مضيق هرمز22 (تعبيرية- آيستوك)

آبنائے ہرمز کے بعد خلیجی ممالک میں جنگ، ایران کا ہتھیار اور اسرائیلی حکمت عملی 

نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف 28 فروری کو جس جنگ کا آغاز کیا تھا، اس کے اہداف اور حکمت عملی میں تبدیلی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اس ناطے جنگی ماہرین بھی اسے مقابلتاً مختلف جنگی ماڈل سمجھنے لگے ہیں۔ ایک اور پہلو جو اس جنگ کو عام دو طرفہ جنگوں سے ممتاز کرتا ہے، وہ اس کا محدود عالمی جنگ ہونا ہے۔ اس کے محدود ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض ملکوں کی جنگ میں براہ راست شرکت سے ابھی تک گریز کی پالیسی ہے۔

28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے 40 روز بعد جنگ بندی اور بعدازاں 18 جون کو پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکی و ایرانی صدور نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ مفاہمتی یادداشت میں کچھ ابہام بڑے واضح انداز میں موجود ہونے کے ساتھ ساتھ ایران کی بعض پہلوؤں سے جنگی کامیابی کے اشارے اس قدر واضح تھے کہ مفاہمتی یادداشت شروع میں ہی شکوک سے بھری یادداشت سمجھی گئی۔

بہت سوں کو اس نوعیت کی یادداشت حیران کن لگی اور بہت سوں کے خیال میں اس پر عمل کا ہو جانا انتہائی حیران کن ہوتا۔ نتیجتاً اتنے شکوک و شبہات، سوالات اور اگر مگر کی وجہ سے یہ مفاہمتی یادداشت دستخطوں کے تیسرے ہفتے کے دوران ہی جنگی شعلوں میں راکھ ہونے کے خطرات سے دوچار ہوگئی۔ اس سلسلے میں ایک اہم واقعہ نیٹو سربراہ کانفرنس منعقدہ انقرہ میں صدر ٹرمپ کا اس مفاہمتی یادداشت کے بارے میں لاپرواہی پر مبنی اظہار خیال تھا۔ جس میں انہوں نے تقریباً اس یادداشت کو ختم ہی قرار دے دیا۔ بعدازاں اومان کے پانیوں سے جہازوں کو گزارنے کی نئی حکمت عملی ایران کو مفاہمتی یادداشت اور آبنائے ہرمز پر اپنی بالادستی کے منافی نظر آئی تو اس نے ایک نہیں تین جہازوں کو حملے کا نشانہ بنا دیا۔ مفاہمتی یادداشت کے مستقل خطرے میں پڑنے کا یہ دوسرا بڑا سنگ میل تھا۔ اس وجہ سے ایران کو کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اب جنگ پھر اس شدت کے انداز سے آگے بڑھ رہی ہے کہ بہت سے سنگ میل پیچھے رہ گئے ہیں جبکہ جنگ آگے بڑھا دی گئی ہے۔ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے محض ایک ہفتے بعد 'العربیہ' کی انہی سطور میں لکھا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز ایران کا ہتھیار بن گئی ہے۔ یہ کالم 7 مارچ کو اشاعت پذیر ہوا تو بظاہر آبنائے ہرمز کے بارے میں یہ ایک حیران کن بات تھی۔ مگر بعدازاں آہستہ آہستہ بدقسمتی سے یہی ہو گیا۔

ایران کے ہاتھوں آبنائے ہرمز کا بطور ہتھیار استعمال ہونا مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کا ایک اہم سبب بھی بنا کہ خلیجی ممالک کی تجارت کا ایک اہم حصہ اور عالمی معیشت کا پہیہ دونوں خطرے میں چلے گئے تھے۔ یہ چیز امریکہ اور اس کے صدر کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی اچھی نہ تھی۔

مگر جولائی کے دوسرے عشرے سے جو جنگی صورتحال پھر سے سامنے آئی ہے وہ آبنائے ہرمز کے ایرانی ہتھیار سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیار سے متعلق ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے علاوہ پورے خلیجی ممالک کے امن کو بھی جنگی نشانے پر لے لیا ہے۔ 40 دنوں کی ابتدائی جنگ کے مقابلے میں ان خلیجی ملکوں پر نہ صرف ایران نے اپنے حملوں کو وسعت دینے کی حکمت عملی اختیار کی ہے بلکہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ ایران نے اپنے حامی حوثیوں کی مدد سے باب المندب کو بھی عملاً آبنائے ہرمز ٹو بنا لینے کی حکمت عملی بنالی ہے۔

