پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو 26 جولائی 2026 کو اسلام آباد، پاکستان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا اسکرین شاٹ۔ (PTV Official/YouTube)

پاکستان : آزاد کشمیر میں احتجاج کے ڈانڈے بھارت سے ملتے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں احتجاجی تحریک والوں کے بھارت سے روابط ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے ایک ایسے نیٹ ورک کا پتہ چلا لیا ہے جو پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے میں ملوث ہے اور بھارت سے فنڈز اور احتجاجی منصوبوں کے لیے ہدایات لیتا ہے۔

آزاد کشمیر جہاں خود کو مکمل غیر سیاسی قرار دینے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی بین الاقوامی سیاسی مضمرات سے جڑے مطالبے پر اڑی ہوئی ہے کہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کے آزاد کشمیر اسمبلی میں مقرر کردہ 12 نشستیں ختم کی جائیں۔ آزاد کشمیر حکومت نے پر تشدد حملوں اور اس دوران سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل کے بعد اس پر پابندی لگا دی ہے۔ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں عام انتخابات کرانے کے بھی حق میں نہیں ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا انٹیلی جنس ایجنسیز نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جو اس گروپ کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی خدمات فراہم کر رہا تھا اور یہ خدمات بھارت سے 'اورجنیٹ' ہو رہی تھیں۔ اسی شخص نے بھارت میں قائم انفارمیشن نیٹ ورک کی مدد سے پاکستان کے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔ یہ پاکستان مخالف کنٹیٹ ان دنوں سوشل میڈیا پر اسی وجہ سے وائرل ہے۔

اس شخص کی گرفتاری کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان مخالف مواد کا تعلق اسی فرد اور اس کے توسط سے کام آنے والے نیٹ ورک سے ہے۔ وزیر اطلاعات کے مطابق یہ مواد آزاد کشمیر سے پچھلے ماہ سات جون سے احتجاج کرنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ ایکشن کمیٹی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہے جو کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے والی ہیں۔ یہ پاکستان اور اہل کشمیر کے تعلق کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ اسی کے تحت یہ ساری سرگرمیاں جاری ہیں۔ تاہم ایکشن کمیٹی نے فوری طور پر اس بارے میں کوئی مؤقف یا رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ البتہ اس نے آزاد کشمیر میں جاری انتخابی عمل کے موقع پر مخالفانہ مہم کو لانگ مارچ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی طرف آج 27 جولائی کو لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کے یہ انکشافات اپنی جگہ مگر حکومت کی ایک اہم اتحادی جماعت بھی مہاجروں کو اسمبلی سے نکال باہر کرنے کے لیے اپنی حمایت ظاہر کر رہی ہے۔

مگر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ایکشن کمیٹی کی مہم کے باوجود عام کشمیری انتخابی عمل میں پوری طرح شریک ہے۔ ان کے مطابق عوام نے اس سازشی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ کشمیری عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان اور کشمیر کے لوگوں کے تعلق کو کمزور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں