media curb
جمہوریت ایک بہترین انتقام ہے؟
جسے لوگ رضی دادا کہتے ہیں۔ مجھے اس سے کافی عرصہ سے اختلاف ہے۔ مگر یہ اختلاف میرا اس سے اور اس کا صرف مجھ سے نہیں ہے۔ پورے ملک میں تصورات، خیالات، رجحانات، نظریات اور مفادات کے باعث پورا معاشرہ ہی فرد فرد ہوا پڑا ہے۔ اسے جمہوریت کا حسن بھی کہا جاتا ہے اور بعضوں کے ہاں یہ افتراق اور تباہی کی نشانیاں ہیں، مگر یہ زیر بحث موضوع نہیں۔ سوال یہ ہے کہ رضی دادا ہی اکیلا قابل گردن زدنی کیوں ٹھہرے؟
وہ ایک صحافی، ایک یوٹیوبر اور کھلی بات کرنے کے مرض یا جنون میں مبتلا تجزیہ کار ہے۔ سنا ہے اس سے ارباب اختیار کو تکلیف پہنچنی ہے اور ان کی دل آزاری ہوئی ہے۔ اس لیے اصلی و سچی جمہوریت کے زمانے میں رضی دادا کو پی ٹی وی میں دی گئی نوکری سے آناً فاناً نکال دیا گیا ہے۔
بلاشبہ کسی کی ملازمت اور روزگار کا چھیننا خوش کن نہیں ہو سکتا۔ مگر چلن یہی ہے کہ کسی کو بھی چلنے نہیں دینا۔ کسی کو بھی روزگار پر نہیں رہنے دینا، جینے نہیں دینا۔
لیکن جب امریکہ جیسے جمہوری ملک کا صدر 'اوول آفس' میں ایک صحافی کو سخت تنقید کا نشانہ بنائے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دے کہ 'اپنے لیے نئی نوکری تلاش کرو' تو پھر کسی اور صدر یا وزیر اعظم سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ کتنا عالی ظرف رہ سکے گا اور اسے کیسے یہ یاد ہو گا کہ جمہوریت عوام کے لیے ہے، کسی خاص فرد کے اقتدار کے لیے نہیں۔ ویسے بھی ٹرمپ تو براہ راست عوامی ووٹوں سے منتخب صدر ہیں کسی 'مک مکا' کے محتاج نہیں۔
دروغ بر گردن راوی، کیونکہ یہ بات ماننے کو دل بالکل مائل نہیں کہ رضی دادا کے ایک 'وی لاگ' کے 'دل آزار حصے' سے مبینہ طور پر ایوان صدر ناراض ہوا۔ اسی لیے جناب شہباز شریف کے زیر قیادت کام کرنے والی حکومت نے رضی دادا کو ایسے ہی نوکری سے نکالا ہے جیسے کسی کو سڑک پر گھسیٹ رہے ہوں۔ محض چند گھنٹوں کی اس گھسیٹا گھسیٹی نے نوکری سے نکال باہر کر دیا۔ مشاہد اللہ خان مرحوم بھی اس موقع پر بے سبب یاد آئے۔
کہا گیا ہے کہ رضی دادا نے کچھ ایسے نامناسب الفاظ بولے اور اس طرح بولے کہ سندھی کمیونٹی کی دل آزاری ہوئی۔ میرے کسی سندھی بھائی کی دل آزاری ہوئی یا نہیں۔ مجھ خاکسار پاکستانی کی دل آزاری ایسا انداز اختیار کرنے والے ہر شخص کی وجہ سے اکثر ہوتی ہے۔
ابھی تازہ دل آزاری ایک ویڈیو کی وجہ سے ہوئی ہے کہ سندھ کے غریب سیلاب زدہ ہاریوں کے لیے آنے والے دنوں میں آٹے کی انتہائی مہنگی دستیابی کے خدشے پر مبنی سوال کرنے والے صحافی کو ایک صدر زادے نے مہنگائی پر رونے والوں کی نقل اتارتے ہوئے اپنے آنسو پونچھ کر دیا۔ اس انداز سے غریبوں کے ٹپکنے والے آنسوؤں کا مذاق اڑانے سے میری بھی دل آزاری ہوئی ہے۔
