An AI-generated image depicting US President Donald Trump with the Iranian flag in the background. (ChatGPT)

جنگی تباہی کا ذمہ دار کون، ٹرمپ یا ایران؟

رغدہ درغام
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر ٹرمپ کو ان دنوں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ میں ایک ایسی پریشانی کا سامنا ہے جو اب صرف جوہری پروگرام یا فوجی کارروائی ملتوی کرنے سے متعلق تذبذب تک محدود نہیں ہے بلکہ آبنائے ہرمز بھی اس کا سبب ہے۔ اس سے بھی بڑی پریشانی یہ ہے کہ یہ جنگ خود بھی ایک مسخ شدہ اور اجنبیت کی شکار جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔

امریکہ اس جنگ میں ادھوری انٹیلی جنس معلومات اور فوجی جمع تفریق کی ناپختگی کے ساتھ داخل ہوا تھا کہ ایران امریکہ و اسرائیل کے پسندیدہ جنگی میدان میں ٹھر نہیں سکے گا۔ بلکہ وہ ان میدانوں میں اسے زیادہ کمزور اور آسان ہدف سمجھتے تھے۔

امریکہ و اسرائیل کا خیال یہی تھا کہ ایران اس جنگ کا انتقام براہ راست امریکہ سے امریکہ میں لینے کی پوزیشن میں نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسرائیل کو فیصلہ کن دھچکا پہنچانے کی پوزیشن میں ہو سکتا ہے۔ تو یہی فیصلہ ہوا کہ ایران خلیجی ملکوں میں ہی اپنا انتقام لے گا۔ ایران کے لیے اس کی اہمیت ایک تزویراتی معاملے کی بجائے اس ذہنیت کے تابع تھی جس کے تحت ایرانی رجیم کئی دہائیوں سے ایران میں حکومت اور فیصلہ سازی کر رہی تھی۔ وہ ذہنیت جس کے تحت وہ خلیجی ممالک کو اپنے سامنے عاجز و کمزور دیکھنا چاہتی ہے۔

یہ ایرانی ذہنیت آج بھی عراق کے خلاف اپنی جنگی سوچ کی اسیر ہے۔ اسی وجہ سے ایران کے لیے خلیجی ریاستوں کا لبرل چہرہ اور تشخص اسے بڑھیا نہیں لگتا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایران خلیجی ریاستوں کو اپنا ایک ایسا عقبی آنگن سمجھتا ہے جس میں جب چاہے کم قیمت میزائل داغ کر افراتفری اور تباہی کر سکے۔ جیسا کہ وہ عراق میں جب چاہتا ہے اپنی پراکسیز کو استعمال کر لیتا ہے۔ مگر اپنے بڑے دشمنوں کے مقابل براہ راست آنا اس کے لیے آسان نہیں ہے۔

لہذا سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر ملکوں نے امریکی صدر سے یہ درخواست کی کہ وہ ایران پر بڑا حملہ کرنے کے لیے نہ لپکیں۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ امریکی افواج کے ایران کے خلاف ان حملوں کے نتیجے میں ایران کا سب سے خطرناک جواب انہی خلیجی ریاستوں کو بھگتنا اور سہنا پڑے گا نہ کہ واشنگٹن اور تل ابیب کو۔ عرب ملکوں کی اس کوشش کے پیچھے ہرگز یہ احمقانہ سوچ نہیں تھی کہ ایران کے رویے میں کوئی لچک ہو سکتی ہے۔ بلکہ ان کی کوشش یہ تھی کہ ایران کو خطے میں پھوٹنے والی اس جنگ میں خودکشی سے بچانے کی کوشش کر سکیں۔

واشنگٹن میں خلیجی ملکوں کی اس درخواست کو یہ سمجھا گیا کہ وہ بڑے فوجی حملے سے پہلے کچھ وقت چاہتے ہیں۔ کچھ کا خیال یہ تھا کہ خلیجی ممالک جنگی التوا اس لیے چاہتے ہیں کہ یہ ٹرمپ کی خواہش تھی جبکہ وہ جنگ کے لیے دشمنی پر اترا ہوا تھا۔ مگر پینٹاگون نہیں چاہتا تھا کہ وہ جنگ میں کوئی ایسی تاخیر کرے یا ایسا التوا دیکھے جس کی کوئی 'لمٹ' نہ ہو۔ لہذا پینٹاگون نے ٹرمپ کو عرض کیا کہ انتظار کرنا کوئی حکمت عملی نہیں ہوتی۔ لہذا ٹرمپ کو کوئی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایران پر فیصلہ کن فوجی حملہ کرنے کا فیصلہ کریں یا پھر کوئی 'فیس سیونگ' لے کر اس جنگ سے نکل آئیں۔

