People ride a truck as they wade through floodwater following heavy monsoon rains at Landi Kotal in Pakistan’s Khyber Pakhtunkhwa province on July 20, 2026. (AFP)

خیبرپختونخوا میں مون سون بارشیں، 24 گھنٹوں کے دوران 12 اموات کی اطلاع

اگلے دو دن تک شدید بارشیں جاری رہنے کی پیش گوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خیبر پختونخواہ (کے پی) نے پیر کی شام کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش سے متعلقہ واقعات میں 12 افراد ہلاک ہوئے اور عوام کو خبردار کیا کہ وہ غیر ضروری سفر اور خطرناک سیاحتی مقامات پر جانے سے گریز کریں کیونکہ مون سون کی شدید بارشیں جاری ہیں۔

جون کے آخر میں موسمِ برسات شروع ہونے کے بعد سے ملک کی ڈیزاسٹر ایجنسیوں کے مطابق تازہ ترین اموات سے کے پی میں ہلاکتوں کی تعداد 35 تک پہنچ گئی ہے جس سے یہ اس موسم میں سب سے زیادہ متأثر ہونے والا صوبہ بن گیا ہے۔

کے پی کی صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شدید بارشوں اور طوفانی سیلاب کے باعث پشاور، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، زیریں چترال، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تور غر اور کرم کے اضلاع میں مکانات کی چھتیں اور دیواریں گر گئیں۔

بیان میں کہا گیا، "ہلاک شدگان میں چھے مرد، پانچ بچے اور ایک خاتون شامل ہیں" نیز 14 افراد زخمی ہوئے اور 14 مکانات کو نقصان پہنچا جن میں سے ایک مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

پی ڈی ایم اے نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے اور متأثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی جبکہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے بچاؤ اور امداد کی کارروائیوں میں مصروف رہے۔

لوگوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات سے دور رہیں اور حکام کی طرف سے جاری کردہ سرکاری مشوروں پر عمل کریں۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے گذشتہ ہفتے کے پی میں 19 سے 23 جولائی تک تیز ہواؤں، گرج چمک اور تیز بارش کی پیش گوئی کی اور ممکنہ سیلاب، تودے گرنے اور شہری سیلاب سے خبردار کیا تھا خاص طور پر پہاڑی اضلاع میں جہاں کمزور انفراسٹرکچر اور بستیاں شدید موسم کے انتہائی خطرے سے دوچار ہیں۔

قبل ازیں پیر کے روز نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 1300 گھنٹے تک کی روزانہ صورتِ حال کی رپورٹ میں کہا کہ مون سون شروع ہونے سے لے کر اب تک پورے ملک میں 47 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں جون سے ستمبر تک مون سون کی سالانہ بارشیں ہوتی ہیں لیکن موسمیاتی تبدیلی سے منسلک بے ترتیب اور شدید موسم سے سیلاب، تودے گرنے اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے خطرات بڑھ گئے ہیں خاص طور پر ملک کے پہاڑی شمال اور شمال مغرب میں جہاں کمزور سڑکیں، گھر اور عوامی بنیادی ڈھانچہ اکثر متأثر ہوتے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں