U.S. Air Force Airmen from the 28th Expeditionary Air Refueling Squadron conduct a pre-flight brief outside of a KC-135 Stratotanker, before an aerial refueling mission in Al Udeid Air Base, Qatar, in this undated handout picture released by U.S. Air Force on August 1, 2019. Chris Drzazgowski/U.S. Air Force/Handout via REUTERS ATTENTION EDITORS- THIS IMAGE HAS BEEN SUPPLIED BY A THIRD PARTY.
امریکی فوجی کب ختم ہو سکتے ہیں؟
ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کی توقع ایک طویل عرصے سے چلی آرہی تھی۔ اس لیے ایسے کسی بھی جنگی منظر نامے میں جس میں ایران شامل ہوگا اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاتا رہا کہ ایران اسے بند کرے گا۔ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ایک ایرانی مثال بھی موجود ہے۔ 1980 میں بھی ایران نے اس کے پانیوں میں بارودی سرنگیں بچھائی تھیں، جہازوں کو نشانہ بنایا تھا اور میری ٹائم نیوی گیشن کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔ اس ایرانی جنگ کو ' ٹینکروں کی جنگ' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تب بھی ایران نے اسی طرح میزائل داغے تھے اور تیز دوڑنے والی کشتیاں استعمال کی تھیں۔
لیکن اگر آبنائے ہرمز کی تاریخ کو دیکھا جائے تو جاری تصادم کی اہمیت نمایاں ہے۔ وجہ صاف ہے کہ ایران نے خود غیر ملکی بحریہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر کے امریکہ کو خلیج میں مستقل بحری موجودگی کا موقع دے دیا ہے۔ ایران کی طرف سے میری ٹائم نیوی گیشن کو ہدف بنانے سے پہلے امریکہ کے اس خطے میں مستقل اڈے یا بحری بیڑے موجود نہیں تھے۔
دوبارہ اس علاقے کی جنگی تاریخ کی طرف دیکھتے ہیں۔ سب سے پہلے ایران عراق جنگ کے دوران عراق نے ایرانی آئل ٹینکروں پر حملے شروع کیے تھے۔ لیکن ایران نے اپنی کارروائیوں کو صرف عراقی بحری فوج تک محدود نہ رکھا۔ بلکہ ایران نے اس وقت بھی خلیجی ملکوں کی کشتیوں کو اسی طرح نشانہ بنایا تھا جس طرح آج ہدف بنائے ہوئے ہے۔ موجودہ کشیدگی کے دوران جب امریکہ کا پانچواں بحری بیڑہ اس علاقے میں داخل ہوا تو ایک امریکی جہاز ایران کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔ امریکی جہاز کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے اس واقعے سے جنگی ماحول اور ٹکراؤ کی صورت تبدیل ہونے لگی۔ امریکہ بھی بحری تصادم کے لیے ایک فعال اور مؤثر فریق کے طور پر سامنے آگیا اور بحری لڑائی کے واقعات شروع ہو گئے۔ حتیٰ کہ دوسری جنگ عظیم میں بحری جنگ کے واقعات جیسے واقعات بھی سامنے آئے۔
ایران نے خلیج میں کویتی میری ٹائم سرگرمیوں کو نشانہ بنانا شروع کر کے کویت کو مجبور کیا کہ وہ مدد کے لیے دوسروں کو پکارنا شروع کرے۔ یوں کویتی ٹینکروں پر امریکی جھنڈے لہرائے گئے تاکہ ایران کویتی ٹینکروں کے قریب نہ آئے۔ مزید یہ کہ ان ٹینکروں کی حفاظت امریکی بحریہ کے سپرد کر دی گئی۔ یوں تصادم بین الاقوامی شکل اختیار کر گیا اور بالآخر ایرانی بحریہ اور اس کے بحری پلیٹ فارم تباہ کر دیے گئے۔ جنگ کا وہ مرحلہ اہم رہا اور بتدریج ایک لمبی جنگ کا خاتمہ ہو گیا مگر ایران کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اب 2026 کی جاری جنگ کو دیکھا جائے تو یہ جنگ بھی در اصل 1980 کے دوران لڑی جانے والی جنگ کا ہی تسلسل ہے۔ جو ایران کی جنگی پالیسیوں اور عزائم کا ایک بار پھر اظہار ہے۔ ایران نے اس دوران جنگ بندی کے لیے پاکستان کے توسط سے پانچ نکات بھی پیش کیے ہیں۔ جن میں ایک مطالبہ خطے سے امریکی فوجی اڈوں کے خاتمے کا بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ شرط ان پندرہ امریکی مطالبات کے بعد سامنے لائی گئی ہے۔ ان پندرہ مطالبات کی امریکی وائٹ ہاؤس نے سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔
اگرچہ یہ پندرہ مطالبات امریکہ میں عوامی سطح پر سامنے آنے والے بیانات کے مطابق ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی خواہشات ہی نظر آتے ہیں۔ واشنگٹن کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران اپنی جارحانہ فوجی صلاحیت کا خاتمہ کرے۔ جوہری و میزائل پروگرام ختم کرے۔ میزائلوں کا کیا گیا ذخیرہ ختم کر دے۔ اگر ایران یہ شرائط قبول کرلیتا ہے تو امریکی فوجی اڈے خطے سے ختم کرنے کا ایرانی مطالبہ معقولیت کے درجے پر کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اڈے ایرانی خطرے کے مقابلے کے لیے ہی قائم کیے گئے تھے۔ خطے پر کنٹرول کرنے کے سازشی نظریوں میں بجھے ہوئے ایرانی پوشیدہ عزائم اور مقاصد کا دعویٰ اپنی جگہ اہم رہا ہے۔
خلیجی ملکوں کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو ایرانی رجیم کے حوالے سے اعتماد کا نہ ہونا ہی ان امریکی فوجی اڈوں کے وجود کا جواز ہے۔ اس لیے جب تک ایرانی رجیم اپنے بارے میں بھروسہ کرنے کے حالات پیدا نہیں کرتی یہ جواز ثابت کرنا مشکل ہوگا کہ امریکی فوجی اڈے ختم کرنے کی بات کم از کم مستقبل قریب میں کی جا سکے۔ اس لیے لازم ہے کہ خود ایرانی رجیم اپنی پالیسیوں کو مثبت انداز میں لائے، ان میں تبدیلیاں کرے یا ان پالیسیوں کو مکمل طور پر تبدیل کرے۔ ایسی صورت حال میں یہ ہو سکتا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی ضرورت اور افادیت کے سوالوں کا نئے سرے سے جائزہ لیا جا سکے یا ان پر غور کیا جا سکے۔ یا کم از کم ایران کی طرف سے خطروں سے نمٹنے کے لیے متبادل حکمت عملی اختیار کی جاسکتی ہے۔
اس لیے بہتر ہوگا کہ ان مباحث کو حالات کے بدلنے تک اٹھا رکھا جائے۔ کیونکہ آج تو تاریخ ہی اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ جس طرح 1980 میں ہرمز میں ٹینکروں کی جنگ ہوئی تھی اسی طرح آج ہرمز کو بند کیا گیا ہے۔ جاری صورت حال موجودہ نظام پر بھروسہ کرنے کو اور بھی مشکل بناتی ہے۔ پچاس سال گرنے کے باوجود ایک بار پھر انہی طور طریقوں کو ظاہرکرتا ہے۔ تیل کی منڈیاں متاثر ہیں اور خطرے منڈلا رہے ہیں۔ ماضی میں جنگ صدام حسین اور خمینی کے درمیان ہوئی تھی۔ آج یہ جنگ ایران اور اسرائیل کے درمیان ہے۔ 1980 میں جس طرح کا ایران موجود تھا آج بھی وہی ایران سامنے ہے۔ عدم استحکام اور دہشت گردی کو پھیلا رکھا ہے۔ اس کی رجیم اپنی نوعیت کی آج آخری رجیم ہے۔ اس سے پہلے صدام رجیم، قذافی رجیم اور بشار رجیم کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