اس وقت امریکی صدر کو ایک نازک سوال کا سامنا ہے کہ 'شٹل ڈپلومیسی' اور غیر معمولی لچکیلے مذاکرات صدر ٹرمپ کے فائدے میں نہیں ہیں۔ اس صورت میں ٹرمپ کو نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ وقت ٹرمپ کا تعاقب کر رہا ہے۔ ایران ان بنیادوں پر امریکہ کے سامنے سرنڈر کرنے کو تیار نہیں ہے جن کا تقاضا امریکہ کر رہا ہے۔

خصوصاً جوہری پوگرام اس بارے میں امریکہ و ایران کے درمیان اتفاق میں مشکلات ہیں۔ الا یہ کہ ایران یہ سمجھ لے کہ بصورت دیگر ٹرمپ ایران کے خلاف کون کون سے جنگی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ امریکہ کے سامنے جو آپشنز موجود ہیں انہیں 'سات چابیوں' کا نام دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ایک مجموعی جمع تفریق کی بنیاد پر پیچیدہ آپریشن جو ایران کو سنگین شکست سے دوچار کر سکے، یہ محض علامتی حملہ نہیں ہوگا۔ اس سے ایران کی توانائی کے ذخائر، مواصلات سے متعلقہ انفراسٹرکچر، آبنائے ہرمز سے متعلق تنصیبات کے ساتھ ساتھ جوہری تحقیقاتی مراکز اور پاسداران انقلاب کور کے ساتھ ساتھ خود ایرانی قیادت بھی نشانہ بن سکتی ہے۔

مسئلہ یہ رہا اس بات کا پیشگی صحیح اندازہ نہیں کیا گیا کہ جواباً ایران کی طرف سے خطے میں جنگ کے کیا خطرات پیدا ہوجائیں گے۔ اس کوتاہی کی ذمہ داری امریکی و اسرائیلی انٹیلی جنس پر آتی ہے جو ٹرمپ کو ممکنہ جنگی منظر نامے کی صحیح تصویر نہ دکھا سکے۔ جیسا کہ ولادیمیر پیوتن نے جب یوکرین پر حملہ کیا تھا تو ان کی جنگی امکانات اور خطرات کے بارے میں جمع تفریق درست نہیں تھی۔ پیوتن کا خیال تھا کہ یوکرین میں جنگ تیزی سے ہوگی اور مختصر ہوگی اور یوکرین کو اس جنگ کے نتیجے میں ایک تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ بھی اس وقت اسی ممکنہ صورتحال کے مقابل کھڑے ہیں۔ ایک بڑے حملے سے ہو سکتا ہے فوجی اہداف حاصل کر لیے جائیں لیکن یہ بھی خطرہ موجود تھا کہ اس سے علاقائی سطح پر جنگ کے وسیع دروازے کھل جائیں لیکن امریکہ اس پر قابو پانے کی تیاری کے ساتھ نہیں تھا۔ غلطی صرف ایرانی فوج کی صلاحیت کا ادراک کرنے میں نہیں ہوئی۔ بلکہ اس بات کو سمجھنے میں ناکامی ہوئی کہ ایران پر حمکرانی کرنے والے لوگوں کی انتقامی ڈاکٹرائن کہاں تک جا سکتی ہے جس کا وہ کھلے عام اظہار کر رہے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ جنگ میں یہ جانے بوجھے بغیر کود پڑی کہ ایران کا ردعمل اور جواب محدود نہیں ہوگا۔ وہ خلیج میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا اور ان خلیجی ریاستوں کے انفراسٹرکچر کا بھی گہرا نقصان کرے گا جو امریکہ کی اتحادی ہیں۔