یہ دعویٰ کہ رضی کے 'وی لاگ' سے سندھیوں کی یا سندھ کی دل آزاری ہوئی مبالغہ آمیز لگتا ہے۔ اگر واقعی یہ کسی عام سندھی کا ایشو ہوتا تو اب تک لاڑکانے سے تو کم از کم احتجاجاً عوام باہر نکلے ہوتے۔ پرانے نواب شاہ اور موجودہ بے نظیرآباد میں تو رضی دادا کی دل آزاری کے خلاف کوئی فطری سا ردعمل شروع میں ہی سامنے آ چکا ہوتا۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ تو پھر یہ ایوان صدرپر الزام لگانے والے کون ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ مبینہ طور پر صدر زرداری نے رضی دادا کی نوکری ختم کرانے میں کردار ادا کیا۔ انہیں تو جناب مجید نظامی مرحوم نے ایک زمانے میں 'مرد حر' کا خطاب دیا تھا، 'مرد حر' اتنا تھڑ دلہ کیسے ہو سکتا ہے۔
جب کوئی ان کا ناقد آج بھی انہیں 'ٹین پرسنٹ' کہہ کر نئی نسل کو کرپشن کی رام کہانیں سنانے کی کوشش کرتا ہے تو مجھے ایوان صدر کی توہین کا احساس ہوتا ہے۔ اور پھر یار لوگ یہ تاثر دینے لگتے ہیں کہ یہ اب ایوان صدر بھی ہے اور 'استثناء سرائے' بھی۔ مجھے اس سے خوشی نہیں ملتی۔ اگر واقعی یہ ایوان صدر 'استثناء سرائے' کا کام بھی کرتا ہے تو ایک استثناء تو رضی دادا کے لیے بھی ہو سکتی تھی۔
میں اپنی دل آزاریوں کا ذکر کر رہا تھا تو عرض کرتا چلوں میری اصل دل آزاری تو یہ ہوئی یہ ہے کہ پاک وطن کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے چند ارکان نے قومی وسائل سے بھرپور مقام و مرتبہ پانے کے باوجود خود کو پورے پاکستان کا وفادار نہیں بلکہ ایک کمیونٹی کی شناخت کے وفادار کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ حالانکہ ایک سینیٹر کے حلف کا تقاضا اس سے کہیں اوپر ہے جو ان چند سینیٹرز حضرات نے ایک کمیٹی کی میٹنگ کے دوران نبھایا ہے۔
کوئی جذبات سے عاری نہ ہوتا تو کہتا کہ یہ تو پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی توہین اور ہر پاکستانی کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ ایک سینیٹر کو پورے پاکستان کے عوام کا نمائندہ بن کر سوچنا چاہیے۔ یہ ایسا سوچنا جرم تو نہیں ہو گا کہ اس مملکت پاکستان کا بھی کچھ استحقاق ہے اور اس کے رہنے والے عام آدمی اور پاکستانی کا بھی استحقاق مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ یہ استحقاقی پلڑا بھی ایک ہی جانب کیوں جھکا رہتا ہے۔
یہ بات ان اہل صحافت کے لیے بھی سوچنے کی ہے کہ وہ بطور صحافی کبھی سوسائٹی کے 'واچ ڈاگ' تھے۔ انہوں نے خود کو کیوں اس مرتبے سے نیچے گرائے جانے کو قبول کر کے 'واچ' کرنے کا کام چھوڑ دیا۔ یہ سوال میرے سمیت ہر صحافی اور خصوصاً میڈیا ہاؤسز کے مالکان سے پوچھا جانا ضروری ہے۔
بات رضی دادا کی بات سے کہیں دور نہ نکل جائے اس لیے یہیں سے واپس پلٹتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم کے بارے میں ان کا مؤقف کافی حد تک درست ہے۔ لیکن یہ مؤقف درست ہونے کے باوجود اس وقت تک کون مانے گا جب تک الیکشن لڑنے والی جماعتیں اور ان کی قیادتیں کارکردگی اور عوامی خدمت یا شرافت و دیانت کے معیار پر الیکشن کے میدان میں سامنے آنے کو تیار نہیں۔ کارکردگی زیرو بھی ہو تو تعصب اور پراپیگنڈے کے زور پر قوم پرستی کے ماحول اور پالتو میڈیا ہاوسز کی بنیاد پر الیکشن آسانی سے جیتا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ کئی دہائیوں سے ہو رہا ہے۔
