حماس سے ہونے والی ایک نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔

منگل کو اسلامی مہینے محرم الحرام کا آغاز ہوا اور اس کے ساتھ ہی نئے اسلامی سال 1448 ہجری کی آمد ہوئی۔ شہباز شریف نے اس موقع پر قوم اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے فوراً بعد نئے سال کا آغاز ہو گیا۔

شہباز شریف کے دفتر نے منگل کو ان کے حوالے سے کہا، "نئے سال کے آغاز پر ہم اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ تمام دنیا میں مصیبت زدہ لوگوں خاص طور پر فلسطین اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے حقوق کی حمایت میں مضبوطی سے کھڑے ہوں گے۔"

انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیا سال تمام دنیا میں امن و سلامتی، رواداری، باہمی ہم آہنگی، پرامن بقائے باہمی اور انسانیت کے تحفظ کا ضامن ہو گا۔

شہباز شریف نے کہا، امریکہ اور ایران کے درمیان قیامِ امن کے لیے پاکستان کی کوششوں پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے کہا، "مذاکرات، افہام و تفہیم اور پرامن سفارت کاری کا راستہ اسلام کی تعلیمات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کے عظیم نمونے کی عکاسی کرتا ہے۔"

انہوں نے قوم سے نئے اسلامی سال کے آغاز پر ایمانداری، محنت، باہمی احترام، رواداری اور قومی اتحاد کو فروغ دینے کا عہد کرنے کی اپیل کی اور کہا،

"آئیے، اپنے کردار اور عمل کے ذریعے پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی میں مثبت کردار ادا کریں۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں