Usa and israel flags painted on concrete wall stock photo Israel and United States two flags stock photo

کیا اسرائیل امریکہ کے بغیر کچھ کر سکتا ہے؟

زید بن کمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند روز قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے معمول سے ہٹا ہوا ایک بیان دیا ہے۔ ان کا یہ بیان خود اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے معمول کی سوچ اور اپروچ سے بھی مختلف ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے اسرائیل کو اب لازماً خود انحصاری کی راہ پر آنا ہو گا۔ امریکی اسلحے اور ہتھیاروں کی محتاجی سے بھی بتدریج خود کو آزاد کرنا ہو گا۔ ان کی طرف سے یہ بات امریکی فوجی امداد کے تناظر میں کہی گئی۔ اسرائیل کے لیے اس امریکی فوجی امداد کا حجم تقریباً 53 ارب ڈالر ہے۔

جبکہ اسرائیل کے لیے امریکہ کی سالانہ امداد 8 ارب ڈالر ہے۔ اس پس منظر میں نیتن یاہو کہہ رہے تھے 'اب ہم ایران اور اس کی 'پراکسیز' کے خلاف کھڑے ہیں۔ لیکن ان کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے لازم ہے کہ ہم کتنے مضبوط و مستحکم ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ہم اگلے تیس سال میں کس حال اور مقام پر موجود ہوتے ہیں۔'

اس کا انحصار ہماری اپنی مضبوطی پر ہو گا۔ اس لیے ہم آج کل اپنی قوت میں اضافے کے لیے متحرک ہیں۔ نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا 'میں چاہتا ہوں کہ ہم ہتھیاروں کے حوالے سے بھی ایسے آزاد اور خود کفیل ہو جائیں اور ہماری اپنی تنظیمیں اور ادارے ایسے ہوجائیں کہ ہمیں اسلحے کی ضرورتوں کے لیے کسی کی محتاجی نہ رہے۔'

اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ بیان اس حوالے سے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ بڑے موقع پر سامنے آیا ہے۔ ایسے حالات میں جب ان کا بظاہر ٹرمپ انتظامیہ سے سیاسی اختلاف بڑھ رہا ہے۔ نیتن یاہو کا یہ اختلاف ایران کے خلاف جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے بھی بڑھ رہا ہے۔ اس صورت حال میں یہ سوال نمایاں طور پر ابھر آیا ہے کیونکہ یہ معاملہ سیاسی اختلاف سے بڑے اختلاف کا موضوع ہے۔ کیا واقعی اسرائیل امریکہ کے بغیر زندہ رکھ سکتا ہے۔ اسی سوال کو فوجی اور سلامتی کے حوالے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

لیکن یہ سوال نیا نہیں ہے۔ یہ اسرائیلیوں کی طرف سے ایک سے زائد بار اٹھایا جا چکا ہے۔ 2017 میں ایک تحقیقی رپورٹ اس موضوع پر شائع ہوئی، بعد ازاں یہ اسرائیلی سلامتی سے متعلق حلقوں میں ایک ریفرنس پوائنٹ بن گئی۔ اس رپورٹ کا عنوان یہ رکھا گیا تھا 'کیا اسرائیل امریکہ کے بغیر قائم رہ سکتا ہے؟'

یہ رپورٹ اسرائیل کے ایک سابق نائب مشیر چارلس فریلیچ برائے سلامتی نے تحریر کی تھی۔ سابق نائب مشیر برائے سلامتی نے لکھا جو لوگ امریکہ سے آزادی پانے کے آرزو مند ہیں انہیں اپنی اس خواہش کے مضمرات سے محتاط رہنا ہوگا۔

چارلس فریلیچ کے مطابق ایک امریکہ ہی ایسا ملک ہے جو کھلے عام اسرائیل کے ساتھ اس قدر گہرے تعلقات رکھتا ہے۔ اس کی تزویراتی اہمیت پچھلی کئی دہائیوں پر محیط اسرائیل کی امریکی حمایت کے سبب ہے۔ امریکہ اسرائیل کی سلامتی کے علاوہ انٹیلی جنس کے شعبے میں تعاون کے ساتھ ساتھ سفارتی پشت پناہی اور عالمی اداروں کے ذریعے تحفظ کا مسلسل باعث ہے۔

معاشی اعتبار سے امریکہ کی اسرائیل کے لیے امداد کا حجم کتنا ہی ہو۔ نظری اعتبار سے متبادل کی تلاش کی جا سکتی ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہو گا کہ اسرائیل اپنے فوجی اخراجات میں کتنا اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ مسئلہ معاشی وسائل کی کمی بیشی سے جڑا نہیں ہوگا بلکہ مسئلہ ٹیکنالوجی کےحوالے سے ہوگا۔ اسرائیل کے زیادہ تر فضائی نظاموں کا انحصارامریکی ہتھیاروں پر ہے۔ جیسا کہ ایف 35 جنگی طیاروں اور ان کے علاوہ ہتھیاروں کے اضافی پرزے، جدید قسم کا ہتھیار و گولہ بارود، انجن اور جدید فوجی مواصلاتی نظام، ان سب کے لیے اسرائیل کا انحصار امریکہ پر ہی ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیلی فوجی صنعت جسے دنیا میں جدید صنعتوں میں شامل کیا جاتا ہے، تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو امریکہ کی مدد اور شراکت داری سے ہی کھڑی کی جا سکی ہے۔ یہ سب کچھ امریکہ سے الگ رہتے ہوئے حاصل نہیں کیا گیا۔

