A man looks at his mobile phone in front of the flag of the Gulf Cooperation Council, GCC, in Kuwait City. (File photo: AP)
خلیجی ممالک کا محاذ بحال کرنا ضروری
خلیجی ریاستوں کو اپنی سلامتی و وجود کے حوالے سے جس چیلنج کا آج سامنا ہے، اس سے بڑا چیلنج شاید پہلے کبھی ان کے تجربے میں نہیں آیا ہے۔ حتیٰ کہ ایران عراق جنگ اور کویت پر عراقی قبضہ بھی اتنے بڑے چیلنج کی صورت میں نہیں تھا۔ اس وقت کی دنیا ایک واضح ذہن کے ساتھ موجود تھی اور وہ ایک مؤقف اختیار کرنے کو تیار تھی۔ آج اگرچہ دنیا میں اتحادوں کی سیاست و کلچر ہے اس کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ صرف فوجی طاقت اور ٹیکنالوجی کو کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔
ایران نے ایک منظم انداز کے ساتھ چھ خلیجی ریاستوں کو اپنے حملوں کی زد پر لیے رکھا۔ اس لیے اب بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ جنگ ختم ہوگئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ حملے حقیقتاً ابتداء ہوں اور آج اس علاقے کو مزید اسلحے اور ہتھیاروں کی طرف دھکیلا جا رہا ہو تا کہ ریاستیں اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط تر کر سکیں اور طاقت کے نئے محور تشکیل پا سکیں۔
بظاہر اسی امر کا امکان زیادہ لگ رہا ہے کہ ایران میں امریکی جنگ امریکہ کی اس خطے میں آخری جنگ ہوگی۔ خاص طور پر جب سے امریکہ نے تیل کے میدان میں خودکفالت اختیار کر لی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ وہ اس صورتحال کو تبدیل کر دے جس کی شروعات صدر اوباما نے کیں۔ بعد ازاں جوبائیڈن نے ذکر کیا اور اب ٹرمپ ان کا تعاقب کرنا چاہتے ہیں۔
اس خلا کا ایک ضمنی نتیجہ یہ ہے کہ خطے میں علاقائی اتحادوں کی واپسی ہو گئی ہے اور پھر سے ملکوں کے نئے محور بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ جیسا کہ اسلام آباد اور انقرہ۔ اگر مقصد ایران سے خطے کو محفوظ رکھنا ہے تو کیا یہ دونوں ملک اس بات کی صلاحیت رکھنے والے ہیں۔
البتہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ معاہدہ ایک روایتی طاقتی محور نہیں ہے۔ بلکہ اس کی بنیاد فوجی تعاون پر ہے۔ ترکیہ نہیں چاہتا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی تصادم میں داخل ہو۔ وہ نیٹو کی چھتری سے لطف اٹھا رہا ہے اور امریکہ کے ساتھ بھی فوجی تعلقات رکھتا ہے۔ اس لیے ترکیہ نہیں چاہے گا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی تصادم میں خود کو گھسیٹ کر لے جائے۔
ایران جس کی نئی قیادت کے آنے کے بعد ابھی اس کی سمت کا اندازہ کرنا باقی ہے۔ تاہم اس کی طرف سے خلیجی ملکوں کو دباؤ اور دھونس کی زد میں لائے جانے کے نتیجے میں خلیجی ریاستیں اسرائیل کی طرف خود کو دھکیلا جانا محسوس کریں گی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خلیج کے پانیوں میں پہلی بار پانچویں امریکی بحری بیڑے کی آمد کا باعث ایران ہی بنا ہے، جب اس نے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا اور اہنے جوہری پروگرام کو خطے کے لیے ایک خطرے کے طور پر جاری رکھا۔
جنگ کے بحران نے پچھلے ماہ فروری سے کئی نئے پرت کھول دیے ہیں۔ ایک پیچیدہ علاقائی مثلث وجود میں آ گئی ہے۔ جس میں ایک طرف ایران ہے، دوسری جانب خلیجی ممالک ہیں اور تیسری سمت میں اسرائیل ہے۔ کیونکہ ایران نے خلیجی ریاستوں کے خلاف اپنے جارحانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، اس لیے لازم ہے کہ وہ بھی ایک نیا حفاظتی نظام ڈویلیپ کریں جو پیدا شدہ خلا کو پر کرنے والا ہو۔ خاص طور پر ایسے ماحول میں جب امریکہ ایران کے ساتھ عدم جارحیت کا ایک معاہدہ کر رہا ہے۔