جب گندم اور چینی کی قلت کا حل تاجرانہ ذہنیت کی حکومتیں اپنے لیے گندم و چینی امپورٹ کی پالیسی کو پیسہ بنانے یا اپنے اقرباء کو پیسہ بنانے کے لیے سنہری موقع سمجھ لیں تو کون زراعت کے لیے پانی اور صنعتوں کے لیے بجلی کی خاطر ڈیم بنانے کی تکلیف کرے گا۔ کسان کی زمین سونا اگلنے لگی تو ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور ہاؤسنگ اتھارٹیز کو کون زمینیں بیچے گا۔
رہی پنجاب کی بات کرنے کے حق کی تو جب بہت سارے لوگ اس پاک وطن پر بے دریغ صوبائیت، علاقائیت، لسانیت، قومیت، فرقہ واریت، قبائلیت اور مفاد پرستی کے تیشے چلا رہے ہیں۔ ایک تیشہ پنجاب سے اٹھنے والی اس کمزور سی آواز کی صورت رضی دادا نے بھی چلا دیا۔ اگرچہ رضی دادا کی سوچ کبھی تیشہ چلانے کی نہیں رہی ہے۔ لیکن جب ہر ایک کو پاک وطن کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی اجازت میسر ہے تو رضی دادا نے تو چند سینیٹرز کی دل آزاری کی ہے۔ تو معافی کے باوجود اتنا غصہ کیوں ہے۔
سب جانتے ہیں کہ پاک وطن میں ایسے کئی لیڈران ہیں جن کی سیاست اس وقت مکمل نہیں ہوتی جب تک ریاست پاکستان یا پنجاب کو برا بھلا نہ کہہ لیں۔ رضی دادا بھی اس روز روز کی طعن کے جواب میں تنگ آمد کے مصداق بول پڑا۔
اگرچہ ایسے بدبختوں کی کمی نہیں کہ جو صبح شام پاکستان کو گالی ہی نہیں دیتے بلکہ پاکستان کی اساس پر کبھی درانتی چلاتے ہیں، کبھی پاکستان کے بنیادی نظریہ پر ہتھوڑا برساتے ہیں۔ کبھی اس کے آئین پر تلوار اٹھاتے ہیں۔ کبھی اس کی معیشت پر کرپشن کے تیر برساتے ہیں اور اس کے بعد پاک وطن کو دنیا بھر میں بدنام بھی کرتے ہیں۔
اس لیے ایک رائے یہ ہو سکتی ہے کہ ان کو پنجاب سے اگر کسی نے اسی لہجے میں مخاطب کیا ہے تو کیا برا ہو گیا۔ مگر میں پھر بھی اس طرح کی رائے اختیار کرنے سے گریز رکھتا ہوں۔ اس گریز کی وجہ واضح ہے جب بہت سوں نے تیشہ پکڑ کر پاک وطن کو نقصان پہنچانے کو اپنا مقصد حیات بنا رکھا ہے تو کم از کم پنجاب کے کسی رہائشی کو تو ان تیشہ بردار کار شر والوں کو مزید موقع نہیں دینا چاہیے۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ جس طرح پاکستان کو ایک قوم بننے سے روکنے پر صبح شام لگی رہنے والی قوتیں دیگر شناختوں اور قومیتوں کے حق میں زور بیاں سے کام لیتی رہتی ہیں تو پنجاب میں ان کی وجہ سے کچھ ردعمل کا شکار ہو کر کوئی بات کر بیٹھا ہے تو دل آزاری کا شور کرنے والوں کو باقی لوگوں کی دل آزاری ہونے کا احساس بھی تو ہونا چاہیے۔