ایران کی یہ حکمت عملی واضح طور پر توسیع پاچکی ہے کہ اس کی اپنے خلاف جنگ کو روکنے کی یہی ایک صورت ہے کہ جنگ کو خلیجی ممالک تک پھیلا دیا جائے۔ جنگ کے اس جاری دوسرے مرحلے میں یہ وسعت زیادہ پھیلی ہوئی اور خطرناک ہوتی نظر آرہی ہے۔

یہ خطرناکی اس لیے بھی زیادہ ہوگئی ہے کہ ایران کے علاوہ اسرائیل کی بھی حکمت عملی یہی ہے کہ اس جنگ کا دائرہ مشرق وسطیٰ کے زیادہ سے زیادہ ملکوں میں پھیل جائے مگر وہ خود محفوظ رہے۔ اسرائیل کو یہ حکمت عملی اس لیے بھی عزیز ہے کہ امریکہ نے صرف دو ماہ بعد انتخابات سے گزرنے والے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے انتہا پسند اتحادیوں کو ایک سہولت دی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے وسیع تر میدان میں لڑی جانے والی اس جنگ سے دور رہ کر ایک جانب اندرونی انتخابی معاملے سے بہ احسن گزریں اور دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں ہتھیار چھوڑنے کا اعلان کر چکی حماس کے خلاف اپنے اہداف کو اختتامی شکل دے لیں۔ یقیناً لبنان اور غزہ کے حوالے سے اسرائیلی کامیابی بھی انتخابی کامیابی کے زینے کی صورت کام آئے گی۔
اس دو دھاری حکمت عملی کی تلوار سے خلیجی ممالک بری طرح مجروح ہو رہے ہیں اور عملاً جنگ انہی کے لیے زیادہ خطرناک ہے کہ یہ جنگ کے 'سلیپنگ پارٹنر' بن کر رہ گئے ہیں اور بغیر لڑے ہی جنگی تباہی کا نشانہ ہیں۔ اس جنگ میں ان کا ہر صورت نقصان ہی نقصان ہے۔

خلیجی ممالک میں جنگ کا گھاؤ جس قدر گہرا ہوگا۔ ایران اور اسرائیل دونوں کے لیے اپنے اہداف سے دور کی بات نہیں ہوگی۔ لیکن اس سے اصلاً فائدے میں ایران یا اسرائیل میں سے وہ رہے گا جو حتمی طور پر جنگ میں فاتح قرار پائے گا۔ بظاہر یہ ایران کے لیے مشکل تر لگتا ہے کہ امریکہ نے جس طرح نئے سرے سے تیاری کر کے ایران کے خلاف حملے شروع کر رکھے ہیں۔ یہ ایران کے لیے پہلے سے بھی زیادہ تباہ کن ہوں گے۔ خصوصاً اس صورت میں زیادہ خطرناک ہوں گے کہ 40 روزہ جنگ سے پہلے ایران کے پاس جو عسکری قوت و صلاحیت تھی آج ایران کے پاس عسکری صلاحیت اور قوت اس سے بظاہر کم ہی ہوگی۔ حتیٰ کہ اس کی قیادت بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ منجھی ہوئی اور تجربہ کار نہیں رہی۔

لیکن خلیجی ممالک کویت، بحرین اور اردن کے علاوہ سعودی عرب زیادہ نمایاں انداز میں جنگ زدگی کا نشانہ ہے۔ سعودی عرب کے چاروں طرف کے ممالک میں بھی جنگی صورتحال ہے۔ یمن سے کویت تک اور شام سے عراق اور بحرین اور اردن تک سعودی عرب جنگی شعلوں اور حملوں کے گھیرے میں ہے۔ مزید یہ کہ یمنی حوثیوں نے باب المندب کو بھی بند کرنے کے اشارے کر دیے ہیں۔

