26 نومبر 2025 کو پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی (بائیں) سعودی عرب کے شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی بن فیصل السعود کے ساتھ ریاض، سعودی عرب میں گفتگو کرتے ہوئے۔ (حکومت پاکستان/فائل)
مشرق وسطیٰ میں پھر کشیدگی، پاکستانی وزیر داخلہ سفارتی مشن پر سعودی عرب پہنچ گئے
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اہم سفارتی مشن پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ ان کا یہ دورہ امریکہ و ایران کے درمیان تازہ دو طرفہ حملوں کے بعد خطے میں صورت حال کے خراب ہونے کے پیش نظر شروع کیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری طور پر دورے کا کوئی ایجنڈہ نہیں بتایا گیا ہے۔
ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں میزائل حملے کیے ہیں۔ اس سے قبل پچھلے ہفتے ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک غیر ملکی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا تھا ، جس سے ایران امریکہ کشیدگی کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ایرانی پاسدارن انقلاب کور کی طرف سے اتوار کے روز کہا گیا ہے کہ اس نے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی مدد سے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ یہ اس کے باجود کیا گیا کہ امریکہ کے ساتھ ایران کا ایک عبوری امن معاہدہ طے پا چکا ہے۔ یاد رہے دونوں ملکوں میں مفاہمتی یادداشت پر 18 جون کو دستخط کیے گئے تھے۔
ایران کی طرف سے کویت اور بحرین میں کیے گئے ان حملوں کی سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ملکوں نے سخت مذمت کی ہے۔ نیز آبنائے ہرمز میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کے خلاف بھی سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی پیر کے روز سعودی عرب پہنچے ہیں۔ وزارت داخلہ پاکستان کے ایک ذمہ دار کے مطابق محسن نقوی کی اہم سعودی عہدے داروں کے ساتھ ملاقاتیں متوقع ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط تعلقات ہیں ، جبکہ پچھلے ہی سال پاکستان اور مملکت کا باہمی دفاعی معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب میں 8000 فوجی تعینات کیے ہیں۔
علاوہ ازیں جنگی طیاروں کا ایک سکواڈرن اور سعودی دفاع کے لیے ایک دفاعی نظام بھی منتقل کیا ہے۔ مغربی خبر رساں ادارے نے ماہ مئی میں رپورٹ کیا تھا کہ دونوں ملک باہمی فوجی تعاون کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
تاہم پیر کے روز پاکستان کی وزارت داخلہ کے ذمہ دار نے محسن نقوی کے سعودی دورے کی ملاقاتوں اور ایجنڈے کی تفصیلات کے بارے میں بات کرنے سے معذرت کر لی۔
پاکستان کے زیر قیادت خطے کے ملکوں قطر اور سعودی عرب کی مدد سے امریکہ ایران جنگ رکوانے کے لیے اہم سفارتی کرداد ادا کیا گیا ، اس میں بھی پاکستان کے وزیر داخلہ نے اہم کام کیا۔ وہ کئی بار ایران بھی اہم سفارتی مشنوں پر جا چکے ہیں۔ جس کے نتیجے میں 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر امریکہ و ایران نے دستخط کیے۔
امریکی حکام کے مطابق ایک اعلیٰ سطح کا امریکی وفد منگل کے روز ایران کے بارے میں بات چیت کرنے کے لیے قطر میں ہوگا۔ وفد کی قیادت سٹیو وٹکوف کریں گے۔ اس کے علاوہ امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت کے سلسلے میں تکنیکی امور پر بات چیت بھی قطر میں ہی متوقع ہے۔