کیا اس من مانی کارروائی کے پیچھے کوئی خفیہ ایجنڈا تھا یا محض سنگین غلطی اور بڑی ناکامی تھی جو امریکی انٹیلی جنس اور فوجی اداروں کی سطح پر سامنے آئی۔ یہ سوال جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف کے سامنے بھی آیا کہ کیا انہوں نے پاسداران انقلاب کی خوفناک ڈاکٹرائن اور ذہنیت کو سمجھا نہیں تھا یا وہ مالی فوائد کے پیچھے احمقانہ دوڑ رہے تھے اور انہیں امید تھی کہ اس کے نتیجے میں انہیں ڈیل مل جائے گی۔

لہذا انہوں نے ان سنجیدہ معاملات کو نظر انداز کر دیا۔ مضمرات سے بھرے سوال میں یہ بھی شامل ہے کہ کیا یہ شکست ان کے شخصی رجحانات کی بنیاد پر کیے گئے فیصلوں کی وجہ سے ہے یا ان کی دولت کے لیے بھوک اس کا سبب بنی کہ وہ ہر صورت دولت کے لیے ڈیل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس سوال کو ایسے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کیا امریکی فیصلوں میں کوئی گہرا ساختیاتی مسئلہ موجود ہے۔

اب یہ کوشش جاری ہے کہ ایسی دستاویز تک پہنچا جائے جو جنگ کو ختم کرے یا کم از کم اسے کچھ عرصے کے لیے منجمد کر دے۔ لیکن کوئی ایسا معاہدہ جو ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق ہو مگر ایرانی میزائل پروگرام کو نظر انداز کر دے تو یہ معاہدہ نا مکمل اور کمزور معاہدہ ہوگا۔ اسی طرح ایرانی ڈرونز اور ایرانی حمایت یافتہ پراکسی تنظیموں کو نظر انداز کرنا بھی اس معاہدے کی کمزوری کا اظہار ہوگا۔ کیونکہ ان مسلح گروپوں کی ڈاکٹرائن سے روزانہ کی بنیاد پر خطرہ لاحق رہتا ہے اور یہ بھی خدشہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت انتقام کے لیے حملہ آور ہو سکتی ہیں۔

ٹرمپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بات کا بھی جواز دیں کہ انہوں نے یہ جنگ کیوں شروع کی تھی اور اب اس سے نکلنے کی کیوں کوشش میں ہیں۔ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انہیں تقریباً فتح ہو چکی ہے۔ لیکن ان کے مقابل ایران بھی واضح طور پر یہ کہہ رہا ہے کہ وہ سرنڈر نہیں کرے گا۔ فریقین کے لیے 'فیس سیونگ' غیر معمولی طور پر اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن یہ کافی نہیں ہوگا کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر اس دوران بھی کنٹرول برقرار رہے۔

لیکن یہ اس صورت میں کافی نہیں ہوگا کہ آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول رہے اور ایران جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی ڈکٹیشن دینے کی پوزیشن میں رہے۔ نیز عرب ملکوں کے خلاف بھی ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کرتا رہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ لفظوں اور محاوروں کا سہارا لیتے ہوئے اپنی جنگ کو منسوخ یا ملتوی کر سکیں۔ لیکن وہ ایسی کسی دستاویز کو ایک جواز کے طور پر پیش نہیں کر سکتے جو علاقے کے لیے خطرات کا احاطہ نہ کرتا ہو۔

چین اور روس اس وقت منظر پر موجود ہیں۔ دونوں کے ایران کے ساتھ تزویراتی معاہدات جبکہ عرب ملکوں میں گہرے مفادات موجود ہیں۔ چین اس مذاکراتی عمل میں پاکستان کی مدد کرنے کے لیے آیا ہے اور غالباً اس لیے بھی کہ ایران کی لچک دکھانے کے لیے حوصلہ افزائی کرے تاکہ ٹرمپ کو جنگ سے پسپائی کا موقع دیا جا سکے۔ لیکن وہ امریکہ یا ایران میں سے کسی بھی فریق کا اس معاہدے میں ضامن نہیں بنے گا۔ وہ یہ بات کہنے کی بھی کوشش میں ہے کہ ایران کو باور کرائے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنی بالادستی کے لیے کوششیں نہ کرے اور خطے میں تصادم شروع کرنے سے گریز کرے۔

