Adolf Hitler and Benito Mussolini embrace the pageantry of politics, greeting a cheering square in Munich, Germany, in 1937. (Getty Images)

پراپیگنڈے اور قیادت کے گھروندے کیسے ٹوٹ بکھرتے رہے

ممدوح المہينی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پچھلی ایک صدی کے دوران قوموں کی قیادت کے لیے تیار ہونے والے یا تیار کیے جانے والے بڑے بڑے ناموں کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہانی دلچسپ بھی لگتی ہے اور عبرت آموز بھی۔ ملکوں کے ادلتے بدلتے جغرافیوں، بنتی بگڑتی تاریخ اور قوموں کی قسمت کے ابھرتے ڈوبتے ستاروں کا مطالعہ یہی بتاتا ہے مصنوعی انداز میں پراپیگنڈہ کے زور پر بنائے گئے قائدین کی قیادت کے بھرم اور بت دونوں کو کچھ ہی عرصہ گزرتا ہے کہ دھڑام سے نیچے آ گرتے ہیں۔

چلیے اس کا آغاز ایک فلم کی کہانی سے کرتے ہیں۔ جو گوئبلز کے محبوب لیڈر کے عروج اور زوال کے سارے پرت کھولتی ہے۔ فلم کا انگریزی نام 'Triumph of the will' یعنی 'عزم کی جیت' تھا۔ اس فلم میں جرمنی کے ہٹلر کو ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا گیا۔

فلم میں ایک جہاز کو فضا میں اڑتا ہوا دکھایا گیا۔ جو بادلوں کی اوٹ سے ہجوم کے سامنے پرواز کرتا ہوا آتا ہے اور پھر زمین پر اتر جاتا ہے۔ اس میں ہٹلر سوار تھا۔ گویا ہٹلر کو اوتار اور نجات دہندہ بنا کر آسمان سے زمین کی طرف آتے دکھانے کا مقصد مسائل زدہ عوام کے سادہ ذہنوں کو علامتی انداز میں یہ پیغام دینا تھا کہ ہٹلر کو اوپر والے نے تمہاری طرف جنتوں سے بھیجا ہے تاکہ تمارے دلدر دور کرے اور بگڑی بنا دے۔ یہ پراپیگنڈہ کے اینٹ گارے سے ایک لیڈر کو کامیابی سے بنا کر پیش کرنے کی کوشش تھی۔

فلمی کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ ہٹلر کے ساتھ فضاؤں کو چیرتے ہوئے یہ جہاز 1934 میں نیورمبرگ میں اترا۔ جہاں نازی پارٹی کی سالانہ کانگریس ہو رہی تھی۔

ایک ایسے نجات دہندہ کی صورت جو ملک میں پھیلے فسادیوں سے لڑ سکے اور فسادیوں کو اٹھا کر باہر پھینکے جس کے نتیجے میں تباہ حال جرمنی کی شان و شوکت کا دور واپس آ جائے۔ جرمنوں کا نجات دہندہ تباہ حالی اور بے توقیری کی شکار جرمن قوم کے زخموں کو سینے کی خدمت انجام دے اور بگڑی بنا سکے۔

فلم میں ایک طرف قوم کو اوپر اٹھانے کے ارادے سے اترنے والے ہٹلر کو جہاز عوام کے درمیان لا رہا تھا اور دوسری جانب جرمن مرد و زن اور بچوں کا دور تک پھیلا ایک پر جوش ہجوم تھا۔ یہ سارا ہجوم ہٹلر کی اس انداز سے قوم کی امنگوں کو چھو لینے پر خوشی سے شادیانے بجا رہا تھا کہ واقعی ان کے سامنے کوئی نجات دہندہ یا اوتار اتر آیا ہو۔

پھر لوگ اس کے پیچھے متحد ہو کر کھڑے ہو گئے۔ جیسے یہ لوگ وفادار پیرو کاروں کی طرح پیچھے کھڑے ہونے کو بے تاب تھے۔

جب ہٹلر کانگریس کے اجلاس میں شرکت لیے ہال میں داخل ہوا تو اس کے ساتھ افسروں کی ایک بھیڑ تھی، سپاہیوں کا ایک ہجوم تھا اور لہراتے ہوئے جرمن پرچم تھے۔ ایک مکمل روح پرور منظر ۔