ایران کے اس جنگ کو خلیجی ممالک میں پھیلانے کی حکمت عملی میں تھوڑا فرق متحدہ عرب امارات کے حوالے سے نظر آیا ہے۔ کہ دوسرے مرحلے کی اس جنگ کے کم از کم ابتدائی ایام میں امارات ایرانی حملوں کی شدت کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اس کے علاوہ جو ملک مشرق وسطیٰ میں ایرانی حملوں سے اب تک محفوظ ہے وہ اسرائیل ہے۔ یہ حکمت عملی 40 دنوں پر محیط پہلے جنگی مرحلے کے مقابلے میں انوکھی ہے۔ اگرچہ اسرائیل ایران کو دھمکیاں دیتا رہتا ہے مگر ایران نے ابھی تک اسرائیل کو دوسرے مرحلے میں نشانہ نہیں بنایا اور اسرائیل نے بھی جنگ کرنے کے لیے صرف امریکہ کو آگے کر رکھا ہے۔

جنگ کا ایک دوسرا منظر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرانے والے اہم کردار پاکستان سے بھی متعلق ہے۔ پاکستان کشیدگی کی بیرونی و اندرونی لہروں سے بننے والے بھنور میں الجھا ہوا ہے اور دہشت گردی و بدامنی کا خصوصی ہدف بن کے رہ گیا ہے۔ بعض مبصرین اسے اسرائیل اور بھارت کے پاکستان کے بارے میں پچھلے ایک دو برس کے غم و غصے کا فطری نتیجہ بھی سمجھتے ہیں، جس سے اختلاف مشکل ہے۔ صوبہ بلوچستان، صوبہ کے پی کے اور اب آزاد کشمیر میں بھی افراتفری کے لیے متحرک عناصر ۔۔۔ گویا اسرائیل کے پڑوس میں اردن، لبنان، شام سے لے کر پاکستان تک ہر اسلامی ملک جنگ یا کم از کم جنگی کشیدگی جیسی صورتحال کی حدت برداشت کرنے پر مجبور ہے۔

علاوہ ازیں عراق، شام اور ترکیہ بھی غیر معمولی طور پر ایک جانب امریکی صدر کے رابطے میں ہیں تو دوسری جانب اسرئیل کے لیے اہدافی اعتبار سے قطار اندر قطار کھڑے ہیں۔ گویا اکتوبر میں اسرائیل کے انتخابی عمل اور نومبر میں امریکہ کے وسط مدتی انتخابات تک ایران اور اس کے اردگرد کے اسلامی ممالک جنگی ماحول میں سلگتے رہیں گے، اسرائیل و امریکی جنگ کی قیمت ادا کرتے ہوئے ایران سے نقصان اٹھاتے رہیں گے۔ بعدازاں ان کی عسکری و معاشی حالت کتنی مضبوط اور کمزور ہوگی، یہ بھی کوئی مشکل سوال نہیں ہوگا۔ آبنائے ہرمز کے ہتھیار کے بعد باب المندب اور خلیجی ممالک میں جنگی حکمت عملی میں ایران، پاکستان اور سعودی عرب کے قائدین الگ سے سر جوڑ سکتے ہیں۔ خصوصاٍ ایسے حالات میں جب امریکہ اسرائیل کے ساتھ، اسرائیل بھارت کے ساتھ اور بھارت افغانستان کے ساتھ گہرے رابطوں میں ہے۔ جبکہ چین بھی اولاً ایک گہرے معاشی محاصرے میں ہے اور ثانیاً فوجی نرغے میں آنے والا ہو سکتا ہے۔

اکتوبر کے اسرائیلی انتخابات اور امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ہی امریکہ و اسرائیل کے اگلے عزائم اس خطے کے ملکوں کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔ اگر اسرائیل میں نیتن یاہو اور امریکہ میں ٹرمپ کو ایک بار پھر انتخابی کامیابی میسر آگئی تو اس دوہری جنگی حکمت عملی کے ایران کے مقابلے میں دو بڑے 'بینیفشری' امریکہ و اسرائیل ہوں گے۔ جبکہ ایران اور عرب دنیا باہم کسی نئی کشیدگی کے سپرد کیے جا سکتے ہیں اور پاکستان کو بھی حآل ہی میں ملنے والی غیر معمولی کامیابیوں کے تفاخر سے نکال کر نئی صورتحال کی دلدل کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ جس کے اشارے پاکستان کے شمال سے شمال مغرب اور جنوب تک موجود ہیں۔