ہم ایرانی ارادوں کا اندازہ نہیں کر سکتے جب تک کہ اس کے ارادوں اور نیت کے بارے میں الفاظ اس کے اقدامات کے ساتھ مماثلت نہ رکھتے ہوں۔ کیا ایران دو طرفہ حملوں پر مبنی اپنی 'پنسر سٹریٹیجی' کا خاتمہ کرے گا جو خلیجی ریاستوں کی سلامتی کو خطرے میں لانے کے لیے اس نے شمال سے جنوب تک شروع کر رکھی ہے۔ ضروری ہوگا کہ وہ اپنی ملیشیاؤں کو ایران و یمن میں ختم کر دے۔
اس جنگ کے دوران ایران نے خلیجی ریاستوں سے انتقام لینے کی کوشش کی۔ مگر وہ اسرائیل اور لبنان میں مقابلہ نہ کر سکا۔ یا اسے خوف تھا کہ امریکہ کی طرف سے خلیجی پانیوں میں جواب آئے گا۔ یہی وہ چیز تھی جسے خلیجی ریاستوں نے خود کو مجتمع کرنے پر مجبور کیا، یہاں تک کہ شیطان کے ساتھ بھی۔
ایران کے خلیج پر حملوں نے ان ریاستوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے اور ان کے اختلافات کو کم کر دیا ہے۔ تاہم یہ اختلافات ختم نہیں ہوئے۔ اگر ایران کی طرف سے خطرہ بڑھتا گیا تو شاید دوسری طرف سے باہمی قربت میں بھی اضافہ ہوگا جیسا کہ جنگ کے بعد ہو رہا ہے۔ یہ خلیجی ریاستیں اپنے آپ کو اس سلسلے میں مجبور پائیں گی کہ وہ ایرانی خطرے سے نمٹنے کے لیے خود کو ایک محاذ کی شکل میں وجود میں لائیں۔
اس شک بھری سوچ کو کون سی چیز آگے بڑھا رہی ہے؟ کیا یہ خلیجی ریاستوں کا خوف ہے کہ ایرانی و امریکی باہم ایک معاہدے پر خلیجی ملکوں کی قیمت کی بنیاد پر ہی پہنچیں گے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ مذاکرات میں کوئی ایسی چیز ہو کہ واشنگٹن کو ان کے خلاف جانا پڑے۔ البتہ اس کا امکان زیادہ ہے کہ ایرانی مذاکرات کار خلیجی ملکوں کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کریں کہ ایران کا انہیں جنگ کے خاتمے کے بعد پھر سے ہدف بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ نئی حقیقت کی موجودگی میں ایران علاقائی سطح پر اپنے نقصانات کا ازالہ چاہے گا اور شاید وہ لبنان و شام کے حوالے سے بھی ایسی ہی ازالے کی پالیسی کو سامنے لائے۔
ہم امریکہ کے ساتھ ایک امن معاہدے کی توقع کر سکتے ہیں جو امکانی طور پر وعدوں کے تبادلے پر مبنی ہوگا۔ واشنگٹن کا بنیادی مطالبہ ایران کے جوہری منصوبے کے بارے میں ہے۔ اس کے بدلے میں ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ یہ وعدہ کرے کہ وہ آئندہ ایران پر حملہ آور نہیں ہوگا۔ یہی صورتحال اسرائیل کے ساتھ ہے کہ وہ حزب اللہ سے نجات پائے بغیر کچھ قبول نہیں کرے گا۔ تاکہ اس کے اردگرد موجود ایرانی محاصرہ ختم ہو سکے۔
یہ نہیں لگتا کہ مذاکرات کار اس سے اتفاق کریں گے کہ ایران کو خلیجی ریاستوں کے خلاف پھر سے جارحیت نہ کرنے کا وعدہ نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اس کے باوجود ایران کو اس چیز سے نہیں روکا جا سکتا کہ وہ خطے اور خلیجی ممالک کے لیے ایک خطرے کے طور پر موجود رہے۔ خصوصاً جب آبنائے ہرمز کا ہتھیار اس کے پاس ہونے کے علاوہ علاقے میں اس کی 'پراکسیز' بھی باقی ہیں۔
لہذا اس کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ ایران کو اپنے کیے ہوئے وعدے پورے کرنے پر مجبور کرنے کے لیے اس کی طاقت کا توڑ کیا جائے۔ خلیجی ممالک مشترکہ طور پر تذویراتی گہرائی کی حامل ہیں۔ ان کی افواج ہیں۔ یہ ممالک مجموعی طور پر 4 ٹریلین ڈالر کی معیشت رکھنے والی مملکتیں ہیں۔ انہیں اپنے اس 'پوٹینشل' کا پورا ادراک ہے۔ دوسروں کو بھی اس کی تفہیم ہونی چاہیے۔