اسی طرح کے عوامی ماحول میں تو لیڈر اپنے جوش خطابت کو اور بڑھا لیتے ہیں۔ ہٹلر نے بھی ایسا ہی کیا اور ڈرامائی سے انداز میں ایک جذباتی تقریر سے عوامی نبض پر ہاتھ رکھ دیا۔ گویا پراپیگنڈے کا ماہر اور جھوٹ کو سچ بنا دینے کا ماہر گوئبلز کامیاب ہو گیا۔

ہٹلر کے ہیولے کو پوری محنت اور توجہ سے یہی گوئبلز ہی عوامی ذہنوں میں ایک جیتے جاگتے لیڈر کی صورت راسخ کرنے کی سعی کر رہا تھا۔ بالکل ایک مصور کی طرح ایک لیڈر کو بنا بنا کر عوام کے سامنے پیش کر رہا تھا۔

جو عوامی امنگوں کے مطابق ہی گھڑا جا رہا تھا۔ مضبوط، پر وقار اور عظیم تر۔ صرف لیڈر نہیں بلکہ پراپیگنڈے کے زور پر ایک ہیرو کی تخلیق مقصود تھی۔

گوئبلز نے جرمنی کی 'تھرڈ ریخ' نامی فوج کے ناقابل شکست ہونے کی شہرت بھی اسی پراپیگنڈے کی بنیاد پر یورپ کے اندر اور باہر تک پھیلائی تھی۔ یہ سب طاقتور، مؤثر اور مسلسل پراپیگنڈہ کا کمال تھا۔ یہ پراپیگنڈہ اس وقت تک جادو کی طرح سر چڑھ کر بولتا رہا جب تک جرمن فوج کی میدان جنگ میں درگت اور شکست کے حالات نہ پیدا ہو گئے۔ مگر جیسے جیسے ایک فولادی شہرت کی حامل فوج کی اشتہاری ملمع کاری کے نیچے سے اصل حالت نہ سامنے آنے لگی پراپیگنڈہ کامیاب رہا۔

جیسے ہی پراپیگنڈہ کا کیا ہوا میک اپ اترنے لگا تو نجات دہندہ ہٹلر کی شخصیت، صلاحیت اور طاقت کا سارا تاثر ڈھیر ہوگیا۔ اب ہیرو اور نجات دہندہ نہیں بلکہ ایک شکست خوردہ کے طور پر اس کی شناخت واضح طور پر سامنے آگئی۔

وہ قوم کو اوپر اٹھانے اور اس کی بگڑی بنانے کے دعوے کے ساتھ آیا تھا مگر اس نے قوم کو اور نیچے گرا دیا۔ اس نے فسادیوں سے بھی ایسے نمٹا کہ وہ پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ ابھرنے کا موقع پا گئے۔

ہٹلر کی اپنے ماہر اور تجربہ کار جرنیلوں کے کام میں مداخلت نے شکست کو مزید بڑھا دینے کا کام کیا۔ یوں فتح کے خواب ہی چکنا چور نہیں ہوئے ہٹلر کا پراپیگنڈے کی بنیاد پر بنایا گیا 'امیج' بھی پراگندگی کا شکار ہو گیا۔ اور پھر ہٹلر نے اپنے پراپیگنڈہ کے ماہر اور بیانیہ ساز وزیر گوئبلز کے ساتھ مل کر خودکشی کر لی۔ یہ خودکشی ہٹلر اور گوئبلز کی خودکشی کے ساتھ ساتھ علامتی طور پر پراپیگنڈے کی خودکشی تھی۔ جس کی بنیاد پر کھڑے کیے جانے والے بیانیے، شخصیات اور لیڈر کبھی پائیداری کے حامل نہیں ہو سکتے۔ بلکہ کاغذ کی کشتیوں اور شاخ نازک کے آشیانوں کی طرح ہوتے ہیں۔ کہ اس کی بنیاد ہمیشہ جھوٹ پر ہوتی ہے۔