سیاسی حوالے سے بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کی حساسیت و اہمیت غیر معمولی ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو سلامتی کونسل میں درجنوں بار تحفظ دینے کے لیے اپنا ویٹو کا حق استعمال کیا ہے۔ اگر امریکہ اور اس کے زیر اثر ملک اسرائیل کو سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی اداروں میں احساس تحفظ نہ دیتے تو اسرائیل کی عالمی تنہائی ہی اس کے لیے تباہ کن نہ ہوتی بلکہ اس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر لگائی گئی پابندیاں بھی کم نہ ہوتیں۔ امریکہ نے اسرائیل کو سیاسی حوالے سے عالمی سطح پر جو چھتری فراہم کر رکھی ہے اس طرح کی محفوظ پناہ فراہم کرنے والی چھتری دنیا کا کوئی اور ملک اسرائیل کو نہیں پیش کر سکتا۔

چارلس فریلیچ نے یہاں تک کہا امریکہ صرف اسرائیل کا اتحادی نہیں ہے بلکہ اسرائیل کے دفاع اور تحفظ کا ایک انتہائی اہم عنصر ہے۔ اسرائیل کے بارے میں اس کے دشمن جب بھی کبھی جمع تفریق کرتے ہیں تو وہ صرف اسرائیل کی فوجی و معاشی قوت کی بنیاد پر نہیں کرتے بلکہ وہ ہمیشہ اس پہلو کو سامنے رکھتے ہیں کہ اگر امریکہ کو اسرائیل کے حق میں سیاسی یا فوجی اعتبار سے بیچ میں کودنا پڑا تو اسرائیل کے دشمنوں کے لیے مشکلات غیر معمولی ہو جائیں گی۔ اس لیے امریکہ کا نام بھی اسرائیل کے لیے تحفظ کا استعارہ ہے۔ سیاسی، معاشی، فوجی اور ٹیکنالوجی ہر شعبے میں امریکہ اسرائیل کے لیے دستگیری کا بھی اہتمام کرتا ہے اور اس کے تحفظ کا بھی۔

اس تناظر میں نیتن یاہو کے ان تازہ ریمارکس کی اہمیت قابل عمل تزویراتی منصوبے کی بجائے سیاسی زیادہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ اسرائیل نے حالیہ برسوں میں اپنی فوجی صنعت کو مقامی وسائل و ایجادات سے جوڑا ہے اور بیرونی انحصار کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دنیا کی ایک بڑی ہتھیار بنانے اور برآمد کرنے کی شناخت پائی ہے۔ حتیٰ کہ حالیہ جنگوں کے دوران بھی اسرائیل نے اپنا ملکی سطح پر بنایا گیا اسلحہ اور دفاعی ٹیکنالوجی کا کافی استعمال کیا ہے۔ جبکہ اس نے مقابلتاً بیرونی اسلحہ و ہتھیاروں پر اپنا انحصار کم کیا ہے۔ لیکن مکمل خود انحصاری کا ہدف حاصل کرنا بہت دور کا ہدف ہے اور اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اسرائیل بہت کمزور صلاحیتوں کا ملک ہے۔ بلکہ اس کی وجہ جدید فوجی صنعت کی نوعیت کافی مختلف ہو گئی ہے۔ ہتھیاروں اور اسلحہ کی سپلائی میں کئی پیچیدگیاں آڑے ہیں۔ حتیٰ کہ بڑی طاقتوں کو بھی اس سلسلے میں دقتوں کا سامنا ہے۔

اس لیے ہتھیاروں کے شعبے میں اسرائیل کو امریکی احتیاج سے نکالنے کی بات کرنے کا مقصد فوجی صنعتوں کے اعتبار سے خود کو امریکہ سے دور کرنے کی بجائے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی 'ری سٹرکچرنگ' کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل کی یہ بھی کوشش ہو کہ وہ اپنے فوجی و جنگی فیصلوں کے لیے نسبتا زیادہ آزادی چاہتا ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی احساس کرنے کی چیز ہے کہ امریکہ پر انحصار کا خاتمہ اس مکمل نیٹ ورک سے دوری اختیار کرنا ہو گا جو امریکہ کی وجہ سے اسے دستیاب ہے۔ یہ نیٹ ورک فوجی، تکنیکی، سفارتی، سیاسی پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ انٹیلیجنس خدمات اور تعاون کے حوالے سے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

نیتن یاہو کے اس بیان کا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی مذاکراتی سطح کو بہتر کرنا چاہتے ہوں یا اپنے عوام کو ایک سیاسی پیغام یا نعرہ دینا چاہتے ہوں کہ وہ اسرائیل کو کتنا بڑا اور خودمختار دیکھنا چاہتے ہیں، اس لیے عوام ان کا ساتھ دے۔ نیتن یاہو نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ ان حدود سے باہر نہیں ہے جو قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔ اس لیے دوسروں کو بھی اس سے کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ امریکہ و اسرائیل کے درمیان کوئی فاصلہ پیدا ہوگیا ہے۔ البتہ یہ سوال اپنی جگہ حقیقت پر مبنی ہے کہ اگر اسرائیل امریکہ کے بغیر اکیلے پرواز کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کی قیمت ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے؟ کم از کم مستقبل قریب میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