برطانوی پارلیمان فلسطین کو تسلیم کرے:سعیدہ وارثی
برطانیہ کی سابق وزیر بیرونیس سعیدہ وارثی نے ارکان پارلیمان پر زوردیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیں۔
انھوں نے یہ بات برطانوی اخبار آبزرور کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے تنازعہ فلسطین کے حوالے سے برطانیہ کے مؤقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اس میں سیاسی عزم کی کمی ہے اور ہمارا اخلاقی معیار گُم نظر آتا ہے''۔
ان کا یہ انٹرویو ہفتے کے روز شائع ہوا ہے اور اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہورہے ہیں،شہر میں کوئی شو نہیں ہورہا ،ہمیں ان مذاکرات کو نئی زندگی دینا ہوگی اور اس کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم ریاستِ فلسطین کو تسلیم کر لیں''۔
برطانوی دارالعوام میں سوموار کو فلسطینی ریاست کوتسلیم کرنے سے متعلق تحریک پر بحث ہوگی اور برطانیہ میں یہ کارروائی سویڈن کے نئے وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد ہورہی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کی حکومت فلسطین کو تسلیم کرلے گی۔تاہم برطانوی اخبار گارجین کا کہنا ہے کہ دارالعوام میں تحریک بالکل علامتی ہوگی۔
پاکستانی نژاد سعیدہ وارثی نے انٹرویو میں برطانوی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ وہ امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی ذمے داریوں سے دستبردار ہوچکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ لندن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی چینلز سے کچھ برآمد نہیں ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت کی عشروں پرانے تنازعے سے متعلق حکمت عملی کے بارے میں گہری تشویش پائی جارہی ہے۔اس لیے اس تنازعے کے دوریاستی حل کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔
سعیدہ وارثی اگست میں برطانوی حکومت کی غزہ جنگ کے بارے میں پالیسی پر احتجاجاً مستعفی ہوگئی تھیں اور انھوں نے کہا تھا کہ وہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی اخلاقی طور ناقابل دفاع اسرائیل نواز پالیسی کی مزید حمایت نہیں کرسکتی ہیں۔
انھوں نے آبزرور سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزراء ہی نہیں بلکہ اس وقت کابینہ میں موجود وزراء اور دفتر خارجہ کے اعلیٰ حکام یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری پالیسی غلط ہے۔انھوں نے بتایا کہ ''میرے مستعفی ہونے کے بعد سے دفتر خارجہ کے بہت سے حکام مجھ سے رابطے میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ میرے مؤقف سے کلی طور پر اتفاق کرتے ہیں اور یہ کہ حکومت مکمل طور پر غلط ہے''۔
انھوں نے الزام عاید کیا کہ ''آپ کے ساتھ سیاست دانوں کا ایک چھوٹا گروپ ہے،انھوں نے اپنی ایک مضبوط گرفت قائم کررکھی ہے،وہ رائے عامہ ،وزراء کے خیالات ،پارلیمان کے خیالات اور عوام کے نقطہ نظر کو سامنے نہیں آنے دے رہے ہیں''۔ان کا غالباً اشارہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور ان کے قریبی مصاحبین کی جانب تھا۔