اسی طرح کا ایک اور لیڈر مسولینی تھا۔ وہ سیاست میں آنے سے پہلے صحافی تھا۔ اس لیے لفظوں اور تصویروں کی اہمیت و افادیت سے خوب آگاہ تھا۔ وہ ایک تھیٹر میں 'آریٹر' کے طور پر کام کرتا رہا تھا۔ مگر وہ اپنی ساری صلاحیتوں اور تجربے کو فاشزم کے لیے وقف کر کے سامنے آیا۔ کیونکہ وہ رومن شاہی کےنظریات سے متاثر تھا۔

مسولینی نے 'مارچ آن دی روم' کے بڑے مظاہرے کا اسی پس منظر میں اہتمام کیا۔ تاکہ اپنے فاشزم سے جڑے خیالات کو ماضی کی شاہی و سلطنت سے جوڑے اور اس کے رعب و دبدبے اور تاریخ کے اسیروں کو ساتھ ملا سکے۔ گویا اپنی کوششوں کو ایک مضبوط حوالہ دینے کی کوشش تھی۔ لیکن مسولینی کی بد قسمتی یہ رہی کہ وہ ہٹلر نہیں مسولینی تھا۔ اس کا ملک بھی اٹلی تھا جرمنی نہیں تھا۔ بیل کچھ زیادہ منڈھے نہ چڑھ سکی۔

اس لیے جنگ عظیم دوم میں اس کے سپاہیوں کے ساتھ ہی مسولینی کے کرم پھوٹ گئے اور بھرم ٹوٹ گیا۔

اب ذرا اپنے ارد گرد نظر ڈالتے ہیں۔ ایک وقت آیا ہمارے علاقے میں بھی کچھ ایسا ہی کرنے کی کوشش کی گئی۔ بلکہ کیا بھی گیا۔ سامنے جرمنی کا ہٹلر ماڈل تھا۔ جرمنی میں گوئبلز نے ہٹلر کی 'جادوئی شخصیت' کا پراپیگنڈہ کر کے ہجوم جمع کرنے اور عوام کو پیچھے لگانے کا تجربہ کیا تھا۔

ہمارے علاقے میں یہ کام ایک نامور صحافی اور ادیب محمد حسنین ہیکل کو پسند آیا۔ مگر دو بنیادی چیزوں میں ہی ہم مار کھا گئے۔ وجہ یہ بنی کہ جو مواد ہم پیش کر رہے تھے اور جس شکل میں پیش کیا جا رہا تھا۔ یہ دونوں چیزیں اصل کے برابر اثرات نہ پیدا کر سکیں۔ اگرچہ حسنین ہیکل وزیر اطلاعات بھی تھے۔ ان کا زبان و بیان پر عبور تھا۔ لیکن وہ جمال عبدالناصر کے اس 'بت' کو اس طرح نہ تراش سکے جس طرح کی ضرورت تھی۔ جس کی خواہش تھی۔

اگرچہ جمال عبدالناصر کو انہوں نے صرف مصر کے قائد کے طور پر نہیں بلکہ پورے عرب کے قائد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی اور عرب قوم پرستی کا چیمپیئن ظاہر کیا۔

نہ صرف یہ بلکہ جمال عبدالناصر کو مغربی استعمار کا حریف بھی بتایا گیا۔ مظلوموں کے ہمدرد و غمخوار قرار دے کر عوامی مقبولیت کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ جمال عبدالناصر عوامی جلسوں اور بڑے بڑے مظاہروں سے خطاب کے دوران بادشاہتوں کو اڑا کر پھینک دینے کی کال دیتے رہے۔

قوم پرستی سے اداروں کو قومیانے تک کے سفر اور فیصلوں سے ناصرازم مکمل سامنے آگیا۔ یہ خرافات کا عروج تھا۔ اگرچہ پراپیگنڈے میں دکھایا اس طرح گیا تھا کہ وہ ایک ایسا رہنما ہے جو یروشلم کو شکست خوردہ عرب قوم کے لیے واپس لے گا۔ اس پس منظر میں ناصرازم ایک وسیع نظریہ بن گیا۔ اس نظریے کی حمایت نہ صرف قاہرہ کی گلیوں میں نمایاں تھی بلکہ رباط، دمشق اور بغداد کی گلیوں میں بھی جھلکتی تھی۔

1967 کی جنگ نے عبدالناصر کے افسانوی کردار کو شکستہ کر دیا۔ حسنین ہیکل اور صوت العرب ریڈیو نے ناصر کی جو تصویر بڑی محنت سے بنائی تھی محض 6 دنوں کی جنگ نے تباہ کر کے رکھ دی۔ نجات دہندہ کی شبیہ اس قدر جلد ٹوٹ جائے گی سوچا نہ گیا تھا۔ ایسی بلندی ایسی پستی ۔۔!