ایسے عناصر کی وجہ سے میرے سمیت بہت ساروں کی تقریباً ہر روز دل آزاری ہوتی ہے جب وہ پاکستان یا ریاست پاکستان کے آئین، پاکستان کی عدلیہ، پاکستان کی مقننہ اور پاکستان کی انتظامیہ یعنی حکومت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے لیے ماہر کھلاڑی، نشانہ باز بن کر تیار اور مستعد رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاک وطن کی پاک شاخوں پر بیٹھے یہ حکمران یہ سب کچھ اپنے ذاتی و سیاسی مفاد کے لیے قبول اور برداشت ہی نہیں بلکہ یہ طریقہ استعمال اور اختیار بھی کرتے ہیں۔
اس وقت بھی میں اپنی دل آزاری محسوس کرتا ہوں جب صدر کے منصب پر بیٹھا شخص کسی صحافی کی نوکری ختم کرنے کے لیے اس کو سر عام کہہ دے کہ تمہیں نئی نوکری تلاش کرنی چاہیے یا کسی صحافی کے روزگار پر ایک نہیں دو لاتیں مار کے نوکری سے نکال دے۔
رضی دادا کے بقول انہیں پہلے ایک نوٹس موصول ہوا کہ انہیں پی ٹی وی سے معطل کیا جا رہا ہے۔ پھر محض چند گھنٹوں پر دوسرا نوٹس بلکہ برطرفی کا حکم بھی آ گیا۔ ماشاءاللہ یک نہ شد دو شد۔ یاد آیا ابھی ایک بڑے اخباری گروپ نے ایک سو سے زیادہ کارکنوں کو اسی طرح نکلا اور کہا ہے جہاں چاہو جاؤ مرو، مر مر کے جیو اور جی جی کے مرو!
میری دل آزاری اس پر ہوئی ہے کہ میرے ملک کی آئینی اعتبار سے سپریم باڈی پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ کے ارکان پاکستان کے ساتھ وفاداری کا حلف پڑھنے کے باوجود پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری کا رشتہ اتنا پختہ نہیں کر سکے جتنا کہ ان کی وفاداری اپنے صوبے، اپنی زبان، اپنے علاقے، اپنی قوم، ذات، قبیلے اور فرقے، پارٹی، گروہ اور اپنے ذاتی و گروہی مفاد کے ساتھ ہے۔ یہ تو چوبیس کروڑ پاکستانیوں اور اس پاک سرزمین کی توہین بھی ہے، بے توقیری بھی ہے۔ لیکن کوئی انہیں پوچھنے والا ادارہ نہیں کہ تم قومی وسائل سے مستفید ہو کر بھی وفاداری کسی اور چیز کے لیے زیادہ کیوں رکھتے ہو؟
میری دل آزاری اس وقت ہوتی ہے جب رضی دادا اپنا اتنا کچھ تبدیل کر کے جن کے لیے رانجھا رانجھا کر کے آپے ہی رانجھا ہو چکا ہے۔ لیلائے اقتدار سے جڑے ان میں سے کسی کو اس مجنوں کی ایسی پروا نہیں جس کے کچھ معنی ہوں۔ بس زبانی کلامی اظہار یکجہتی وہ بھی آخر شب کسی کے لب بام آنے کی طرح ہے اور پھر بس!
اگر رضی دادا نے واقعی جرم کیا ہوتا تو اسے اب تک "پیکا" کے بدنام زمانہ قانون کے تحت دھر لیا جاتا۔ سائبر ایکٹ متحرک ہو چکا ہوتا۔ اگر دل آزاری غلط ہے تو، انا کی تسکین کے لیے اختیارات کا یہ استعمال کیونکر درست ہو سکتا ہے۔
سرکار عالی! بادشاہ سلامت! معافی مانگ لینے والے کو معاف کرنا عزت بڑھاتا ہے اور ظرف کے بڑے ہونے کا پتہ دیتا ہے۔ رضی داد کی سرکار کے لیے نوکری بحال کریں، اس کی عزت بحال کریں۔ بے شک بعد ازاں مستعفی ہو کر وہ پھر کسی اور شعبے میں ذمہ داری قبول کرلے۔ اسے کم از کم ایک بار تو بے جرم سزا سے استثناء ملنا چاہیے۔