چین جو کہ مفادات کی زبان اور لہجے میں گفتگو کرنے میں زیادہ مہارت رکھتا ہے۔ اس کا طویل مدتی تزویراتی فائدہ اس میں ہے کہ وہ اپنے تذویراتی اثاثے ایران کو مجبور کرے کہ وہ اس طرح کی ایک اور کوشش کرے۔ ٹرمپ کا بنیادی خیال یہ تھا کہ وہ ایران سے روس اور چین کو دور کرے لیکن وہ ایسا کرنے میں بری طرح ناکام رہا، اس لیے کہ اس نے جنگ کو برے طریقے سے لڑنے کی کوشش کی اور جنگ لڑنے سے ہچکچاتا رہا۔ اس کے فیصلہ نہ کرسکنے کی وجہ نے اسے ایک کونے سے لگا دیا۔

روس نے اس جنگ کا یہ فائدہ اٹھایا کہ اس نے اپنے گیس اور تیل کے حوالے سے اپنی ضرورتوں کی از سر نو تجدید کی۔ جبکہ یورپ اس میں سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ملکوں کا بلاک رہا اور اسے سرما سے پہلے گیس کے حصول کے لیے روس کے دروازے پر جانا پڑا ہے۔ چین بھی اس سلسلے میں ایک عظیم تذویراتی فائدہ اٹھانے والا ملک ہے کہ اس نے اپنے ہاں مختلف صدور کو خوش آمدید کہا اور پھر ایک متوازن پالیسی کو ممکن بنا کر ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ اس کے مقابلے میں امریکہ بے چینی و اضطراب اور پریشانی میں نظر آیا اور اپنی فوجی قوت کو سیاسی نتائج پیدا کرنے کے لیے کوئی نپا تلا انداز نہ اختیار کر سکا۔

ایران کے مرکزی مذاکرات کار اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر احمد واحدی اس امر کا ثبوت ہیں کہ وہ حقیقی معاہدے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ وہ ایسی ڈاکٹرائن کے ساتھ سامنے آئے ہیں جو مراعات چاہتی ہے نہ ہتھیار پھینکنا۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسے حکمرانی کے نظام کے ساتھ مذاکرات کیے جا رہے ہیں جو لچک کو کمزوری سمجھتا ہے اور انتقام کو ایک سیاسی وفوجی حربہ۔

یہ خیال کرنے میں کوئی منطق نہیں ہے کہ ایران اس وقت تک حقیقی رعایتیں نہیں دے گا جب تک وہ واضح طور پر یہ نہ دیکھ لے کہ امریکہ کے ساتھ کلیدی نکات محض زبانی دھمکی نہیں ہیں بلکہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کے منصوبے کی تیاری ہیں۔ اس کی فوج، تیل اور جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ مواصلاتی صلاحیتوں کو ہدف بنانے کی عملی کوشش۔

ہم ایک ایسے عبوری مرحلے سے گزر رہے ہیں جو انتہائی خطرہ لیے ہوئے ہیں کہ امریکہ ایک ایسی دستاویزات کی تیاری کے لیے کوشاں ہے جس کے نتیجے میں ٹرمپ کو 'فیس سیونگ' مل سکے اور اسے ایسا نہ ظاہر کر سکے کہ اس نے ایران کے لیے وقت حاصل کرنے میں کردار ادا کیا۔ چین اور روس ایران میں اپنی تذویراتی سرمایہ کاری کو از سر نو دیکھ رہے ہیں۔ تہران اس پر فخر کی کیفیت میں ہے کہ اس نے سرنڈر نہیں کیا جبکہ اپنے حملوں کے ذریعے خلیجی ملکوں کو سزا دینے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ موقع نہیں بلکہ ایک قیمت ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ جنگ صرف ایران کے لیے ایک آزمائش نہیں بلکہ خود امریکہ کے لیے بھی امتحان ہے۔ یہ صدر ٹرمپ کے حوالے سے اس چیز کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ جنگوں کو اپنے مالیاتی فائدے کے لیے بروئے کار لاتے ہیں۔

اسی طرح یہ بھی ایک الارمنگ حقیقیت ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اور فوجی اداروں میں ہر دو صورتوں میں مسائل ہیں کہ امریکہ اس تزویراتی اعتبار سے برے واقعے کی قیمت ادا کر سکے گا امکانی طور پر زیادہ نقصان کے ساتھ حیرت کا اظہار کر رہا ہے۔