جس طرح ہٹلر کی کوئی فصیح و بلیغ تقریر یا اس کے پیش کاروں میں سے کوئی بھی اسے بچا نہ سکا تھا۔ یہی اس عرب لیڈر کی گھڑی گئیں عظیم شبیہہ کے ساتھ ہوا۔

زیادہ پرانی بات نہیں عراق کے صدر صدام حسین کے ساتھ بھی تو یہ ہوا۔ اگرچہ صدام کے پاس گوئبلز جیسے باصلاحیت پراپیگنڈہ کرنے والے نہ تھے مگر ایران کے خلاف آٹھ برسوں پر محیط جنگ نے اس کا امیج ایک مضبوط لیڈر کے طور پر بنا دیا جو ایرانی خطرے سے بھی نمٹ سکتا ہے۔

صدام کا بندوق سے فائر کرنے کا انداز ہیروانہ مانا گیا۔ اس کی رفتار وقار کی پہچان قرار دی جانے لگی۔ اسے دیکھ کر ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جاتے۔ اس کے لیے جانثاری کے اندارز میں نعرے لگاتے۔ ہر طرف صدام صدام کی گونج سنائی دیتی۔ مگر انجام کیا ہو پھانسی لگا دیا گیا اور مجسمہ گرادیا گیا۔ شان بچی نہ آن اور بان۔۔ سب کچھ فنا کے گھاٹ اتر گیا۔

یہ سب چیزیں ایسی تھیں کہ صدام کی شخصی ساخت، پرداخت اور شناخت کے لیے سٹالن طرز کے پراپیگنڈہ سے مدد لی گئی تھی۔ تاکہ ایک نیا 'پرسنیلٹی کلٹ' تخلیق کیا جا سکے۔ اور اسے قوم کے سامنے ایک باہمت اور نڈر لیڈر ثابت کیا جاسکے۔ لیکن انجام کیا ہوا۔ شکست کے بعد ایک سرنگ کے سوراخ کے سامنے گھسیٹا جا رہا تھا۔ جتنا عروج دیکھا اس سے بڑھ کر زوال پایا۔

یہ منظر ٹی وی پر دکھانے کا اہتمام اس لیے کیا گیا کہ باقیوں کو عبرت ہو سکے۔ خیال تھا جب ایسا ہوگا تو کانپتا ہوا، ڈرا سہما سا نظر آئے گا۔ اس کی بہادری اور وقار پاش پاش ہو جائے گا۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ جو کام صدام کے اپنے میڈیا کے لوگ اس کے لیے نہیں کر سکے تھے وہ اب اس کی پھانسی کے وقت اس دشمن کے ہاتھوں مفت میں ہونے جا رہا تھا۔ کہ دشمن فلم بنوا رہے کہ جب اسے پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ پھانسی دینے والے چیخ رہے تھے اور صدام پورے اعتماد کے ساتھ پھانسی کے رسے پر جھولنے لیے آگے بڑھ رہا تھا۔ اس صورت حال نے اس کی پھانسی کو اس کے لیے ہیروانہ شہادت میں تبدیل کر دیا۔

قذافی بھی ہیرو بننے کو شش میں رہا۔ بہادری اور تمغہ ہائے رنگا رنگ اسے بھی بہت مرغوب رہے۔ لیکن اس کا عموم سے ہٹا ہوا رویہ اس کے سد راہ رہا۔ یقیناً پراپیگنڈے کی پرواز ایک حد تک ہی ہوتی ہے۔ پراپیگینڈے کے اثرات کی ناپائیداری بھی مسلمہ ہے۔ یہ ایک میک اپ یا ملمع کاری ہی تو کرتا ہے۔ کسی لیڈر کی گرد روشنی کا ہالہ درکار ہو تو اس کی شخصیت کو سچائی اور حقیقت نگاری سے ترتیب دینا پڑتا ہے۔ بصورت دیگر لیڈر ریت کے گھروندے اور کانچ کے کھلونوں سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہوتے۔ عارضی ثابت ہوتے ہیں، چکنا چور اور ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔

بشار الاسد نے بھی اپنے والد کی شبیہ اختیار کرنے کی کوشش کی اور بے رحمی کی آخری حدوں کو چھولیا۔ لیکن ہوائی جہاز میں ان کی آٹھ دسمبر 2024 کو پرواز کے ساتھ ان کا سارا پراپیگنڈہ اور کوششیں رائیگاں چلی گئیں۔ یہاں تک کہ ان کے قریبی ساتھی بھی انہیں بزدل قرار دینے لگے۔

اب شمالی کوریا کے لیڈر کو دیکھتے ہیں۔ کورین لیڈر نے خود کو چھوٹے ہٹلر کے طور پر دیکھنے کے آرزو پال رکھی ہے۔ لیکن نقل کے لیے عقل کی شرط بھی تو لازم ہے۔ قابلیت کی کمی آڑے ہے۔ کانفرنسوں میں زبردست تالیوں کی گونج، لوگوں کے بڑے بڑے ہجوم بھی عالمی سطح پر بطور چھوٹے ہٹلر کی مقبولیت نہیں دلوا سکے۔ نہ ہی کوئی حیران کن لیڈر مانا گیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی بس 'چھوٹے راکٹ مین' کا لقب دیا ہے۔ جیسا کہ پاکستان میں ایک زمانے میں ایک 'راجو راکٹ' مشہور ہو گیا تھا اور اس پر فلم بھی بن گئی تھی۔

خود امریکی صدر ٹرمپ کی بھی اپنے آپ کو ایک طاقتور شخص اور لیڈر ثابت کرنے کی خواہش اور کوشش ہمہ پہلو ہے۔ لیکن امریکی میڈیا میں آزادی کی موجودگی اس راستے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ٹرمپ کے پاس کوئی باقاعدہ گوئبلز جیسا وزیر اطلاعات بھی نہیں ہے۔ وہ یہ کام 'ٹروتھ سوشل' سے لینے کی کوشش میں ہیں۔ اس کے باوجود جب ٹرمپ کوشش کرتے ہیں تو رزلٹ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے عظمت اور طاقت اعلانات سے نہیں بڑھتی۔ اس کے اظہار کے اپنے انداز اور اپنی علامات ہوتی ہیں۔

کچھ روز پہلے ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی میز کے سامنے یورپی رہنماؤں کو قطار میں کھڑا کر کے ان کی تصویر بنوائی۔ جیسے بے بس اور مجبور سائل ہوں۔ یہ یورپی رہنماؤں کا ایک توہین آمیز خاکہ تھا۔ جو وائٹ ہاؤس نے بنا کر پیش کیا۔ اس کے باوجود اس ٹرمپ کی قیادت کو کوئی چمک نہیں مل سکی۔

ہم آج یہی منظر دیکھ رہے ہیں اور ناکامی و شکست پروپیگنڈے کو کمزور کر دیتی ہے۔ جیسا کہ 12روزہ جنگ نے ایران کا امیج کمزور کیا ہے۔ ایرانی حکام کے بیانات کتنے ہی دھمکی اور جرات آمیز کیوں نہ ہوں، وہ کسی کو دھوکہ نہیں دے سکیں گے۔

آج ایرانی پراپیگنڈے کی بھی وہی حالت ہو گئی ہے جو پہلے جمال عبدالناصر کے پراپیگنڈے کی ہو چکی ہے۔

لبنان کی حزب اللہ کا بھی یہی حال ہے اب اس کی حالت ایسی پتلی ہو گئی ہے کہ اس کے اپنے حامی بھی اب حزب اللہ کے پراپیگنڈے کو سمجھ رہے ہیں اور ماننے کو تیار نہیں۔ ماضی میں حسن نصراللہ خطابت کی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے لوگوں کو جوش دلا سکتا تھا۔ اب نیا حزب اللہ لیڈر تقریر کا بھی دھنی نہیں ہے۔ نہ ہی حسن نصراللہ کی طرح نعیم قاسم کوئی کرشماتی شخصیت ہے۔