تاہم ایرانی رجیم کی لچک پر منحصر ہے کہ یہ کتنی دیر تک اپنے پاؤں پر کھڑی رہتی ہے۔ لیکن خیال رہے موجودہ جاری جنگ 1980 میں لڑی جانے والی جنگ نہیں ہے۔ اس وقت ایرانی رجیم نہ صرف اپنے عالم شباب میں تھی اور اس کی مقبولیت اپنے نکتہ عروج پر تھی۔ اب اتنا عرصہ بیتنے کے بعد ایرانی رجیم ضعیفی اور ضعف دونوں کا شکار ہے۔ اس دور میں ایرانی رجیم نوجوانوں میں جس قدر مقبول تھی اب نوجوانوں میں اتنی ہی غیر مقبولیت کی زد میں ہے۔ اس زمانے میں تو ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی جنگ کر لی تھی۔ اب نوجوان ایرانی شام، لبنان، عراق، یمن اور جنوبی امریکہ میں اپنے وسائل کے ضائع کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
اس لیے آبنائے ہرمز اب محض امریکی تشویش کا نکتہ نہیں ہے۔ یہ چین کے لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اسی طرح بھارت، جنوبی کوریا اور جاپان کے لیے بھی اس آبنا کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ان سب ممالک کی معیشت میں یہ آبی گزرگاہ بہت اہم ہے۔ تیل درآمد کرنے والی یہ ساری اقوام بھی آنے والے دنوں میں خود کو مجبور پا سکتی ہیں کہ اپنی جہاز رانی کو خود تحفظ دینے کے لیے آگے بڑھیں۔ کیونکہ ایران اپنی اس آبنا کو اپنے پڑوسیوں کے خلاف تذویراتی حربے کے انداز میں استعمال کر رہا ہے۔ نئی ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کی معیشت آبنائے ہرمز سے جڑے خطروں میں گھری ہوئی ہیں۔ یقینآ یہ ایرانی جارحیت کی وجہ سے ہے۔
اس وقت امریکہ ایک بنیادی فوجی اداکار ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ امریکہ اکیلا ہی ہمیشہ دوسرے ملکوں کے مفادات کا تحفظ کرتا رہے۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے اشارے بھی دیے ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز کو صرف خلیجی ملکوں کے خلاف استعمال نہیں کر رہا ہے بلکہ اپنے شراکت داروں کے خلاف بھی بروئے کار لا رہا ہے۔ ان میں ایران کے شراکت دار چین اور بھارت بھی شامل ہیں۔
یہ امر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ علاقائی سطح پر ایران ایک فوجی قوت ہے۔ یہی ایک اہم سبب بنا ہے کہ ایران کو جوہری قوت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پیشگی اقدام کیا جائے اور ایرانی بیلیسٹک میزائل صلاحیت کو روکنے کی کوشش کی جائے۔ کہ ایرانی فیکٹریاں ہزاروں کی تعداد میں میزائل اور ڈرون طیارے دھڑا دھڑ بنا رہی ہیں۔ یہ ساری تیاری تجارتی ضرورتوں کے لیے نہیں بلکہ علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے ایرانی عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے ہے۔
جنگ ظاہر کرتی ہے کہ ایران اپنے ہتھیاروں کی تیاری خلیجی ملکوں کے خلاف کر رہا تھا۔ اب خلیجی ملکوں کے خلاف ایرانی کارروائیوں سے یہ بات عملاً ظاہر ہورہی ہے۔ عراق اور اردن کو بھی ایران نشانہ بنا رہا ہے۔ اسی طرح بحر ہند اور بحیرہ احمر میں بھی ایران اور اس کے حمایت یا فتہ گروپ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ یہ گروہ یمن اور لبنان سے بھی متحرک ہیں۔ لہذا ایرانی عزائم الفاظ سے نہیں اس کی کارروائیوں سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے فوجی اڈے خطے سے ختم کرنے لیے لازم ہے کہ ایران اپنے جنگی عزام اور دھمکیوں سے باز آئے۔ کہ سارے اڈے چونکہ ایرانی دھمکیوں کا نتیجہ ہیں، اس لیے ایرانی حکمت عملی کی تبدیلی ان فوجی اڈوں کے خاتمے کی سوچ شروع ہونے کا سبب بن سکے گی۔