ایرانی مال بردار ٹرک 18 جون 2025 کو صوبہ بلوچستان کے علاقے تفتان میں پاکستان-ایران سرحد میں داخل ہوئے۔ (اے ایف پی/ فائل)
پاکستان اور ایران نے جمعرات کے روز اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ملکوں کو باہمی ریل رابطوں اور سڑکوں کے بہتر نظام کے حوالے سے مضبوط کیا جانا چاہیے۔ تاکہ دو طرفہ ٹرانسپورٹ کے میکانزم کو تجارتی و معاشی مقاصد کے لیے اپ گریڈ کیا جائے۔
دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان یہ اتفاق حالیہ سفارتی رابطوں کے دوران سامنے آیا ہے۔ یہ سفارتی رابطے امریکہ ایران جنگ بندی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے بعد ہوئے، اس پس منظر میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا ایک اہم دورہ پاکستان بھی ہوا، ان کے ساتھ ایران کی اعلیٰ سطح کی ایک ٹیم بھی موجود تھی۔
یہ مفاہمانہ پیش رفت اسلام آباد میں وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور ایران کے سڑکوں اور شہری ترقی کے وزیر فرزانہ صادق کے درمیان ہوئی۔ یہ ملاقاتیں صدر پیزشکیان کے دورہ پاکستان کا ہی حصہ تھیں۔ صدر پیزشکیان نے اس موقع پر پاکستان کا خصوصی تشکر کیا کہ جس نے ایران کے خلاف جنگ رکوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
خیال رہے پاکستان اور ایران کے درمیان 900 کلو میٹر تک پھیلی ہوئی سرحد ہے۔ کئی برسوں سے دونوں ملک دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کی کوشش میں رہے ہیں۔ لیکن ایران کے خلاف امریکہ و یورپ کی معاشی پابندیاں آڑے رہیں۔
اب امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد ایک مستقل اور پائیدار معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ جبکہ ایران پر سے امریکی پابندیاں عارضی طور پر ہٹ گئی ہیں۔ ایران کو تیل کی پیداوار سے فروخت تک کے سب مراحل کی اجازت مل گئی۔ اس کے بدلے میں ایران نے آبنائے ہرمز کو ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔
پاکستان اور ایران کے وفود نے وزراء کے زیر قیادت مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔ ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے بھی پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے خطے میں امن لانے کے لیے ایک نہایت تعمیری کردار ادا کیا اور ایران کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کی تعریف کی۔