Vessels at the Strait of Hormuz, as seen from Musandam, Oman, June 15, 2026. (Reuters)

آبنائے ہرمز : جہازوں کو آزادانہ گزرنے دینا انتہائی ضروری ہے، پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے ہر جہاز کا بحفاظت اور آزادانہ گزرنا انتہائی اہم اور بنیادی ضرورت ہے، یہ حق پوری دنیا کے جہازوں کا ہے کہ انہیں آزادی سے گزرنے دیا جائے۔ ان کا یہ بیان حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں ایک جہاز پر ہونے والے حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔

اس سے قبل برطانوی فوج نے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سنٹر نے رپورٹ کیا تھا کہ ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم جہاز کا عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ نیز اس سے کوئی ماحولیاتی مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوا ہے۔ اسی واقعے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا تازہ تبادلہ سامنے آیا ہے۔

ادھر بحرین کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایران نے اس کے جزیرے پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ یہ ڈرون حملہ تہران کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران نے امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بارے میں کہا تھا۔ ان واقعات سے ایک بار پھر امریکہ و ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کا خوف پیدا ہو گیا ہے۔ مفاہمتی یادداشت میں بیان کردہ نکات پر اگلے مرحلے کے جنیوا مذاکرات کے بعد کی پیش رفت کے محض چند دنوں میں یہ خطرہ الارمنگ ہے۔

اس سے عالمی جہاز رانی اور تجارت کے لیے بھی خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ عالمی معیشت کو حالیہ جنگ سے لگنے والے دھچکے کے بعد ضروری ہے کہ اسے سنبھلنے کا موقع دیا جائے اور عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین کو زک نہ پہنچے۔ یہ بات ہفتے کے روز وزیراعظم پاکستان نے کہی ہے۔ انہوں نے ہفتے کے روز پاکستان نیول اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کے دوران کہا علاقائی سطح پر پیدا ہونے والی صورت حال عالمی سپلائی چین کو بہر حال متاثر کرے گی۔

ان کا کہنا تھا نیوی گیشن کی آزادی اور مفت راہداری دنیا میں جہاز رانی کے لیے انتہائی اہم ضرورتیں ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی نئی لہر ایک جہاز پر ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملے کے بعد ایران پر امریکی حملوں سے جمعرات کے روز شروع ہوئی ہے۔

اس سے قبل امریکہ اور ایران نے 18 جون کو پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر کے مستقل جنگ بندی اور امن کے لیے ایک فریم ورک کی طرف بڑھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فریم ورک کے تحت 60 دنوں میں 14 نکات پر عملی پیش رفت کے لیے مذاکرات اور کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ مذاکرات کا اس کھاتے میں ایک دور جنیوا میں ہو بھی گیا ہے۔ مگر اس مذاکراتی سیشن کے فوری بعد پھر کشیدگی کی فضا علاقائی سطح پر تکلیف دہ ہے۔

ایران نے اس امر پر اصرار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اس کی طرف سے احکامات سننا اور ماننا پڑیں گے۔ نیز یہ کہ ایران گزرنے والے جہازوں سے فیس بھی وصول کرے گا۔ امریکہ اور اس کی اتحادی خلیجی ریاستوں نے ایران کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔ کیونکہ ایران اور اومان کے علاقائی پانیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی آبی راہداری ہی خیال کیا جاتا ہے۔

امریکی بحریہ کے ماتحت ادارے کے طور پر راہداری کے امور کی نگرانی کرنے والی باڈی نے کہا ہے کہ جہازوں کے گزرنے کے لیے راہداری کو اومان ساحل کی طرف وسیع کیا جارہا ہے تاکہ اندرون ملک اور بیرون ملک جانے کی اجازت میسر رہے۔ ایران کے لیے یہ امریکی اعلان الارمنگ ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے ان کی حکومت پاک نیوی کو مضبوط تر اور مؤثر ترین بحری فورس بنانے کے لیے کمٹڈ ہے۔ تاکہ ملکی دفاع کو مستحکم رکھا جا سکے۔ نیز خطے میں جہاز رانی کے امور کو بھی استحکام دیا جا سکے۔ اس موقع پر انہوں نے پاک بحریہ کے آپریشن محافظ البحر کی تحسین کی اور کہا اس آپریشن کی بدولت امریکہ ایران جنگ کے دوران بھی توانائی کی فراہمی کا نظام بلا تعطل جاری رکھا جا سکا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں