A police officer walks past damage at the site, after militant attacks, in Quetta, Pakistan, February 1, 2026. (File photo: Reuters)

پاکستان: صوبہ بلوچستان میں تازہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث 75 دہشت گرد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سیکیورٹی حکام نے صوبہ بلوچستان میں رواں ہفتے کے دوران غیر معمولی دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں میں سے 75 کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ ہلاکتیں انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں کارروائیوں کے دوران کی گئی ہیں۔

صوبہ بلوچستان میں ایک عرصے سے دہشت گردانہ واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ ان واقعات کے حوالے سے پاکستان کا مسلسل موقف رہا ہے کہ یہ دہشت گرد 'فارن سپانسرڈ ' ہیں۔ انہی دہشت گردوں نے 5 جولائی سے پاکستان کے جنوب مغربی حصے میں مختلف جگہوں پر کارروائیاں کر کے سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو بڑی تعداد میں قتل کیا ہے۔ جواباً سیکیورٹی حکام نے ان کے خلاف کارروائیوں میں جمعہ کے روز تک 75 دہشت گرد ہلاک کیے ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان نے اسی ہفتے کے دوران ایک بریفنگ میں بتایا تھا کہ دہشت گردوں کی تازہ کارروائیوں میں 42 افراد شہید ہوئے جن میں زیادہ تر تعداد سیکیورٹی اہلکاروں کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی ہلاکتیں چار جولائی سے اب تک جاری کریک ڈاؤن میں ہوئی ہیں۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردوں نے ایک کارروائی مانگی کے علاقے میں کی تھی جس میں پولیس چوکی کو نشانہ بنایا گیا اور اسی علاقے میں بعد ازاں سیکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی کر کے درجنوں دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی فورسز نے 5 جولائی سے آپریشن شعبان کے نام سے کارروائیاں کرتے ہوئے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کی ہیں۔ تاہم سیکیورٹی حکام نے اپنا نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات شیئر کیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایک نئے شروع کیے گئے آپریشن شعبان میں کم از کم 38 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اس میں فوج نے فضائی اور زمینی دونوں طرح کی کارروائیاں کی ہیں۔ علاوہ ازیں سیکیورٹی حکام نے ایک اور پولیس سٹیشن پر بھی دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا ہے۔ دہشت گردوں کی طرف سے یہ حملہ خضدار کے علاقے زیدی میں جمعہ کی صبح کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

ہیلی کاپٹر کی مدد سے کیے گئے ایک سیکیورٹی آپریشن کے دوران پانچ سے چھ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا بتایا گیا ہے تاہم ابھی غیر جانبدار ذرائع سے اس واقعے میں ہلاکتوں کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں اس سے قبل دہشت گرد تنظیم 'بی ایل اے' کی کارروائیوں کی باز گشت ہوتی تھی۔ اب 'ٹی ٹی پی' نامی پرانی دہشت گرد تنظیم نے بھی افغانستان سے صوبہ بلوچستان میں کارروائیاں کی ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ پاکستان کا مشرقی پڑوسی ملک صوبہ بلوچستان میں ان کارروائیوں کی سرپرستی کرتا ہے، تاکہ بد امنی پیدا کر سکے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے، پاکستان کا یہ موقف دیرینہ ہے کہ اس دہشت گردی میں بھارت کے ساتھ افغان طالبان بھی شریک ہیں۔ تاہم وہ دونوں اس کی تردید کرتے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں