کانگریس کے ارکان مائیکل بومگارٹنر (دائیں) اور ریان زنکے (بائیں) پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کو انٹرویو دے رہے ہیں۔ (پاکستان ٹی وی)

امریکی ارکان کانگریس کی ایران جنگ میں ثالثی پر پاکستان کی تعریف

غزہ میں "تعمیری کردار" پر بھی پاکستان کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس ہفتے پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی کانگریس کے ایک وفد نے ایران جنگ کے دوران ثالثی کی کوششوں اور غزہ میں "تعمیری کردار" ادا کرنے پر ملک کی قیادت کی تعریف کی اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کے لیے امید کا اظہار کیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں پاکستان کے امریکہ سے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد اسلام آباد نے ثالثی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ رواں ماہ دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد فریقین کے درمیان ایک اور جنگ بندی کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان دونوں ممالک کی قیادت سے روابط جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی ارکانِ کانگریس مائیکل بومگارٹنر اور ریان زنکے نے اسلام آباد میں یادگارِ پاکستان کے دورے پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سے متعلق بات کی۔ دونوں امریکی نمائندگان ملک کی قیادت سے گفتگو اور دونوں ممالک کے درمیان عوامی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے پاکستان میں ہیں۔

بومگارٹنر نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں سرکاری چینل پاکستان ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا، "پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جو کردار ادا کیا، اس سے ہم متأثر ہوئے اور اسی طرح پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی اور غزہ میں بھی تعمیری کردار ادا کیا۔"

پاکستان نے ٹرمپ کے وضع کردہ بین الاقوامی ادارے بورڈ آف پیس میں جنوری میں باضابطہ شمولیت اختیار کی۔

زنکے نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ "پہلے کبھی بہتر نہیں تھے۔"

نیز کہا، "میرے خیال میں صدر ٹرمپ، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم کے ایک دوسرے سے خوشگوار تعلقات ہیں، وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ تعلقات پہلے کبھی اتنے بہتر نہیں رہے"۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں