Donald Trump dances after speaking following early results from the 2024 US presidential election in Palm Beach County Convention Center, in West Palm Beach, Florida, US, on November 6, 2024. (Reuters)

ٹرمپ کی علاقائی تبدیلیاں

عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھنے اور ان کے بارے میں رائے قائم کرنے میں ایک بڑی غلطی کا شکار عام طور پر بہت سے لوگ ہو جاتے ہیں۔ یہ کجی ماضی میں اس وقت بھی درپیش رہی جب ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار امریکی صدر منتخب ہوئے اور چار سال وائٹ ہاؤس میں گزارنے کے بعد سے لے کر دوسری بار صدر بننے کی تگ و دو سے لے کر اب نومبر 2024 میں صدر منتخب ہو جانے تک ان کے بارے میں رائے قائم کرنے میں غلطی کی جا رہی ہے۔ غلطی یہ کی جا رہی ہے 'صدر ٹرمپ اپنے پیش رو صدور کے مقابلے میں کم صلاحیت کے مالک ہیں۔'

یہ عمل در حقیقت ٹرمپ کی صلاحیت کو کم ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ یہ تسلیم کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا انداز بیان اور زبان علمی چاشنی سے الگ ہے، ان کا طرز گفتگو اور گفتگوؤں کا لفظی لبادہ تجزیہ کاروں کی طرح نہیں ہوتا۔ وہ پرانے اور تجربہ کار سیاست دانوں کی طرح زبان کے ذریعے شائستگی کے دھیمے اور میٹھے پن کے ساتھ چالبازی بھی نہیں کرتے ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ

میری دانست میں یہ حکم لگانا کہ وہ آگاہی کے معاملے میں کمزور ہیں درست نہیں ہے۔ تاہم اس وجہ سے ان کے مخالفین مضحکہ اڑاتے رہے ہیں۔ ان کی انتخابی مہم کے دوران متعصبانہ جھڑپوں کا ہونا بھی مخالفین کی اپنی رائے کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر معمولی جیت کے بعد بھی یہی غلطی کر رہے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بلاشبہ ٹرمپ سابق صدر بل کلنٹن کی طرح ییل یونیورسٹی کے فارغ التحصیل نہیں ہیں۔ نہ ہی جوبائیڈن کی طرح کانگریس اور سیاست کی دنیا میں 50 سال کا تجربہ ہے۔ لیکن یہ بات بھی بھولنے کی نہیں ہے کہ امریکہ پر حکومت کرنے والے چار برسوں میں سامنے آنے والے مسائل سے نمٹنے کے دوران جو کچھ تجربہ اور شناخت حاصل کی ہے، واقعہ یہ ہے کہ ٹرمپ کی ان چار برسوں کی کامیابیاں سب چیزوں پر حاوی ہیں۔

جب صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 'جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن' کو منسوخ کرنے یا مذاکرات کے ذریعے نئے سرے سے دیکھنے کی دھمکی دی تو کہہ دیا گیا کہ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اس سے دستبرداری اختیار نہیں کر سکتے۔ لیکن ٹرمپ نے اس معاہدے کو مکمل طور پر ختم کر کے خطے کی تاریخ کا دھارا ہی بدل دیا۔ خطے کو کوئی اس ناقص معاہدے سے ٹرمپ کے بغیر نہیں بدل سکتا تھا۔

یہ بھی کہہ لیں کہ ٹرمپ ہنری کسنجر کی طرح دانشور اور جمی کارٹر کی طرح شائستہ نہیں قرار دیے جا سکتے۔ لیکن کاروبار، سرمایہ کاری اور رئیل اسٹیٹ کا غیر معمولی پس منظر کے حامل ہونے کی وجہ سے امریکہ جیسے سرمایہ دار ملک کے لیے انتہائی مفید ہو سکتے ہیں۔ اپنی محنت، مسابقت اور مؤقف کے تسلسل پر ٹرمپ کے بیانات ان کے اپنے خیالات اور مؤقف کا اظہار ہیں۔ جبکہ ماضی میں صدارتی مہم کے دوران امیدواروں کے بیانات کے لیے اپنی مہم پر انحصار کرتے تھے۔ مگر ٹرمپ نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا ہی نہیں کیا لوہا بھی منوا لیا ہے۔ انہوں نے اپنی صلاحیت منواتے ہوئے دوبارہ صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ ان کی مقبولیت بھی حیران کن رہی ہے۔ ان کی بنیاد پر وہ بہت سے ایسے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے جس کی کوئی اور ہمت ہی نہیں کر سکتا۔

ٹرمپ بطور منتخب صدر امریکہ کے اندر بھی متعدد، مسائل اور جھگڑوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، جیسا کہ انھوں نے اپنے حامیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ امیگریشن، معیشت اور تعلیم کے شعبوں میں تبدیلیاں لائیں گے، جو ممکنہ طور پر ان کی اگلی چار سالہ مدت کے دوران بہت سے تنازعات کا باعث بنیں گے۔

مشرق وسطیٰ میں کیا ہو گا؟

اس سوال پر غور کرنے کے لیے ہمیں ان کی پہلی مدت صدارت کو یاد کرنا ہوگا کہ ٹرمپ نے 2017 میں اپنی مدت کے آغاز میں کیسے کیا تھا۔ انہوں نے پروٹوکول کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا۔ روایتی طور پر برطانیہ نے امریکی صدر کے لیے پہلی بیرون ملک سے کال کی۔ ٹرمپ نے بطور صدر اپنے پہلے دورے کے لیے انتخاب سعودی عرب کا کیا تھا۔ امریکی سیاست دانوں نے اس صورت حال میں سعودی عرب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ٹرمپ سے قبل ان کے پیش رو صدر براک اوباما نے مملکت کے ساتھ تعلقات کو امریکی سفارت کاری کے ماضی کی طرف منتقل کر دیا تھا۔

کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ نے عربوں اور مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی کے الزامات کے درمیان انتخابی میدان میں اترنے کے باوجود ایک جرات مندانہ اقدام کیا جس نے سعودی عرب کو اپنے پہلے دورے کے لیے چنا۔ اس اقدام نے سب کو حیران کردیا تھا۔ اس دورے نے واشنگٹن میں مخالف سیاست دانوں اور خطے کے ممالک کو ایک پیغام بھیجا ہے۔ اگلے چار سالوں میں، امریکہ سعودی تعلقات ٹرمپ کے ارادے کے مطابق آگے بڑھے۔ جوبائیڈن نے ان کی جگہ لی تو بالآخر ٹرمپ کے راستے پر چل دیا۔

اس لیے میں کہوں گا اس معاملے کو جانچنے کی کوشش کی جائے کہ ٹرمپ دنیا کو کس طرح دیکھ رہے ہیں بلکہ 'فوکس' اس پر کیا جانا چاہیے دنیا ٹرمپ کو کس طرح دیکھ رہی ہے ۔ آیا سمجھ بھی پا رہی ہے یا نہیں۔

اب جبکہ نو منتخب صدر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ یوکرین جیسے سنگین بحرانوں اور غزہ اور لبنان کی جنگوں کوختم کر سکتے ہیں تو ان پر یقین کیا جانا چاہیے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کے ساتھ ٹرمپ کافی فیصلہ کن حیثیت کے ساتھ آگے آرہے ہیں۔ انہوں نے 20 جنوری کو باضابطہ طور پر اپنا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی بہت س رابطے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ وہ کام کرنے میں تیز ہیں اور اپنے الفاظ کے پابند نظر آتے ہیں۔ یہ تصویر امریکہ کے مخالفین کو اس کے ساتھ تنازعات میں الجھنے سے پہلے بار بار سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ زیادہ تر لوگ اس کے ساتھ ڈیل کرنے کو ترجیح دیں گے۔

مجھے یقین ہے کہ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کو اپنے انداز سے نئی شکل دینا چاہتے ہیں۔ ان کے 'انیشیٹوز' اور اقدامات کو اہم معاہدوں اور پابندیوں کے ذریعے دیکھیں گے، جنگوں میں گھیرا ہوا اور تباہی کے قالب میں ڈھلے ہوئے نہیں۔ جیسا کہ ٹرمپ بار بار کہہ چکے ہیں کہ اپنے پچھلے دور صدارت میں ایک بھی جنگ کیے بغیر انہوں نے چار سال تک حکومت کی۔ ان کی حکمت عملی واضح اور سخت تھی مگر جنگ نہیں تھی۔ اس لیے وہ پابندیوں کے نفاذ میں پختہ رہے۔ اب ایک بار پھر خطے کو انہی تبدیلیوں کے لیے تیار ہونا چاہیے اور خود کو ان کے مطابق ڈھالنا چاہیے، جو ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت میں دہرائے اور آگے بڑھائے جانے کے اشارے نظر آ رہے ہیں۔